اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

24 دسمبر، 2018

تورکہواورگرم چشمہ کے ہسپتالوں کومحکمہ صحت خیبرپختونخوا واپس لے کراپنی تحویل میں چلائے تاکہ عوام کوسستی صحت کی سہولت میسرآسکے: مولاناعبدل اکبرچترالی

 

تورکہواورگرم چشمہ کے ہسپتالوں کومحکمہ صحت خیبرپختونخوا واپس لے کراپنی تحویل میں چلائے تاکہ عوام کوسستی صحت کی سہولت میسرآسکے: مولاناعبدل اکبرچترالی


پشاور(پریس ریلیز) صوبائی حکومت مزیدکئی بی ایچ یوزکوپرائیویٹائزیاکسی این جی اوکودینے سے پہلے چترال کے منتخب نمائندوں اورعلاقہ کے عوام کی رائے لے۔کسی این جی اوکے ہیلی کاپٹرمیں سیروسیاحت کے عوض عوام کومشکلات سے دوچارنہ کیاجائے۔گرم چشمہ اورلٹکوہ کے ہسپتال کواین جی اوکے حوالہ کرکے وہاں کے مکینوں کوسابقہ حکومت نے اذیت میں مبتلاکیاہے عام ہسپتالوں میں 10روپے فی پرچی فیس لی جاتی تھی اب این جی اوکے حوالہ کیے گئے ہسپتالوں میں 500روپے لی جاتی ہے۔اگربونی ہیڈکوارٹرہسپتال اپرچترال کوکسی کے حوالہ کیاگیاجوکہ سننے میں آرہاہے اورچیف سیکرٹری کادورہ صرف اس لئے کرایاگیاتواس کے خطرناک نتائج برآمدہوں گے۔لہذاصوبائی حکومت حالات کی نزاکت کااحساس کرتے ہوئے گرم چشمہ اورتورکہوکے دونوں ہسپتال کوواپس اپنی تحویل میں لے لے۔ان خیالات کااظہارممبرقومی اسمبلی چترال مولاناعبدالاکبرچترالی نے ایک اخباری بیان میں کیاہے۔انہوں نے کہاکہ تورکہواورگرم چشمہ کے عوام پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کرانے سے قاصرآچکے ہیں اوران لوگوں کامطالبہ ہے کہ ان دونوں ہسپتالوں کومحکمہ صحت خیبرپختونخواواپس لے کراپنی تحویل میں چلائے تاکہ عوام کوسستی صحت کی سہولت میسرآسکے۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں