28 جنوری، 2019

حکومت نے 7ماہ میں 39 کھرب، 80ارب روپے قرضہ لیا:سٹیٹ بینک

 

حکومت نے 7ماہ میں 39 کھرب، 80ارب روپے قرضہ لیا:سٹیٹ بینک


کراچی( آن لائن ) حکومت کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران مرکزی بینک سے لیا جانے والا قرضہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران لئے گئے قرضوں سے4گنا زائد ہوگیا۔اسٹیٹ بینک پاکستان کی جانب سے بتایا گیاکہ حکومت اب تک مرکزی بینک سے 39 کھرب 80 ارب روپے کا قرض لے چکی ہے جبکہ اسی عرصے کے دوران گزشتہ دور حکومت میں لیا گیا قرض 10 کھرب 5 ارب روپے تھا۔حکومت کی جانب سے مرکزی بینک سے لیا جانے ولا قرض ہر سہ ماہی میں کم یا زیادہ ہوسکتا ہے انہیں عام طور پر قابل منتقلی اثاثوں اور ماضی کے قرضوں کی ادائیگی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔تاہم روایت کے برعکس حکومت کی جانب سے اسٹیٹ بینک سے لیا جانے والا قرضہ اپنی اس سابق سطح پر واپس نہیں گیا جب مالی سال کا آغاز ہوا تھا، جس کا حجم 36 کھرب 70 ارب روپے تھا۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے 18 جنوری کو جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق حکومت کی جانب سے مرکزی بینک سے لئے گئے قرضوں کا کل حجم 76 کھرب 50 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔حکومت کی جانب سے لئے جانے والے قرضوں میں بے انتہا اضافہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حال میں ہونے والی نیلامیوں میں سرمایہ کاروں نے حکومتی ضمانت میں دلچسپی نہیں دکھائی اور بینک بھی شرح سود میں اضافے کے امکان کے باعث حکومتی معاملات میں سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں ہیں۔جس کے نتیجے میں 3 ماہ کے عرصے سے ٹی-بل کی نیلامی میں کسی کی عملی طور پر شرکت نہیں دکھائی دی اور رقم کا حجم تجویز کردہ مقررہ ہدف سے کہیں زیادہ کم ہے۔ادھر حکومتی قرضوں اور آمدنی کے مجموعے میں شیڈول بینکوں کی جانب سود کی کم شرح کو دیکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے بظاہر کمی کو پورا کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک سے قرض حاصل کرنے میں اضافہ ہوا۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں