اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

3 جنوری، 2019

چترال: محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (مواصلات) پر عوامی شکایت کے بعد ضلعی انتظامیہ افسر اسسٹنٹ کمشنر کا چھاپہ۔ 98 ملازمین میں س 50 غیر حاضر پائے گئے۔

چترال: محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (مواصلات) پر عوامی شکایت کے بعد ضلعی انتظامیہ افسر اسسٹنٹ کمشنر کا چھاپہ۔ 98 ملازمین میں س 50 غیر حاضر پائے گئے۔



چترال (گل حماد فاروقی) بعض محکموں کا نام سن کر ذہن میں فوری طور پر کرپشن، بد عنوانی کا حیال آجاتا ہے اگرچہ ان محکموں میں اچھے لوگ بھی ہوں گے مگر چند گندے مچھلی پورے تالاب کو پلیت کرتا ہے۔

چترال میں محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (مواصلات ) کے حلاف اکثر عوام شکایت کرتے ہیں کہ ان کے زیادہ تر منصوبے ناکامی سے دوچار ہوتے ہیں اور کام ناقص ہوتا ہے جس کا بڑا مثال دوباش پل کا ہے جو دو مرتبہ تباہ ہوا۔

عوامی شکایت پر چترال کے اسسٹنٹ کمشنر نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے دفتر کا اچانک دورہ کیا جنہوں نے کسی سرکاری کام کیلئے C&W کے دفتر فون کرکے ایگزیکٹیو انجنیر مقبول اعظم سے بات کرنا چاہی مگر پتہ چلا کہ وہ کافی عرصے سے پشاور میں ہے جبکہ ایس ڈی او بھی نہیں تھے۔ اس کے بعد اسسٹنٹ کمشنر نے ان کے دفتر خود جاکر معائنہ کیا جہاں کوئی بھی ذمہ دار بندہ ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے انہوں نے سٹاف کی حاضری کا رجسٹر منگوایا جس میں پتہ چلا کہ 98 ملازمین اس دفتر میں کاغذوں میں کام کرتے ہیں جن میں 50 غیر حاضر ہے۔ 

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر چترال عالمگیر خان نے بتایا کہ جب پچاس سٹاف غیر حاضر ہو تو ملک کیسے ترقی کرے گا انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کرلی کہ سی اینڈ ڈبلیو کے پچاس عملہ کی غیر حاضری کے بارے میں باقاعدہ طور پر ڈپٹی کمشنر چترال کو لٹر نمبر No 985/ACC کے تحت باقاعدہ تحریری حط بھیجا گیا ہے تاکہ اس لٹر کو صوبائی حکومت کو بھیج کر محکمے کی غفلت ان کے نوٹس میں لایا جائے اور ان کام چور اہلکاروں کے حلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ 

واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل چترال کے معزز شہری نے بھی باقاعدہ تحریری طور پر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے XEN کو شکایت لکھ کر بھیجا تھا کہ ان کے محکمے کے بیشتر اہلکار گھر بیٹھے تنخواہیں لے رہے ہیں اور ڈیوٹی نہیں کرتے مگر اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔ 

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ چترال کے اکثر سڑکوں پر پانی بہتا رہتا ہے اور زیادہ تر پانی کی نالے بند ہوتے ہیں مگر مجال ہے کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے یہ بے تاج بادشاہ اپنی تنخواہیں حلال کرکے کروڑوں روپے لاگت سے بنی ہوئی ان سڑکوں کو تباہی سے بچائے اور زیادہ تر عملہ گھر بیٹھے تنخواہیں لے رہے ہیں۔ 

چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر تبدیلی سرکار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک طر ف وزیر اعظم عمران خان صوبائی وزراء پر برس پڑتے ہیں کہ وہ صبح آکر شام تک دفتر میں بیٹھے مگر دوسری طرف محکمہ سی اینڈ ڈبلیو سمیت اکثر سرکاری محکموں کے عملہ جو گھر بیٹھے تنخواہیں لے رہے ہیں ان کو پابند نہیں کرسکتا کہ وہ اپنا ڈیوٹی ایمانداری سے کرے۔ 

۲۔ چترال گول نیشنل پارک میں کروڑوں روپے مالیت کی قومی جانور کشمیر مارخور کا غیر قانونی شکار۔ ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ ڈی ایف ا و وایلڈ لایف ارشاد احمد ۔

چترال(گل حماد فاروقی)بین ا لاقوامی سطح پر تسلیم شدہ چترال گول نیشنل پارک میں نہایت قیمتی کشمیری مارخور کو نا معلوم مجرموں نے غیر قانونی طور پر شکارکرتے ہوئے مارا تاہم مارخور زحمی حالت میں بھاگ کر گاؤں شغور میں آوی کے جھاڑیوں میں چھپ گئی تھی۔ وادی کریم آباد سے تعلق رکھنے والے معروف سماجی کارکن اور تحصیل کونسل کے رکن محمد علی جنہوں نے اپنے موبائل میں اس زحمی مارخور کا تصویر بھی محفوظ کیا ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک ذمہ دار شہری کے طو رپر اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے محکمہ جنگلات چترال گول نیشنل پارک کے افسران کو فون کرکے بتایا کہ ان کا ایک مارخور زحمی حالت میں یہاں پڑا ہے مگر ان کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ 

انہوں نے ہمارے نمائندے کو اطلا ع دی اور ہمارے نمائندے نے چیف کنزرویٹر محکمہ جنگلی حیا ت صفدر علی شاہ کو فون پر بتایا ان کے ہدایت پر چترال گول نیشنل پارک کے ڈویژنل فارسٹ آفسیر ارشاد احمد نے ہمارے نمائندے سے رابطہ کرکے یقین دلایا کہ انہوں نے اپنا عملہ بھیج دیااور وہ جلد ہی اس مارخور کو پکڑ کر شفا حانہ حیوانات میں علاج کے عرض سے داحل کریں گے مگر بعد میں پتہ چلا کہ وہ مارخور مرگیا۔ 

ہمارے نمائندے نے ڈی ایف او ارشاد احمد سے رابطہ کرے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی تو موصوف نے تصدیق کرلی کہ وہ مارخور مر چکا ہے اور اسے پشاور بھیجا جارا ہے تاکہ اس کی ٹرافی بن سکے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ ملزمان کی تلاش کررہے ہیں اور بہت جلد وہ ان کے حلاف FIR چھاک کر ان کو گرفتا ر کروایں گے۔ 

واضح رہے کہ چترال گول نیشنل پارک میں قانونی طور پر ہونے والا ہنٹنگ ٹرافی کے تحت بھی شکار کرنا ممنوع ہے اور یہاں دیگر وی سی سی میں جو مارخور کا شکا ر ہوتا ہے اس میں سے ایک کروڑ روپے کے لگ بھگ موصول ہوتی ہے جن میں اسی فی صد مقامی لوگوں کو جبکہ بیس فی صد سرکاری خزانے میں جمع کیا جاتا ہے اس عرض کیلئے واچرز مقرر کئے جاتے ہیں تاکہ ان مارخورو ں کی حفاظت کرے۔ رواں ہفتے میں ایک اور مارخور بھی چیو پل کے قریب دریا میں چھلانگ لگانے سے مگر گیا تھا جبکہ ایک دوسرا مارخور لوگوں نے بچاکر محکمہ جنگلی حیات کے حوالہ کیا تھا۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں