اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

1 جنوری، 2019

حسرت کی نگاہوں سے کھانے کو تکتےغریب بچوں کو کھانا کھلانے والے شخص کو جب ہوٹل نے بل تھما دیا، تو اس کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسو آگئے: پڑھیں

 

حسرت کی نگاہوں سے کھانے کو تکتےغریب بچوں کو کھانا کھلانے والے شخص کو جب ہوٹل نے بل تھما دیا، تو اس کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسو آگئے: پڑھیں



کرالہ (ٹی او سی ویب ڈیسک) اخیلش کمار ، دبئی میں ایک پاور سلوشن انڈسٹریز میں سینئر ٹیکنیکل سیلز انجینئر  کے طور پر کام کرتے ہیں۔ جب کمار اپنے گھر جاتے ہیں ایک ہوٹل میں کھانا کھانے پہنچا تو یہ واقعہ ان کے ساتھ پیش آیا۔  

وہ ڈنر کے لئے  ہوٹل سبرینا میں  گئے ، جوکہ سی نارایا نان کا ہے اور کیرالہ کے مالاپ پورم میں واقع ہے۔  ہوٹل پہنچ کر اس نے کھان آرڈر کیا جوں ہی کھان اس کے سامنے میز پر رکھا گیا تو اس نے دیکھا کہ شیشے کی کھڑکی کے باہر دو انتہائی غریب بچے حسرت کی نگاہ سے اس کھانے کو تک رہے ہیں کہ گویا ان کا بھی ایسا ہی کھانا کھانے کو دل چاہتا ہو۔  کمار نے جب یہ منظر دیکھا تو اس سے کھانا نہیں کھایا گیا اور اس نے بچوں کو اندر بلایا اور پوچھا کیا کھائیں گے بچوں نے ٹیبل پر رکھے کھانے کی جانب اشارہ کرکے کہا یہی کھائیں گے۔ کما ر نے بچوں کے لئے بھی کھانا آرڈر  کیا اور جب تک کھانا نہیں آیا اس نے بھی اپنا کھانا نہیں کھایا۔ جب بچوں کا کھانا آیا تو بچوں کے ساتھ کھانا کھایا۔

 جب ہوٹل نے کمار کو بل دیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ بل تھاہی ایسا کہ آپ بھی جانیں گے تو جذباتی ہو جائیں گے۔بھارتی ویب سائٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس واقعے میں یہ ہے کہ ایک شخص ملپ پورم کے ایک ریستوران میں کھانا کھانے گیا۔ جب کھانا آ گیا تو اس کی پلیٹ کو باہر سے دو بچے حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ اس نے اشارہ کر کے انہیں اندر

بلا لیا۔بچوں سے اس شخص نے پوچھا کہ کیا کھاو گے تو بچوں نے اس پلیٹ میں لگی چیزوں کو کھانے کی خواہش ظاہر کی۔ وہ بچے بھائی بہن تھے اور پاس ہی کسی جھگی میں رہتے تھے۔اس شخص نے دونوں کے لئے کھانے کا آرڈر دیا اور ان کے کھانے تک اس نے خود کچھ نہیں کھایا۔ دونوں بچے کھا کر اور ہاتھ دھو جب چلے گئے تو اس نے اپنا کھانا کھایا اور جب کھانے کا بل مانگا تو بل دیکھ کر وہ رو پڑاکیونکہ بل پر اماﺅنٹ نہیں لکھا تھا صرف ایک تبصرہ تھا "ہمارے پاس ایسی کوئی مشین نہیں جو انسانیت کا بل بنا سکے "۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں