12 جنوری، 2019

چترال کے سرکاری غلہ گودواموں میں پرانے (زائد المیعاد) گندم کی نیلامی منسوح ہوئی؛ ٹھیکداروں نے اس نرح اور وزن پر یہ گند م لینے سے انکار کیا

چترال کے سرکاری غلہ گودواموں میں پرانے (زائد المیعاد) گندم کی نیلامی منسوح ہوئی؛ ٹھیکداروں نے اس نرح اور وزن پر یہ گند م لینے سے انکار کیا

چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے سرکاری غلہ گوداموں کو محکمہ خوراک Food کی جانب سے گندم فراہم کی جاتی ہے جسے مقامی لوگ خرید کر چکی سے آٹا پھیستے ہیں مگر پانچ گوداموں میں 1590 بوری گندم جو 2013 سے پڑے ہیں ان کو مقامی لوگ نہیں خریدتے اور محکمہ خوراک ان پرانے گندم کو نیلام کرنا چاہتے تھے۔ یہ گندم ریچ، دنین، کھوت ، یارخون اور گولین کے سرکاری گوداموں میں پڑے ہیں۔ محکمہ خوراک کی جانب سے فی بور ی کی قیمت 1500 روپے لگائی گئی اور جو بولی دہندہ زیادہ بولی یعنی نرح دے گا اسے یہ مل جائے گی جس کیلئے 27 بولی دہندگان نے دو، دو لاکھ روپے کال ڈیپازٹ بھی محکمہ فوڈ کے دفتر میں جمع کئے تھے۔ 
ان گندم کی بوریوں کو شفاف طریقے سے نیلام کرنے کیلئے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر فضل باری کے دفتر میں کمیٹی بٹھائی گئی جس کی سربراہی قاضی فدا ء الرحمن اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ فوڈ ملاکنڈ ڈویژن کر رہے تھے جبکہ کمیٹی میں ان کے علاوہ ڈی ایف سی ، فضل باری، محمد یعقوب بجٹ آفیسر فنانس، فلک ناز اکاؤنٹ آفیسر فوڈ ڈیپارٹمنٹ، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر چترال فیاض قریشی، فضل ربی نمائندہ ایم این اے چترال، محمد یعقوب نمائدہ ایم پی اے ہدایت الرحمان، امین الرحمان نمائندہ اقلیتی ایم اپی اے وزیر زادہ، محمد نعیم ڈپٹی ڈائریکٹر ذراعت ، شفیق الرحمان لاء ڈیپارٹمنٹ اور صحافی بھی کمیٹی میں شامل تھے۔ 



تاہم بولی دہندگان نے یہ نکتہ اٹھایا کہ ان بوریوں میں وزن پور ا نہیں ہوتا لہذا ن کو فی بوری کی بجائے فی کلو کے حساب سے یہ گندم فروخت کی جائے ۔ 

چند ٹھیکداروں کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے نمائندہ امین الرحمان نے کہا کہ ماضی میں یہ گندم تلف کئے جاتے تھے مگر اب اس گندم کو نیلام کیا جاتا ہے جس میں اکثر اس گندم کو کسی طریقے سے پھر انسانی خوراک کیلئے استعمال کی جاتی ہے جو صحت کیلئے اچھا نہیں ہے۔ تاہم محکمہ فوڈ کے کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ان گندم کی نیلامی کیلئے دوبارہ ٹنڈر دے گا اور دوسرا تاریح مقرر کیا جائے گا۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں