2 جنوری، 2019

چترال بازار اور بائی پاس روڈ پر نصب ایک کروڑ روپے کی لاگت سے بنی سولر سٹریٹ لائٹ کے بابت تحقیقات کا مطالبہ۔ نائب صدر تاجر یونین۔

 

چترال بازار اور بائی پاس روڈ پر نصب ایک کروڑ روپے کی لاگت سے بنی سولر سٹریٹ لائٹ کے بابت تحقیقات کا مطالبہ۔ نائب صدر تاجر یونین۔ 



چترال (گل حماد فاروقی) چترال کے عبد الولی خان بائی پاس روڈ پر چھاؤنی سے لیکر چیو پل تک سڑک کے کنارے شمسی توانائی سے چلنے والے سٹریٹ لائٹ نصب ہوچکے ہیں مگر عرصہ دو سال گزرنے کے باوجود بھی یہ سٹریٹ لائٹ ایک منٹ کیلئے بھی روشنی نہ دے سکے۔ اس کے علاوہ ایک غیر سرکاری ادارے کی جانب سے چیو پل اور اتالیق پل او ر دیگر پلوں پر بھی سولر سسٹم سٹریٹ لائٹ لگائے گئے تھے جو ا ب ناکارہ ہوچکی ہے۔ 

تاجر یونین چترا ل کے نائب صدر خالد اعظم جو حکومتی پارٹی کے ایک کارکن بھی ہے ان کا کہنا ہے کہ ان سٹریٹ لائٹ پر تقریبا ایک کروڑ روپے سرکاری خزانے سے نکالی گئی مگر ناقص اور غیر معیاری بیٹری اور سامان لگانے کی وجہ سے یہ کام ہی نہیں کرتا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سٹریٹ لائٹ کو TMA تحصیل میونسپل انتظامیہ نے محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس کے گائڈ لائن پر لگائے تھے مگر بد عنوانی کی وجہ سے یہ پچھلے دو سالوں سے حراب پڑے ہیں۔ 

انہوں نے محکمہ مواصلات C & W کے صوبائی وزیر، صوبائی وزیر اعلےٰ محمود خان او ر وزیر اعلےٰ عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں تحقیقات کی جائے اور جس ٹھیکدار یا محکمہ نے بھی غبن کی ہے ان کو سزا دی جائے اور ان سٹریٹ لائن کو دوبارہ بحال کی جائے کیونکہ رات کے وقت اندھیرے کی وجہ سے نہ صرف دکانداروں کو بلکہ گاہک کو بھی نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دوسرا آوارہ کتوں کی کاٹنے کا بھی حطرہ ہوتا ہے۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں