17 جنوری، 2019

آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے

 

آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے


آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے 
صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا 

قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریے 
اس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا 

ضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھا 
اک گھر میں مختصر بیاباں ضرور تھا 

اے وائے غفلت نگۂ شوق ورنہ یاں 
ہر پارہ سنگ لخت دل کوہ طور تھا 

درس تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے 
وہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا 

ہر رنگ میں جلا اسدؔ فتنہ انتظار 
پروانۂ تجلی شمع ظہور تھا 

شاید کہ مر گیا ترے رخسار دیکھ کر 
پیمانہ رات ماہ کا لبریز نور تھا 

جنت ہے تیری تیغ کے کشتوں کی منتظر 
جوہر سواد جلوۂ مژگان حور تھا





کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں