اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

30 جنوری، 2019

صحافی گل حماد فاروقی کے بیٹے کے قتل کیس میں پشاور ہائی کورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

 



صحافی گل حماد فاروقی کے بیٹے کے قتل کیس میں پشاور ہائی کورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

ایس ایس پی آپریشن کو حکم دیا گیا کہ متعلقہ ایس ایچ او کے حلاف سخت کاروائی کرے جس نے بروقت ڈاکٹروں کے حلاف FIR درج نہیں کی۔


دس ڈاکٹروں کے حلاف باقاعدہ قتل کا مقدمہ درج۔ محکمہ صحت کے ارباب احتیار سے ان ڈاکٹروں کی گرفتاری میں مدد طلب کی گئی۔

چترال(نامہ نگار ) سینئر صحافی گل حماد فاروقی کے جواں سال بیٹے محمد فرحان جو ڈاکٹروں کی غفلت کی وجہ سے اپنڈکس پھٹنے کی وجہ سے مر گیا تھا جس پر گل حماد فاروقی نے پولیس کو متعدد درخواستیں دئے مگر کاروائی نہ ہونے پر مایوس ہوئے اور انہوں نے عدالت سے رجوع کیا ۔ محب اللہ تریچوی ایڈوکیٹ نے حیات آباد میڈیکل کمپلکیس کے ڈاکٹروں حلاف سیشن کورٹ پشاور میں 22-A Cr Pcکے تحت مقدمہ درج کیا جس پر عدالت نے حکم دیا کہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے سرجیکل اے وارڈ کے انچار چ پروفیسر ڈاکٹر مظہر خان کے حلاف مقدمہ درج کیا جائے جبکہ دوسرے کیس میں عنایت اللہ خان ایڈوکیٹ نے نصیر اللہ خان بابر میمورییل ہسپتال کوہاٹ روڈ پشاور اور لیڈی ریڈنگ ہسپتا ل پشاور کے نو ڈاکٹروں کے حلاف کیس دائر کیا جس پر فاضل عدالت نے حکم جاری کیا کہ ان ڈاکٹروں کے حلاف مقدمہ درج کیا جائے۔
تاہم ڈاکٹر مظہر خان نے پشاور ہائی کورٹ میں اس FIR کو حتم کرنے کیلئے رٹ پیٹیشن دائر کیا جبکہ صحافی گل حماد فاروقی نے بھی ہائی کورٹ میں ری پیٹیشن دائیر کیا کہ HMC کے ان گیارہ ڈاکٹروں کے حلاف بھی مقدمہ درج کیا جائے۔ 

یہ کیس 2016 سے عدالت میں چلتا تھا جو سماعت کیلئے چیف جسٹس مسٹر جسٹس وقار احمد سیٹھ اور اشتیاق ابراہم پر مشتمل ڈویژن بنچ کے سامنے پیش ہوا۔ عدالت عالیہ نے اس مقدمے میں تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے ایس ایس پی آپریشن کو حکم دیا کہ جب یہ مقدمہ سیشن کورٹ میں سنایا گیا تو ایس ایچ او نے کیوں مقدمہ درج نہیں کیا۔ SSP آپریشن کو حکم دیا گیا کہ وہ متعلقہ ایس ایچ او کے حلاف محکمانہ کاروائی کرے۔ جس پر ایس ایس پی آپریشن نے ایس ایچ او تھانہ خان رازق شہید (کابلی) انسپکٹر محمد نور کو شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے اس سے سات د ن کے اندر جواب طلبی کی ہے۔
پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈنٹل کونسل اسلام آباد کو بھی حکم جاری کیا کہ وہ متعلقہ ڈاکٹروں کے حلاف محکمانہ کاروائی کی۔ 

عدالت عالیہ کے حکم کے بعد ایس ایچ او تھانہ کابلی نے نصیر اللہ خان بابر میمویل ہسپتال کے ڈاکٹر ارشاد افریدی، ڈاکٹر سپین گل چلڈرن او پی ڈی، ڈاکٹر اعجاز چترالی، ڈاکٹر محمد ذہین میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جبکہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر کفایت خان انچارج چلڈرن سرجیکل یونٹ، ڈاکٹر محمد فیاض جونیر رجسٹرار، ڈاکٹر جہانگیر TMO پیڈیاٹرک سرجری یونٹ، ڈاکٹر اصغر نواز ہاؤس افیسر پیڈیاٹرک سرجری یونٹ، ڈاکٹر محتیار زمان میڈیکل ڈایریکٹر اور حیات آباد میڈیکل کمپلکس کے سرجیکل اے یونٹ کے ہیڈ پروفیسر ڈاکٹر مظہر خان کے حلاف زیر دفعہ 322/PPC مقدمہ درج کے محکمہ صحت کے سیکرٹری کو ہدایت کی کہ ان ڈاکٹروں کے گرفتاری میں وہ کردار ادا کرے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں