15 جنوری، 2019

چترال بائی پاس روڈ پر تین دکانیں جل کر خاکستر۔ دکانوں میں لاکھوں روپے کا سامان بھی جل گیا۔ متاثرین کا حکومت سے امداد کی اپیل

چترال بائی پاس روڈ پر تین دکانیں جل کر خاکستر۔ دکانوں میں لاکھوں روپے کا سامان بھی جل گیا۔ متاثرین کا حکومت سے امداد کی اپیل



چترال(گل حماد فاروقی) چترال پرانی سبزی منڈی کے قریب بائی پاس روڈ پر گزشتہ رات دکان میں اچانک آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں تین دکانیں مکمل طور پر جل کر منہد م ہوگئے اور ان دکانوں میں پڑی ہوئی لاکھوں روپے کا سامان بھی جل کر خاکستر ہوگیا۔ ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے ایک متاثرہ دکاندار شکیل نے بتایا کہ رات تقریباً دس بجے آگ لگ گئی جس کا بظاہر وجہ بجلی کی شارٹ سرکٹ لگتا ہے مگر ہم نے فائر بریگیڈ والوں کو اسی وقت فون کیا جو یہاں سے صرف ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع ہے اور یہاں پہنچنے میں زیادہ سے زیادہ تین منٹ لگتے ہیں مگر فائر بریگیڈ والا نہیں آیا ۔ اس کے بعد ہم تھانہ چترال گئے اور پولیس کو بتایا کہ دکانوں میں آگ لگی ہوئی ہے مگر فائر بریگیڈ والا نہیں آگا جنہوں نے ایک بار پھر ان کو اطلاع دی اور فائر بریگیڈ یہاں آگ لگنے کے 55 منٹ بعد پہنچا مگر اس وقت ان کی آنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ فائر بریگیڈ کے پہنچنے تک آگ نے باقی تین دکانوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا اور اس کے اندر پڑی ہوئی لاکھوں روپے کا سامان مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگیا۔

اس سلسلے میں جب تحصیل میونسپل آفیسر نصیر قادر سے فائر بریگیڈ کی دیر سے آنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ فائر بریگیڈ کی ذمہ داری ریسکیو 1122 کی ہے یہ میری ذمہ داری نہیں ہے کہ ان کو میں فایر بریگیڈ بھجواتا تاہم یہ ریسکیو 1122 کا دفتر بھی TMA کے اندر ہے۔ 

عوام اکثر یہ شکایت کرتے رہتے ہیں کہ تحصیل میونسپل انتظامیہ میں صرف ڈرائیوروں کا ایک فوج جم غفیر بھرتی ہوا ہے مگر ضرورت کے وقت یہ لوگ موجود نہیں ہوتے تو پھر اتنے بہت سارے ملازمین کس مرض کی دواء ہے ۔ 

متاثرین کا کہنا ہے کہ ان دکانوں میں ایک میڈیکل سٹور، ایک موبائل فون اور دو دکانوں میں جنر ل سٹو ر کا سامان تھا جن کی قیمیت ستر لاکھ بتائی جاتی ہے۔ متاثرین میں شرف الدین، رحمت الہی اور رحمت جان شامل ہیں۔ ان متاثرین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان کے ساتھ مالی مدد کی جائے تاکہ یہ لوگ اپنا کاروبار دوبارہ شروع کرواسکے اور اپنے اہل حانہ کیلئے رزق حلال کما سکے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں