اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

23 فروری، 2019

کراچی میں زیریلا کھانا کھانے سے 5 معصوم بچے جان بحق ہوئے، تاہم ابھی تک واقعے کے ذمہ داروں کا تعین نہ ہوسکا؛ تفتیش جاری

 

کراچی میں زیریلا کھانا کھانے سے 5 معصوم بچے جان بحق ہوئے، تاہم ابھی تک واقعے کے ذمہ داروں کا تعین نہ ہوسکا؛ تفتیش جاری



کراچی (ٹائمزآف چترال مانیٹرنگ ڈیسک) کوئٹہ سے کراچی آنے والی بد قسمت فیملی کو کراچی راس نہ آئی۔ کراچی صدر کے علاقے میں ایک ریسٹ ہاؤس میں قیام کیا اور قریبی ہوٹل جاکر کھانا لے آئے اور آتے ہوئے بچوں کو کچھ چپس وغیرہ بھی لیکر دیئے۔ ہوٹل آئے کھانا کھاکر بچوں کا باپ اور والدہ کہیں چلے گئے۔ واپس آئے توبچوں کی حالت غیر تھی۔ جس کے بعد انہیں کراچی کے نجی  ہسپتا ل منتقل کیا گیا۔ 

نجی اسپتال میں 5 بچےجانبر نہ ہو سکے تاہم ان کی والدہ 28 سالہ بینا اور پھوپھو زیر علاج ہیں، بچوں کی والدہ  کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں ڈیڑھ سال سے 9 سال تک ہیں جن میں ڈیڑھ سالہ عبد العلی، 4 سالہ عزیز فیصل، 6 سالہ عالیہ، 7 سالہ توحید اور 9 سالہ سلویٰ شامل ہیں۔

کراچی کے ایک ہوٹل سے مضر صحت کھانا کھانے  کے نتیجے میں پانچ بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ سے آنے والی اس فیملی نے صدر کراچی میں واقع ایک نجی ہوٹل سے کھانا کھایا تھا جس کے بعد طبیعت خراب ہونے پر انہیں کراچی کے نجی  ہسپتا ل منتقل کیا گیا۔

نجی اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق پانچ بچے جب اسپتال لائے گئے تو ان کا انتقال ہو چکا تھا۔جبکہ ان کی والدہ تاحال زیرِعلاجہیں جن کی حالت تشویشناک ہے۔انتظامیہ کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں ڈیڑھ سال سے 9 سال تک ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق متاثرہ فیملی گزشتہ رات ساڑھے 11 بجے کوئٹہ سے کراچی پہنچی اور ایک گیسٹ ہاؤس میں قیام کیا جہاں انہوں نے ہوٹل کے باہر سے کھانا منگوایا۔ پولیس حکام کا مزید کہنا ہے کہ متاثرہ فیملی نے کراچی آنے سے قبل خضدار میں بھی کھانا کھایا تھا تاہم رات گئے 5 بچوں، والدہ اور پھوپھو کی طبیعت خراب ہوئی جس کے بعد 7 افراد کو اسٹیڈیم روڈ پر واقع آغا خان اسپتال منتقل کیا گیا۔ ایس پی گلشن طاہر نورانی کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں واقعہ مضر صحت کھانا کھانے کا لگتا ہے تاہم واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جارہی ہے۔

دوسری جانب کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر احمد شیخ نے صدر میں واقع نوبہار ریسٹورنٹ سے کھانا کھانے کے باعث پانچ بچوں کی ہلاکت کے حوالےسے ایسے تمام شہریوں سے گزارش کی ہے کہ جنھوں نے مورخہ 21 فروری 2019 کو نوبہار ریسٹورنٹ نزد پاسپورٹ آفس صدر سے رات کو کھانا کھایا ہو بالخصوص بریانی اور اس بابت کسی تکلیف یا شکایت کی صورت میں کراچی پولیس کے واٹس ایپ نمبر 03435142770 یا فون نمبر 02199225500 پر بحیثیت ایک ذمےدار شہری کے اطلاع فراہم کریں۔ تاہم ابھی تک کی معلومات کے مطابق کوئی اور متاثرہ شخص سامنے نہیں آیا ہے۔

پولیس حکام نے یہ بھی بتایا کہ رات میں 5 بچوں، ان کی والدہ اور پھوپھو کی طبیعت خراب ہو گئی، جس پر ان 7 افراد کو اسٹیڈیم روڈ پر واقع نجی اسپتال منتقل کیا گیا۔ دوسری جانب ڈی آئی جی ساؤتھ کراچی، ایس پی انویسٹی گیشن، پولیس کا فرانزک اور تفتیشی یونٹ قصر ناز گیسٹ ہاؤس پہنچے جہاں یہ متاثرہ فیملی ٹھہری ہوئی تھی۔

قصر ناز میں فرانزک یونٹ اور تفتیشی حکام نے متاثرہ فیملی کے زیر استعمال کمرے کا جائزہ لیا اور شواہد جمع کیے۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ کمرے سے کٹھمل مار دوائیں اور دیگر زہریلے مواد برآمد ہوئے ہیں۔ واقعے کی تفتیش جاری ہے۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں