اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

21 فروری، 2019

چترال؛ پولوگراؤنڈ کے قریب مکان میں آگ لگنے سے کروڑوں روپے کا نقصان، کمپیوٹر سنٹر، دستکاری مرکز برائے خواتین، صحت کارڈ دفتر، ہاسٹل ، نجی سکول

 

چترال؛ پولوگراؤنڈ کے قریب مکان میں آگ لگنے سے کروڑوں روپے کا نقصان، کمپیوٹر سنٹر، دستکاری مرکز برائے خواتین، صحت کارڈ دفتر، ہاسٹل ، نجی سکول

چترال: آگ صرف ا یک کمرے میں لگا تھا مگرریسکیو1122 آگ پر قابو نہ پا سکے آ گ نے پورے مکان کولپیٹ میں لے لیا۔

آگ کی وجہ سے کمپیوٹر سنٹر، دستکاری مرکز برائے خواتین، صحت کارڈ دفتر، ہاسٹل ، نجی سکول بھی جل گئے۔

چترال(گل حماد فاروقی)پولوگراؤنڈ کے قریب موسیٰ محمد علی شاہ کے گھر میں رات کو اچانک آگ لگ گیا۔ ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے مظہر علی شاہ نے بتایا کہ آگ صرف ایک کمرے میں لگا تھا اور ہم نے ریسکو ون ون ٹو ٹو والوں کو بلایا مگر ان کے پاس لمبا پائپ نہیں تھا۔ جب دوسرا فائر بریگیڈ آیا تو اس میں پانی نہیں تھا ا س کے بعد ایک اور فائر بریگیڈ کو بلایا گیا تو ان کے پاس نیوزل نہیں تھا اور وہ صرف مکان کے چھت پر پانی پھینکتا تھا جبکہ یہ ٹین والا مکان ہے اور آگ دیار کی لکڑی سے بنے ہوئے عمارت میں ٹین کے نیچے لگا تھا۔

مظہر علی نے بتایا کہ اگرفائر بریگیڈ بروقت کام کرتا تو آگ پورے مکان میں نہیں پھیلتا اور اسے جلدی بجایا جاسکتا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریسکیو1122 میں سفارشی بنیادوں پر غیر مقامی لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے اور وہ باقاعدہ تربیت یافتہ بھی نہیں لگتے کیونکہ تربیت یافتہ عملہ آگ کو چاروں طرف سے قابو کرکے اسے آگے پھیلنے سے روکتے ہیں۔ مگر انہوں نے آگ کو قابو نہیں کرسکا۔

انہوں نے وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ سے مطالبہ کیا کہ اس عملہ کے حلاف قانونی کاروائی کرے تاکہ آئندہ یہ بروقت آگ پر قابو رکھ کر لوگوں کو کروڑں روپے نقصان سے بچایا جاسکے۔

آگ لگنے سے ایک ہاسٹل، زنانہ دستکاری سنٹر، کمپیوٹر لیب اور کمپیوٹر سنٹر، انصاف کارڈ کا دفتر اور دیگر کئی دفاتر بھی جل گئے۔ مظہر علی شاہ کے مطابق آگ صرف ایک کمرے میں لگا تھا اور اگر ریسکیو 1122 بروقت کاروائی کرتے تو یہ بیس کمروں پر مشتمل مکان جلنے سے بچ جاتا۔ ان کے مطابق آگ لگنے سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ انہوں نے صوبائی اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے ساتھ مالی مدد کرے تاکہ اس مکان کو دوبارہ تعمیر کرسکے نیز جن اداروں کے سلائی مشین، کمپیوٹر وغیرہ جل چکے ہیں ان کے ساتھ بھی حکومت مالی مدد کرے۔ 

اس سلسلے میں جب ریسکیو 1122 کے ذمہ دار افسر محمد کاشف سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا آگ کسی ہیٹر وغیرہ کی وجہ سے لگاتھا اور مقامی لوگ ہمیں کام نہیں کرنے دیتے انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارے عملہ نے نہایت مشکل سے کام کیا اور آگ بجھایا ۔جب ان سے پوچھا گیا کہ ریسکیو 1122 کے آنے کا کیا فائدہ جب بیس کمروں پر مشتمل پورا مکان جل گیا اور اس کے اندر پورا سامان بھی خاکستر ہوگیا تو ان کو کیوں جلنے سے بچایا گیا کیونکہ ریسکیو 1122 کا مقصد یہ ہے کہ آگ پر بروقت قابو پایا جاسکے اور مکان کے ساتھ ساتھ مکین اور اس کے اندر سامان بھی جلانے سے بچایا جائے مگر اس مکان میں نہ تو مکان بچا اور نہ اس کے اندر کروڑوں رروپے کا سامان بچ سکا۔ تو وہ کوئی تسلی بحش جواب نہ دے سکے۔ 

مظہر علی شاہ نے اپنے موقف کے تائید میں کہا کہ ہمارے پاس ویڈیو اور گواہان بھی موجود ہیں جس سے ریسکیو والوں کی غفلت اور نااہلی صاف ظاہر ہوتا ہے۔ ان کا مقصد تھا کہ ریسکیو والوں کی آنے کا کوئی فائیدہ نہیں ہوا وہ یہاں سے صرف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہیں مگربیس کمروں پر مشتمل یہ پورا عمارت مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگیا اور اس کے اندر سارا سامان بھی جل گیا تو ریسکیو والوں کا کوی فایدہ نہیں ہوا ان کے بغیر بھی یہ سب کچھ ہونا تھا


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں