اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

6 فروری، 2019

کراچی سی ویو دو دریا کے قریب سنگدل خاتون نے اپنی ڈھائی سالہ بچی کو سمندر میں ڈبوکر قتل کردیا، خاتون کا تعلق گلگت غذر سے ہے: دل دہلادینے والا واقعہ پڑھیں

 

کراچی سی ویو دو دریا کے قریب سنگدل خاتون نے اپنی ڈھائی سالہ بچی کو سمندر میں ڈبوکر قتل کردیا، خاتون کا تعلق گلگت غذر سے ہے: دل دہلادینے والا واقعہ پڑھیں 

کراچی (ٹائمز آف چترال نیوز)  کبھی سوچا نہ تھا کہ ماں بھی ایسی روپ دھار سکتی ہے۔ کراچی کے ساحل سمندر ، سی ویو دو دریا کے قریب پیر  5فروری 2019کے روز   ایک ایسا  دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، کہ یقین نہ آئے۔  گلگت بلستان کے ضلع غذر سے تعلق رکھنے والی  ایک خاتون نے اپنی 2 سالہ بچی کو سمندر میں ڈبوکر قتل کردیا۔ 

سندھ پولیس کے مطابق واقعہ ڈیفنس فیز 8 میں فرحان شہید پارک کے قریب گزشتہ شام پیش آیا تھا۔ایس ایس پی ساؤتھ پیرمحمدشاہ کے مطابق پولیس موبائل پیر کے روز معمول کے گشت پر تھی کہ انہیں دریا کے کنارے لوگوں کا مختصر ہجوم اور ایک خاتون پانی میں کھڑی دکھائی دی۔قریب جانے پر ہجوم سے پتا چلا کہ خاتون نے اپنی بچی کو مار کر پانی میں ڈبو دیا ہے۔ 

لوگوں کی نشاندہی پر 28 خاتون کو حراست میں لیا گیا اور بچی کی تلاش شروع ہوئی۔ پیر محمد شاہ کے مطابق ملزمہ کی ڈھائی سالہ بچی انعم کی لاش منگل کی صبح عمار اپارٹمنٹ کے قریب 2 دریا کے سمندر سے مل گئی ، قتل کا مقدمہ درج کرکے ملزمہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن طارق دھاریجو کے مطابق خاتون نے بیان دیا ہے کہ اس کے شوہر نے ایک ماہ قبل اسے بلاوجہ گھر سے نکال دیا تھا اور باپ نے بھی گھر  کا دروازنہ اس کے لئے بند کردیا تھا اس لئے  وہ دربدر ہوگئی تھی۔ جس کی وجہ سے اس نے بچی سے چھٹکارا پا یا اور اس کے بعد خود بھی خود کشی کی ایکٹنگ کرتی رہی ۔پولیس کے مطابق ملزمہ شکیلہ راشد گولیمار کی سلطان آباد کالونی کی رہائشی ہے، ساحل پولیس کے مطابق ملزمہ کا شوہر راشد شاہ کراچی کے نجی اسپتال میں ملازم ہے۔

پولیس کے مطابق ملزمہ شکیلہ کے شوہر راشد شاہ سے اس امر کی تفتیش ہوگی کہ شادی کے بعد اس نے اپنی بیوی اور بچی کو ایسا گھریلو ماحول کیوں فراہم نہیں کیا کہ وہ پرسکون زندگی گزارتے؟ پولیس ذرائع کے مطابق اس امر کی بھی تفتیش کی جائے گی کہ وہ کون سے حالات تھے جن  کے تحت ایک پڑھی لکھی خاتون اپنی ہی پھول جیسی بچی کو ظالمانہ طریقے سے قتل کرنے پر مجبور ہوئی۔

 سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) انویسٹی گیشن ساؤتھ طارق دھاریجو کے مطابق اس الزام کو 'قتل بالسبب' کہا جاتا ہے جس پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 322 عائد ہوتی ہے۔ ایس ایس پی طارق دھاریجو کے مطابق ملزمہ اگر اپنے شوہر کے ہاتھوں تنگ تھی تو اس کے باپ نے اسے تحفظ فراہم کیوں نہیں کیا اور یہ کہ والدین ہونے کے ناطے انہوں نے اپنی بیٹی کی شکایات کے ازالے کے لیے کوئی کوشش کیوں نہیں کی؟ 

 ایس ایچ او ساحل پولیس اسٹیشن سیدہ غزالہ کے مطابق خاتون کا شوہر راشد شاہ کراچی کے ایک بڑے نجی اسپتال میں ملازم ہے، اگرچہ وہ اپنے ذاتی گھر میں رہائش پذیر ہے، تاہم مہنگائی کے اس دور میں وہ بیوی اور بچی کو ان کے ذاتی اخراجات کے لیے محض 100 روپے ہفتہ دیتا تھا جو کبھی بچی کی فرمائش پر ساڑھے چار سو روپے ماہانہ تک چلے جاتے تھے۔

پولیس کے مطابق ملزمہ نے بیان دیا ہے کہ وہ کراچی کے چکا چوند ماحول میں ایک بچی کی خواہشات کو اس طرح کی تنگدستی میں دبا دبا کر انتہائی پریشان تھی۔ پولیس اس امر کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ ملزمہ شکیلہ بی بی اے پاس ہے۔ وہ اپنی گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے مبینہ طور پر ملازمت کرنا چاہتی تھی مگر اس کا شوہر اسے ملازمت بھی نہیں کرنے دیتا تھا۔ پولیس کے مطابق عام حالات میں اس کا اپنی بیوی کے ساتھ رویہ کیا ہوگا، اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ بچی کی موت کی اطلاع ملنے کے بعد تھانے پہنچ کر راشد شاہ نے زیر حراست بیوی پر تشدد کرنا شروع کردیا اور وہ اسے بار بار کوس رہا تھا کہ 'بچی کو مار دیا یہ منحوس خود کیوں نہیں مری؟'، تاہم پولیس اہلکاروں نے اسے اس امر سے روکا۔ پولیس کے مطابق ملزمہ کے شوہر کے رویے کی بنا پر بچی کی لاش باپ کی بجائے بچی کے تایا کے حوالے کی گئی۔ واضح رہے کہ بچی کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ملزمہ شکیلہ پولیس ریمانڈ پر ہے، جس سے تفتیش جاری ہے۔

قاتل ماں کا وہڈیو بیان اس کی اپنی زبابی ملاحظہ کریں؛



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں