13 مارچ، 2019

سٹی۔ پی پی اے ایف ایوارڈز کی تقریب ؛ غربت سے خوشحالی کی جانب گامزن سفر میں غیرمعمولی کارکردگی پیش کرنے والے 450افراد ایوارڈز دے دیئے گئے

 

سٹی۔ پی پی اے ایف ایوارڈز کی تقریب ؛ غربت سے خوشحالی کی جانب گامزن سفر میں غیرمعمولی کارکردگی پیش کرنے والے 450افراد کو ایوارڈز دے دیئے گئے



اسلام آباد: پاکستان میں چھوٹے پیمانے لیکن غیرمعمولی انداز سے اپنا کاروبار قائم کرنے والے افراد کے اعزاز میں اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں سٹی۔ پی پی اے ایف مائیکروانٹریپرینیورشپ ایوارڈز کی تقریب منعقد ہوئی جس میں انہیں اپنے علاقوں میں اپنا کاروبار بڑھانے اور چھوٹے کاروبار کی اہمیت پر آگہی بڑھانے کا بھی موقع ملا۔ 

چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے افراد نے مختلف شعبوں میں ایوارڈز حاصل کئے۔ ندیم اختر نے بیسٹ مائیکروانٹریپرینیور میل ایوارڈ جبکہ سکینہ بی بی نے فی میل کٹیگری میں ایوارڈ اپنے نام کیا۔ ندیم اختر نے قرضہ لیکر بہترین انداز سے سرمایہ کاری کرکے دیہی علاقے میں ٹرانسپورٹ کے اپنے کاروبار میں نمایاں ترقی لائے اور بمشکل گزارہ کرنے والے ندیم مالی طور پر مستحکم ہوگئے۔ انہوں نے اپنے علاقے میں دیگر افراد کے لئے بھی روزگار کے مواقع پیدا کئے۔ اسی طرح سکینہ بی بی نے اپنی بچت کے پیسے اور قرضے لیکر واشنگ مشین کا پلانٹ حاصل کیا اور اسے اپنے بیٹے کی لانڈری کی دکان پر لگا دیا۔ انہوں نے ارد گرد کے گھرانوں کے کپڑوں کی دھلائی شروع کی اب وہ چار دیگر افراد کو بھی روزگار فراہم کرتی ہیں۔ 

بشیر احمد اور انیلہ عباس نیشنل ونرز نوائس کٹیگری میں ایوارڈ حاصل کرکے سامنے آئے۔ بشیر سات افراد کے خاندان کی آمدن میں نمایاں حصہ ڈالتے ہیں۔ وہ مسواکیں فروخت کرنے کا کام کرتے ہیں اور دیگر 9 افراد کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کررہے ہیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ اپنے کاروبار کو مقامی سطح سے پھیلا کر بین الاقوامی سطح پر لایا جائے۔ فی الوقت وہ اپنا کاروبار متحدہ عرب امارات اور دبئی میں پھیلانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ انیلہ عباس ضلع لیہ میں اپنا بیوٹی سیلون چلاتی ہیں۔ جب وہ اپنا کام شروع کر رہی تھیں تو ابتداء4 میں مقامی افراد نے ان کی حوصلہ شکنی کی، تاہم اب وہ روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ مقامی خواتین کو تربیت بھی فراہم کرتی ہیں تاکہ وہ بھی اپنا کاروبار شروع کریں اور آمدن کے ذرائع پیدا کرکے اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجائیں۔ 

پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) اور سٹی فاؤنڈیشن پاکستان میں گزشتہ کئی سالوں سے چھوٹے کاروبار کی ترقی کو فروغ دینے کے لئے فعال انداز سے کام کررہے ہیں۔ پی پی اے ایف کے سی ای او قاضی عظمت عیسیٰ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، "اب تک چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے 450 سے زائد غیرمعمولی افراد کو سٹی۔ پی پی اے ایف مائیکرو انٹریپرینیورشپ ایوارڈز مل چکا ہے۔ انہوں نے سخت محنت اور قائدانہ صلاحیتوں کا اظہار کیا، اپنی زندگیوں میں تبدیلی لائے اور مقامی لوگوں کی ترقی کے لئے قابل ذکر انداز سے کام کیا۔ سٹی۔ مائیکروانٹریپرینیورشپ ایوارڈز کا پروگرام چھوٹے کاروبار سے متعلق آگہی بڑھانے اور اس شعبے میں بہترین طریقے سامنے لانے کا شاندار پلیٹ فارم ہے۔" 

سٹی مائیکرو انٹریپرینیورشپ ایوارڈز کا پروگرام چھوٹے کاروباری طبقوں اور مائیکروفنانس کے اداروں (ایم ایف ایز) کو سرمایہ فراہم کرکے دنیا بھر میں 6 ہزار سے کاروبار کرنے والے افراد کی رہنمائی اور مالی وسائل کی فراہمی کے لئے مستعد ہے۔ سٹی پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سٹی کنٹری آفیسر نعیم لودھی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، "سٹی۔ پی پی اے ایف مائیکروانٹریپرینیورشپ ایوارڈز پاکستان میں بھرپور کامیابی سے چل رہا ہے جس سے پاکستان کے مالیاتی شعبے میں مسلسل ترقی کی نشاندہی ہوتی ہے اور جب چھوٹے کاروباری افراد سے تعاون کیا جاتا ہے تو پسماندہ علاقے مستفید ہوتے ہیں، چاہے وہ کشمیر کے دور دیہی علاقے میں ہوں یا پھر وہ مصروف ترین شہر کراچی میں ہوں۔" 

وزارت منصوبہ بندی کے ایڈیشنل سیکریٹری حمیر کاری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا،" 1970 کی دہائی سے ترقی کی شرح غیرمستقل رہی ہے لیکن اب صورتحال میں بہتری آگئی ہے، اسی وجہ سے گزشتہ چند سالوں سے معیار زندگی بھی بہتر ہوگیا ہے۔ حکومت چھوٹے و درمیانی کاروباری شعبے میں ترقی کے لئے پرعزم ہے اور اسکی ترقی میں سہولت اور مینوفیکچرنگ کی بحالی کے لئے کوشاں ہے۔" 
تقریب میں وزیر اعظم کے خصوصی مشیر برائے سیاسی امور نعیم الحق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، "میں 30سال قبل سیاسی طور پر فعال ہوا، اس وقت حکومت پاکستانی معاشرے سے غربت میں کمی لاکر اسکے مکمل خاتمے کے لئے کام کررہی تھی۔ حکمراں طبقے نے اپنے لئے ایسا معاشرہ تخلیق کیا ہے جس میں اسکے اپنے سماجی و معاشی مفادات وابستہ ہیں اور اسکے نتیجے میں عام غریب آدمی نظرانداز ہوتا ہے۔ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ پاکستان میں موجودہ معاشی، سیاسی اور سماجی نظام ان پیدا ہونے والے مسائل کا حل پیش نہیں کرتا۔ ہم اپنے معاشرے کا چہرہ مکمل طور پر تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ غریب کو اسکے وسائل سے محروم کیا گیا ہے۔ ہم غریب افراد کے فائدے کے لئے وزارت تخفیف غربت قائم کرکے ایک پروگرام بعنوان احساس کی شروعات کررہے ہیں۔ " 
ایف پی سی سی آئی کے پریذیڈنٹ انجینئر دارو خان اچکزئی اور اگنائٹ کے سی ای او یوسف حسین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نجی شعبہ اکیلا کام نہیں کرسکتا۔ دارو خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان کو صنعتوں کی بحالی کی اشد ضرورت ہے اور ہم ابھی اس سطح تک نہیں پہنچ پائے ہیں جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ پالیسی سازی اب سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یوسف حسین نے اشتراک کی اہمیت پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا، "تخفیف غربت کے لئے معاشی ترقی انتہائی اہم ہے۔ معاشی ترقی جدت سے آتی ہے۔ ہم نئے کاروبار قائم کرنا چاہتے ہیں جن سے لاکھوں افراد پر مثبت اثرات مرتب ہوں۔" 
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر جمیل احمد نے چھوٹے کاروباری افراد کو مالی سہولیات کی فراہمی کے لئے اسٹیٹ بینک کی جانب سے کئے جانے والے متعدد اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ایوارڈ پانے والے کاروباری افراد کو مبارک باد پیش کی اور پاکستان بھر میں مالیاتی سہولیات کی فراہمی کے لئے اسٹیٹ بینک کی جانب سے لئے جانے والے مختلف اقدامات پر حاضرین کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔ 

اس پروگرام میں چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے ایسے افراد کو بھی ایوارڈز دیئے گئے ہیں جو اپنے علاقے میں مقامی افراد کے لئے متاثرکن انداز سے سامنے آئے ۔ اس پروگرام میں ایسے لون آفیسرز کو بھی اعترافی ایوارڈز دیئے گئے ہیں جنہوں نے قرضہ دہندگان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں مدد کی۔ 

اس ایوارڈ کے سلسلے منتخب ہونے والے افراد کے لئے مارکیٹنگ اور مالیاتی انتظام پر دو روز تربیت منعقد ہوئی جس میں انہیں اپنے کاروبار میں مزید وسعت لانے میں مدد ملے گی۔ کاروباری اور سماجی شعبے میں ترقیاتی کام کرنے والے اداروں بشمول انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن ورلڈ بینک گروپ، ایف اے او اور پاکستان مائیکروفنانس سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی جیوری نے منتخب افراد سے تفصیلی انٹرویو کے بعد ایوارڈ جیتنے والے افراد کا انتخاب کیا۔

سٹی مائیکروانٹریپرینیورشپ ایوارڈز پروگرام سال 2005 میں شروع ہوا اور جلد ہی سٹی فاؤنڈیشن اس کا بنیادی حصہ بن گئی۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کم آمدن والے طبقوں کو مالیاتی اور معاشی اعتبار سے بااختیاربنا کر چھوٹے کاروبار کے ذریعے انہیں اپنا پاؤں پر کھڑا کیا جائے اور اس شعبے میں کام کرنے کی اہمیت کو اجاگر کی جائے ۔ گزشتہ سال یہ پروگرام تقریبا 30 ممالک میں منعقد ہوا اور اب یہ بے مثالی کامیابی کے طور پر ابھر کر سامنے آرہا ہے۔ یہ پروگرام اس پہلو پر بھی آگہی پھیلاتا ہے کہ کس طرح سے سٹی فاؤنڈیشن دنیا بھر میں چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے افراد سے تعاون کرکے انہیں معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے قابل بناتا ہے اور ان کامیابیوں کو اجاگر کرتا ہے کہ کس طرح سے چھوٹے کاروباری افراد عالمی سطح پر معیشت اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ 

سٹی فاؤنڈیشن کا تعارف: سٹی فاؤنڈیشن دنیا بھر میں کم آمدن والے طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی معاشی ترقی اور ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کو فروغ دینے کے لئے کام کرتی ہے۔ ہم مالیاتی سہولیات میں اضافہ لانے کے لئے سرمایہ کاری کرتے ہیں، نوجوانوں کے لئے روزگار کے فعال مواقع نکالتے ہیں اور معاشی طور پر متحرک شہروں کے طریقوں کو سامنے رکھتے ہوئے نئے سرے سے طریقے تشکیل دیتے ہیں ۔ سٹی فاؤنڈیشن کا انداز 'سخاوت سے آگے' کے ذریعے سٹی کی بھرپور مہارت سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اسکے لوگ رہنمائی اور جدت کے ذریعے اپنے مشن کی تکمیل کا خواہاں ہے۔ مزید معلومات کے لئے اسکی ویب سائٹ (www.citifoundation.com) وزٹ کریں۔

پی پی اے ایف کا تعارف : اکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف )ملک کا سب سے بڑا نیم سرکاری ادارہے ہے جو کمیونٹی کی جانب سے چلائی جانیوالی مائیکرو کریڈٹ میں ترقی، گزر اوقات، دوبارہ قابل استعمال توانائی، پانی اور انفراسٹرکچر، قحط میں کمی، تعلیم، صحت، معذوری، مہارت میں بہتری اور تربیت، سماجی و ماحولیاتی تحفظ اور ایمرجنسی حالات میں عمل کام کرتا ہے۔ یہ پاکستان بھر کے 137اضلاع میں موجود ہے جبکہ اسکی 130 تنظیموں کے ساتھ ایک لاکھ سے زائد گاؤں /آبادکاریوں کی شراکت داری ہے جبکہ ان کے ہمراہ ایک لاکھ 33ہزار سے زائد کمیونٹی ادارے اور نچلی سطح پر چار لاکھ 40 ہزار کریڈٹ/کامن انٹرسٹ گروپس ہیں۔ 




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں