28 مارچ، 2019

میری ذر خرید زمین کو رکن صوبائی اسمبلی نے کسی اور شخص کو فروخت کرکے رسید بھی تھمادی، میری زمین ایم پی اے ہدایت الرحمان سے واہ گزار کرائی جائے:عبد الرحمان کی وزیر اعلےٰ سے اپیل۔

میری ذر خرید زمین کو رکن صوبائی اسمبلی نے کسی اور شخص کو فروخت کرکے رسید بھی تھمادی، میری زمین ایم پی اے ہدایت الرحمان سے واہ گزار کرائی جائے:عبد الرحمان کی وزیر اعلےٰ سے اپیل۔



چترال (گل حماد فاروقی) چترال کے بالائی علاقے تورکہو سے تعلق رکھنے والے عبد الرحمان نے الزام لگایا کہ میری زرخرید زمین کو چترال سے منتحب رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان نے ایک نومسلم شحص کو حوالہ کرکے اسے رسید بھی دی۔ عبدالرحمان کے تحریری بیان کے مطابق اس نے جغور دواشش کے رہایشی شفیق الرحمان سے سال 2013 میں جوٹی لشٹ کے مقام پر تیرہ لاکھ روپے کے عوض زمین خریدا تھا لیکن اس زمین کا راستہ نہ ہونے کی وجہ سے میں نے شفیق الرحمان سے دنین کے مقام پر سولہ لاکھ روپے کے عوض زمین خریدی مگر اس زمین بھی قانونی پیچدگی پیدا ہوئی۔

اس کے بعد سال 2018 میں شفیق الرحمان سے چمر کن کے مقام پر نصف چکورزم زمین (تقریباً 22 مرلے) زمین 21 لاکھ روپے میں خریدا اور سند بھی لکھ دی۔ عبد الرحمان کے مطابق اس زمین پر اس نے دو سال تک گندم بھی کاشت کرلی۔ مگر امسال جب میں اپنے زمین میں کام کرنا چاہتا تھا تو پتہ چلا کہ میری زمین کو چترال کے ایم پی اے مولانا ہدا یت الرحمان نے بمبوریت سے تعلق رکھنے والے ایک نومسلم شحص شیر احظم کو اپنے زمین کے بدلے میں دیا ہے اور اسے سند بھی دی ہے۔

عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ جب میں اپنے زمین پر گیا تو مجھے شیر اعظم نے منع کیا کہ یہ زمین میری ہے اور مجھے سند بھی دکھادی کہ یہ زمین اسے ہدا یت الرحمان نے قرضے کے بدلے میں اسے فروخت کی ہے۔میں نے تھانہ چترال میں بھی درخواست دی لیکن مقامی پولیس نے سیاسی اثر رسوح کی وجہ سے MPA کو بلانے سے معذرت کرلی۔ عبد الرحمان نے وزیر اعظم عمران خان، وزیر اعلےٰ محمود خان اور انسپکٹر جنرل پولیس سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کا خریدا ہوا زمین جس کا اس کے پاس باقاعدہ سند بھی موجود ہے اسے واہ گزار کیا جائے اور میرے حوالہ کیا جائے یا اس کی قیمت مجھے دلوایا جائے۔ 

اس سلسلے میں جب رکن صوبائی اسمبلی ہدایت الرحمان سے فون پر رابطہ کیا گیا تووہ اسمبلی اجلاس کیلئے پشاور گئے تھے اور انہوں نے اپنا تحریری یا صوتی موقف دینے سے معذرت ظاہر کی تاہم ان کا کہنا ہے کہ جب یہ خبر میڈیا میں آجائے تو میں بھی میڈیا میں اس کا جواب دوں گا۔ 

عبد الرحمان کے حق میں مولوی عبد السلام نے بھی گواہی دی کہ اس نے میرے سامنے یہ زمین شفیق سے خریدی اور اس سند پر اس نے بطور گواہ دستحط بھی کی ہے۔ شیر اعظم سے جب رابطہ کیا گیا تو اس کا کہنا ہے کہ وہ پہلے کیلاش (غیر مسلم) تھا اب وہ مسلمان ہوچکا ہے اور چترال میں اپنا کاروبار شروع کیا ہے ۔ یہ زمین مجھے ایم پی اے ہدایت الرحمان نے بمبوریت میں ایک جنگل اور زمین کے بدلے میں دیا ہے اور میں نے لاکھوں روپے خرچ کرکے اس پر مکان بھی بنائی ہے جبکہ اس کے علاوہ میرا یہاں کوئی اور سر چھپانے کی جگہہ نہیں ہے۔ تاہم اس نے کہا کہ ایم پی اے صاحب نے ذمہ داری لی ہے کہ زمین میں کمی بیشی یا کسی قسم کی تنازعہ کا وہ ذمہ دار ہوں گے۔ 

شفیق الرحمان سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس نے عبد السلام سے ڈیڑھ چکورم یعنی تین کنال زمین خریدی تھی جس میں ایک کنال اس نے عبد الرحمان کو فروخت کردی اور دو کنال ایم پی اے ہدایت الرحمان پر بیچی۔ اب اگر اس زمین میں کوئی مسئلہ ہو یا کم ہو تو اس کا عبد السلام ذمہ دار ہوں گے۔ 

محمد اسماعیل خان جو چترال کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہے اس کا کہنا ہے کہ جس نو مسلم شحص نے یہ زمین خریدی ہے اس کے ساتھ کسی قسم کا زیادتی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ اس سے اسلام اور مسلمان بدنام ہوتے ہیں ایم پی اے صاحب کو چاہئے کو عبد الرحمان کو بھی اس کے زمین کا قیمت دیکر شیر اعظم کا زمین پورا کرے اور بقایا زمین اگر بچتاہے تو وہ خود رکھ رلے۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں