اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

6 مارچ، 2019

وادی کیلاش میں مسلمانوں اور کیلاش کی ٹیموں کے مابین ہونے والے صدیوں پرانی سنو ہاکی اختتام پذیر۔ سیاحت کو ترقی دینے کی دعویدار حکومت نے روایتی کھیل کی ترقی اور تشہیر کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا

 


چترال کے وادی کیلاش میں صدیوں پرانی برفانی ہاکی احتتام پذیر۔ سیاحت کو ترقی دینے کے دعویدار حکومت نے اس کھیل کو ترویج دینے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

چترال (گل حماد فاروقی) وادی کیلاش کے آخری گاؤں شیخانندہ میں برف باری کے موسم میں سنو ہاکی یعنی برفانی ہاکی کھیلا جا تا ہے۔ یہ کھیل کیلاش اور مسلمانوں کے ٹیموں کے درمیان کھیلا جا تا ہے۔ اس کھیل کے احتتام پر جیتنے والے ٹیم کے کپتا ن کو علاقے کے روایات کے مطابق تین دن کیلئے بادشاہ بنایا جاتا ہے جسے مقامی زبان میں مہتر کہا جاتا ہے۔ امسال اس کھیل میں وادی گرم چشمہ کے گوبور سے تعلق رکھنے والے ٹیم نے بھی حصہ لیا اور فائنل میچ گوبور کے ٹیم نے جیت لی جبکہ کراکاڑ کے کیلاش ٹیم ہار گئے۔ گوبور کے ٹیم نے پانچ کے مقابلے میں گیاہ گولوں سے یہ میچ جیت لی مگر اس میں کوئی ٹرافی بھی پیش نہیں کی گئی۔

مگر اس دفعہ نہ تو اس میں کوئی بادشاہ (مہتر)بنا اور نہ کوئی روایتی ثقافت کا مظاہر ہ کیا گیا۔ اس کھیل میں علاقے سے تعلق رکھنے والے حصوصی نشست پر مقرر کردہ اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی وزیر زادہ کیلاش مہمان حصوصی تھے جبکہ ضلع ناظم مغفرت شاہ نے بھی اس میں شرکت کی تاہم صوبائی حکومت کی سیاحت کے محکمے کا یا ضلعی انتظامیہ کی کسی بھی افسر نے اس میں شرکت نہ کی۔

صوبے میں سیاحت کو ترقی دینے کی دعویدار حکومت نے اس کھیل کا تماشا دیکھنے کیلئے آنے والے تماشایوں کیلئے سڑک تک نہیں کھولا اور لوگ برف پوش سڑک پر کئی کلومیٹر تک پیدل جانے پر مجبور تھے۔ 

گوبور سے تعلق رکھنے والے محمد یوسف نے اس کھیل کے بارے میں بتایا کہ یہ کھیل صدیوں سے اس وادی میں کھیلا جاتا ہے۔ جس میں لکڑی سے بنے ہوئے ایک بال جو گول ہوتا ہے اس کو کالا رنگ دیکر لکڑی ہی سے بنے ہوئیے ہاکی سے مارا جاتا ہے اس ہاکی کی سرے میں لکڑی کو تراش کر اس میں چھوٹا سا سوراح بنایا جاتا ہے تاکہ جب بال برف میں گر جائے تو بال کو اسی سوراح نما جگہہ میں رکھ کر ایک جگہہ سے دوسری جگہہ لے جایا جائے۔ اور اس کو لکڑی سے مارا جاتا ہے۔ تاہم اس بال کو ہاتھ لگانا منع ہے اگر کسی نے غلطی سے ہاتھ لگایا تو اس کا ایک گول حتم تصور ہوگا اور محالف ٹیم کو ایک گول کی برتری دی جاتی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ہمیں یہاں آتے ہوئے ایک مہینہ گزرگیا اس دوران ہمارے یہاں کے رشتہ داروں نے ہماری مہمان نوازی کی مگر صوبائی حکومت یا ضلعی انتظامیہ نے ہمارے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا اور ہم پورا ایک مہینہ مقامی لوگوں پر بوجھ بنتے رہے مگر انہو ں نے نہایت خندہ پیشانی سے ہمارا استقبال کرکے مہمان نوازی کی۔ 

محی الدین کا تعلق بھی گوبور سے ہے اس کا کہنا ہے کہ اس کھیل میں ہر ٹیم سے بیس یا پچیس کھلاڑی شامل ہوتے ہیں پہلے اس میں پورا گاؤں حصہ لیتے تھے اس میں ان گنت کھلاڑی حصہ لیتے تھے۔ 

محمد ظاہر کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اس کھیل کو ترقی دینے کیلئے کوئی قدم اٹھایا یااس پر توجہ دی تو یہ بین الاقوامی حیثیت حاصل کرسکتا ہے اور دنیا کے کونے کونے سے تماشائی اور سیاح اس دلچسپ کھیل کو دیکھنے کیلئے اس وادی کا رح کریں گے۔

عبدالمجید قریشی کا کہنا ہے کہ سنو ہاکی کا کھیل کئی سالوں سے یہاں کھیلا جاتا ہے جو چار فٹ برف پوش میدان میں کھیلا جاتا ہے۔ اس میں چار سے سات کلومیٹر کا لمبا میدان استعمال ہوتا ہے۔ بیک وقت دو، دو بال ایک سرے سے مارے جاتے ہیں جسے آگے لے جاتے ہوئے دوسرے سرے تک پہنچ جاتے ہیں جو ٹیم پہلے پہنچ گیا اس کا ایک گول شمار ہوتا ہے۔ مگر اس میں قدعن یہ ہے کہ بال کو ہاتھ سے نہیں چھو سکتے ہیں۔ حاجی محمد یوسف کا کہنا ہے کہ ماضی میں جب کوئی ٹیم اس کھیل کو جیت جاتا تو اس کے کپتان کو تین دنوں کیلئے وادی کا بادشاہ بنایا جاتا تھا جسے مہتر کہا جاتا ہے اور مہتر جو بھی حکم کرتا تو علاقے کے لوگ اور تمام سرکاری اہلکار بھی اس کے حکم ماننے کے پابند تھے۔ اس دوران بادشاہ لوگوں سے راستے بنواتے ہیں اور کئی فلاحی کام بھی کرواتے ہیں مثلاً دو گروپوں کے درمیان اگر کوئی تنازعہ ہو تو ان کا تصفیہ کیا جاتا ہے مگر اس سال دوسرے علاقے یعنی گوبور سے آنے والے ٹیم نے جیت لیا تو کھیل بے مزہ رہا کیونکہ کوئی بادشاہ نہیں بنا۔ 

یہاں کے روایات کے مطابق جب کسی کھلاڑی کو مہتر مقرر کیا جاتا ہے تو وہ ایک بیل ذبح کرکے پورے علاقے کے لوگوں کا ضیافت بھی کرتا ہے۔ اور تحفے تحایف بھی تقسیم کرتے ہیں۔ 

تاہم مقامی لوگوں نے شکایت کی کہ اتنی شاندار کھیل جو حطرناک بھی ہے اس کو ترقی دینے کیلئے تبدیلی سرکار نے کوئی قدم نہیں اٹھایا اور یہاں کی سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کرتا ہے۔ مقامی لوگوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے وادی کیلاش کی سڑکوں کا اعلان بھی کیا تھا مگر حدشہ ہے کہ تبدیلی سرکار اس کو بھی روک لے تاکہ اس کا کریڈٹ نواز شریف کو نہ جائے۔ واضح رہے کہ جہاں یہ دلچسپ کھیل کھیلاجاتا ہے یہاں سہولت نام کا کوئی چیز موجود نہیں ہے اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت بزکشی اور برفانی ہاکی کی روایات کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں