اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

28 مارچ، 2019

نادرا قانون میں ترمیمی بل کو قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے مسترد کردیا، بل مولانا عبدالاکبر چترالی نے پیش کیا تھا، عبدالاکبر چترالی کا احتجاج

 

نادرا قانون میں ترمیمی بل کو قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے مسترد کردیا، بل مولانا عبدالاکبر چترالی نے پیش کیا تھا، عبدالاکبر چترالی کا احتجاج



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نادرا قانون میں ترمیم کا بل مولانا عبدالاکبر چترالی نے پیش کیا تھا جسے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے مسترد کردیا۔

مولانا عبدالاکبر چترالی نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چترال کے ایسے لوگوں کے شناختی کارڈ بلاک ہوئے جن کو میں پرسنل جانتا ہوں، میں اللہ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ لوگ چترالی ہیں لیکن جن کے شناختی کارڈ بلاک ہوئے انکو آئے روز بلا کر ذلیل کیا جاتا ہے۔

قائم مقام چیئرمین نادرا ذوالفقارعلی نے کمیٹی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سال 2016-17 میں شناختی کارڈز کی قومی سطح پر تصدیق کا عمل شروع کیا گیا، صرف ان لوگوں کے شناختی کارڈ بلاک ہوتے ہیں جو غیر ملکی ہوں اور شناختی کارڈ جعلی طریقے سے حاصل کیا گیا ہو۔ انہون نے شرکا کو بتایا کہ ہمارے پاس اس وقت 15 لاکھ کے قریب افغان شہری مہاجرین رجسٹرڈ ہیں، پولیس، نادرا، ڈپٹی کمشنر اور ایجنسیوں کے لوگ ایسے لوگوں کی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔

وزارت داخلہ کے نمائندے نے کمیٹی اراکین کو بتایا کہ 3 لاکھ کے قریب شناختی کارڈ بلاک تھے، اب صرف 1 لاکھ 55 ہزار شناختی کارڈ بلاک ہیں، شناختی کارڈ ایجنسیوں کی رپورٹ پر بلاک کیے جاتے ہیں۔

رکن کمیٹی اختر مینگل نے سوال اٹھایا کہ بلاک شناختی کارڈز کو بحال کرنے میں ایم این ایز اور ایم پی ایز کے پاس کیا اختیار ہے؟

وزارت داخلہ کے نمائندے نے بتایا کہ ڈی ایم سی کے علاوہ بلاک شناختی کارڈ کو بحال کرنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں، لوکل نمائندے اپنی رائے ضرور دے سکتے ہیں۔

مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ اگر تمام کام صحیح ہو رہے ہیں تو قومی اسمبلی کو ختم کر دیں خواہ مخواہ اتنے اخراجات کر رہے ہیں، کیا چند لاکھ افغانیوں کی وجہ سے پاکستانیوں کے لئے مشکلات جاری رکھی جائیں، نادرا دیوار کھڑی نہ کرے بلکہ صرف چیکنگ کرے۔

کمیٹی نے مولانا عبدالاکبر چترالی کی جانب سے پیش کردہ بل مسترد کردیا۔ مولانا عبدالاکبر چترالی نے کمیٹی کی طرف سے بل مسترد ہونے پر کمیٹی اجلاس سے احتجاجا واک آوٹ کر دیا۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں