اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

5 اپریل، 2019

عالمی جریدے فوربز کے 30 سال سے کم عمر کے 30 باصلاحیت افراد میں 5 پاکستانی شامل، ایک کا تعلق چترال سے ، جو چترال کے لئے باعث فخر ہے

 

عالمی جریدے فوربز کے 30 سال سے کم عمر کے 30 باصلاحیت افراد میں 5 پاکستانی شامل، ایک کا تعلق چترال سے ، جو چترال کے لئے باعث فخر ہے


کراچی (ٹائمز آف چترال نیوز) عالمی جریدہ فوربز ہر سال دنیا بھر سے 30 سال سے کم عمر کے 30 باصلاحیت افراد کا نام شائع کرتا ہے۔ اس سال بھی 30 نام شائع کئے ہیں جن میں سے 5 پاکستانی شامل ہیں ، پانچ پاکستانیوں میں چترال کی قابل فخر بیٹی کرشمہ بھی شامل ہیں۔ جو چترال کے لئے باعث فخر ہے۔ چترال کی 21 سالہ کرشمہ علی اپنے علاقے کی واحد خاتون فٹ بالرہیں، جومقامی اور انٹرنیشنل کلب لیول پر کھیلتی ہیں۔ کرشمہ علی نے چترال میں خواتین اسپورٹس کلب کی بنیاد بھی رکھی ہے۔ کرشمہ چترال ویمنز فٹ بال کلب کی بانی ہیں اور قومی اور عالمی سطح پرفٹ بال کھیلنے والی چترال سے تعلق رکھنے والی واحد لڑکی ہے۔ کرشمہ نے حال ہیں میں دبئی میں ہونے والے جوبلی گیمز میں پاکستان ویمن ٹیم کی نمائندگی کی، ٹیم کی یہ کسی بین الاقومی ایونٹ میں پہلی شرکت تھی۔ انہیں فوربز کی فہرست میں انٹرٹینمنٹ اور سپورٹس کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔

اس فہرست میں فنونِ لطیفہ، سائنس و ٹیکنالوجی، موسیقی، کھیل، کاروبار اور دیگر زمروں میں کچھ منفرد کرکے دکھانے والے 30 سال سے کم عمر کے افراد کو شامل کیا جاتا ہے۔ فوربز کے مطابق پورے ایشیا سے 2000 نام موصول ہوئے تھے، پرکھنے کے بعد ایک اعلیٰ اختیاراتی جیوری نے فہرست میں سے 30 افراد کا انتخاب کیا ہے۔ پاکستان سے منتخب ہونے والے خواتین و حضرات کا تعلق کھیل ، اسٹارٹ اپ کمپنیوں اور نئے کاروبار سے بھی ہے۔




فوربس کی فہرست میں شامل 27 سالہ پاکستانی احمد رؤف عیسیٰ نے بطور طالب علم 23 سال کی عمرمیں پاکستان کے سب سے بڑے ای کامرس پلیٹ فارمز میں سے ایک ٹیلی مارٹ کی بنیاد رکھی ۔ ٹیلی مارٹ ای کامرس پلیٹ فارم تیزی سے ترقی کررہا ہے۔

چترال کی 21 سالہ کرشمہ علی اپنے علاقے کی واحد خاتون فٹ بالرہیں، جومقامی اور انٹرنیشنل کلب لیول پر کھیلتی ہیں۔ کرشمہ علی نے چترال میں خواتین اسپورٹس کلب کی بنیاد بھی رکھی ہے۔۔ کرشمہ چترال ویمنز فٹ بال کلب کی بانی ہیں اور قومی اور عالمی سطح پرفٹ بال کھیلنے والی چترال سے تعلق رکھنے والی واحد لڑکی ہے

23 سالہ لیلی قصوری بطور واٹر ایکسپرٹ ورلڈ بینک جیسے اداروں کے ساتھ آب پاشی اور سیلاب کے موضوع پر ریسرچ کرچکی ہیں۔ لیلیٰ قصوری دنیا کے کئی اداروں کی مشیر بھی ہیں جہاں وہ اپنی فنی مہارت پیش کرتی ہیں۔

29 سالہ زینب بی بی نے 2013ء میں پاکستان سوسائٹی فار گرین انرجی کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ قابل تجدید توانائی پیدا کرنے کے نئے طریقوں پرکام کرتا ہے۔

زین اشرف کی عمر 28 برس ہے اور انہوں نے سود سے پاک مائیکرو فنانسنگ کے ذریعے غربت کا خاتمہ کرنے جیسے اقدامات کیے ہیں۔ زین اشرف کی کمپنی پاکستان میں مسلسل ترقی کررہی ہے۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں