اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

1 اپریل، 2019

مجھے با اثر شحص کے کہنے پر تھانہ چترال بلایا گیا، میرے اوپر کوئی مقدمہ بھی درج نہیں ہے۔ ایس ایچ او نے مجھ پر کافی دباؤ ڈالا کہ ایم پی اے کے خلاف کیوں میڈیا میں بیان دی ہے۔ چند لوگوں نے سٹام پیپر پر مجھ سے دستحط کروایا ۔ عبد الرحمان کا فریاد۔

مجھے با اثر شحص کے کہنے پر تھانہ چترال بلایا گیا، میرے اوپر کوئی مقدمہ بھی درج نہیں ہے۔ ایس ایچ او نے مجھ پر کافی دباؤ ڈالا کہ ایم پی اے کے خلاف کیوں میڈیا میں بیان دی ہے۔ چند لوگوں نے سٹام پیپر پر مجھ سے دستحط کروایا ۔ عبد الرحمان کا فریاد۔ 




چترال (نمائندہ چترال) تھانہ چترال کے ایس ایچ او نے بااثر شحص کے دباؤ میں آکر مجھے تھانہ بلایا۔اور مجھے ڈرایا دھمکایا کہ اپ نے ایم پی اے ہدایت الرحمان کے حلاف کیوں میڈیا بیان دی ہے۔ تھانہ میں ایک وکیل اور چند مولوی حضرات بھی تھے ان میں مولوی عبد السلام بھی موجود تھا۔ مجھ سے ان لوگوں نے سٹام پیپر پر انگوٹھہ بھی لگوایا مگر میں بے تعلیم ہوں معلوم نہیں سٹام پیپر میں کیا لکھا تھا بعد میں میڈیا والوں نے بھی پولیس کے کہنے پر مجھے دباؤ کر مجھ سے ان کے مرضی کے بیان اگلوایا۔تحقیقات کی جائے عبد الرحمان کی دہای۔

چترال کے بالائی علاقے شاہ گرام سے تعلق رکھنے والے غریب بزرگ شہری عبد الرحمان نے میڈیا کے سامنے بتایا کہ میں نے نماز پڑھ کر جب مسجد سے باہر نکلا تو تھانہ چترال کے ایس ایچ او انور شاہ نے مجھے فون کرکے سحتی سے کہا کہ تم فوراً تھانہ آجاؤ جب میں تھانہ گیا تو سلام کے بعد SHO نے مجھ پر اتنا دباؤ ڈالا کہ تم نے کیوں MPA ہدا یت الرحمان کے حلاف میڈیا میں بیان دی ہے یہ لوگ قابل قدر لوگ ہیں ان کے ساتھ چند لوگ بیٹھے تھے جن میں ایک وکیل بھی تھا اور کڑوپ رشت میں دکاندار مولوی عبد السلام بھی تھا انہوں نے مجھے کافی دبایا اور کہا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ جاؤ اور یہ مسئلہ حل کرو۔

یہ بھی پڑھیں: ایم پی اے سے معافی چاہتا ہوں میرے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا؛ عبدالرحمن


ان تین آدمیوں کے ساتھ مجھے چمرکن بھیجا جہاں میری اراضی تھی انہوں نے میری زمین الگ کرکے پتھر رکھے مگر جو بمبوریت والا شحص ہے جس نے ہدایت الرحمان سے زمین خریدی اس نے وہ پتھر دوبارہ پھینکے اور کہا کہ جب تک ایم پی اے نہ آئے یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ 
ہم واپس آئے اور راستے میں ان تین آدمیوں نے ایک سٹام پیپر لکھوایا اس میں کیا تھا مجھے کوئی معلوم نہیں کیونکہ میں ان پڑھ آدمی ہوں نہیں پڑھ سکتا۔ مجھے ان لوگوں نے دباؤ کر کہا کہ اس پر دستحط کروں تو مجھے سے زبردستی دستحط کروایا اور انگوٹہ بھی لگوایا۔ اس نے کہا کہ ایس ایچ او نے مجھے زبردستی گاڑی میں بٹھا کر میڈیا والوں کے پاس بھجوایا جہاں زرگرااندہ میں ایک صحافی کو گھر سے بلایاگیا اس کے پاس کیمرہ تھا اور مجھ سے انٹر ویو لینے لگا جب میں نے بات شروع کی تو اس نے مجھے کہا کہ ایسا نہ کہو بلکہ تم یہ کہو کہ میرے حوالے سے میڈیا میں جو بیان آیا ہے وہ غلط انداز میں پیش کیا گیا اور میں نے ایسی بات نہیں کہی تھی تو پھر تمھاری جان چھوڑیں گے اس نے یہ بھی پوچھا کہ تم پر کوئی دباؤ ہے میں تصدیق کی کہ مجھ پر بہت زیادہ دباؤ ہے اور
زبردستی مجھے سے یہ سب کچھ کروایا جاررہا ہے۔ عبد الرحمان نے الزام لگایا کہ شائد اس میڈیا والوں کا جیب بھی ایم پی اے صاحب نے بھرا تھا کیونکہ وہ مجھے یہ کہہ رہا تھا کہ تم اپنے سابقہ بیان کے حلاف بیان دو۔

ٓٓاشرف خان جو عبد الرحمان کا بڑا بھائی ہے اس کا کہنا ہے کہ اس کو شفیق الرحمان نے تین جگہہ زمین بدل ، بدل کر آحر کار چمرکن میں زمین دیا۔ مگر اسی زمین کا ایک تکڑا بمبوریت کے کے ایک تکڑا بمبوریت کے ایک نومسلم شحص کو ایم پی اے ہدا یت الرحمان نے فروخت کیا تھا اور وہ شحص میرے بھائی کو اب اپنے زمین میں نہیں چھوڑتا ان کا کہنا ہے کہ جب تک مولوی ہد ایت الرحمان نہیں آتا یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اب ایس ایچ او میرا کزن بھی ہے مگر اس نے پتہ کس کے دباؤ میں آکر میرے بھائی کو تھانہ میں بلایا اور اس سے سٹام پیپر پر لکھوایا حالانکہ اس پر کوئی مقدمہ بھی درج نہیں ہے۔ اس نے تین مہینے پہلے درخواست دی تھی اس پر کوئی غور نہیں ہوا مگر ابھی جب ایم پی اے کے حلاف میڈیا میں خبر آئی تو ایس ایچ او بھی حرکت میں آگئے۔ 

بشیر احمد جو کہ عبد الرحما ن کا چھوٹا بھائی ہے اس کا کہنا ہے کہ میرے بھائی کے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے شفیق الرحمان نے اس پر زمین بیچی تھی مگر بار بار اسے بدلتا رہا اور اب اس زمین میں یہ مسئلہ پیدا ہوا۔

شاہ احمد کا کہنا ہے کہ یہ لوگ میرے رشتہ دار ہیں میرے بائس لاکھ روپے بند ہیں میں نے ان کو تحریک انصاف کے دفتر اسلئے لایا کہ اسے انصاف ملے۔ اور اسے جمعہ کے روز تھانہ بھی بلایا تھا میں اس پر گواہ ہے او ر بعد میں یہ کہنے لگا کہ مجھ سے زبردستی بیان بھی اگلوایا اور سٹام پیپر پر دستحط بھی کروایا۔ 

حاجی مراد کا کہنا ہے کہ یہ میرا چچا زاد بھائی ہے اس نے تین جگہہ زمین خریدی ہے اب چمرکن میں جو زمین خریدی ہے چمرکن میں اسی زمین کے ساتھ متصل ایک تکڑا بمبوریت کے نو مسلم شیر اعظم نے بھی خریدا ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ یہ زمین کم ہے ہم نے بار بار ہدایت ارحمان کو بلایا مگر وہ نہیں آتا اس میں یہ تینو ں ملوث ہیں اور ہم تو صرف انصاف چاہتے ہیں کیونکہ اس نے اکیس لاکھ روپے پر زمین خریدی ہے وہ اسے حوالہ کرنا چاہئے۔ 

اس سلسلے میں ہمارا نمائندہ تھانہ چترال جاکر SHO سب انسپکٹر انور شاہ سے بھی ان کا موقف جاننے کی کوشش کی مگر ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ مجھے میڈیا کے سامنے کیمرہ میں بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ جب اس سے یہ پوچھا گیا کہ عبد الرحمان پر کوئی FIR درج تھا جسے آپ نے تھانہ میں بلایا تو جواب نفی میں تھا تاہم ان کا کہنا ہے کہ عبد الرحمان نے تین ماہ قبل مجھے اس سلسلے میں درخواست دی تھی اور میں نے اس درخواست کے سلسلے میں اسے بلایا تھا تاہم اس نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں کہ ان لوگوں نے اس سے سٹام پیپر پر دستحط بھی کروایا ہے وہ میرے موجودگی میں نہیں ہوئی ہے اگر میرے سامنے ہوتا تو میں ضرور ان کو منع کرتا کیونکہ یہ غیر قانونی ہے۔ 

عبد الرحمان کا فریاد



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں