11 اپریل، 2019

رکن قومی اسمبلی عبد الاکبر چترالی درجہ چہارم کے آسامیوں پر اپنی سیاست نہ چمکائے۔ کیلاش قبیلے کے حلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے ہیں وہ قوم سے معافی مانگے ورنہ ہم انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے صدر اور اراکین کا پریس کانفرنس سے خطاب۔

رکن قومی اسمبلی عبد الاکبر چترالی درجہ چہارم کے آسامیوں پر اپنی سیاست نہ چمکائے۔ کیلاش قبیلے کے حلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے ہیں وہ قوم سے معافی مانگے ورنہ ہم انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے صدر اور اراکین کا پریس کانفرنس سے خطاب۔



چترال (گل حماد فاروقی) پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی صدر عبد الطیف اور دیگر رہنماء نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چترال کے منتحب اراکین اسمبلی کے غیر سنجیدہ رویئے پر کڑی تنقید کردی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چند دن پہلے محکمہ تعلیم میں درجہ چہارم کی آسامیوں پر تعیناتی کے بعد ہمارے منتحب نمائندوں نے جس غیر سنجیدگی اور سیاسی دوالیہ پن کا ثبوت دیا اس پر صرف ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ منتحب نمائندے عوام کے سیاسی اور سماجی رول ماڈل ہوتے ہیں اور عوام کی اجتماعی ترقی کے ذمہ دار بھی ہوتے ہیں۔ آج کے دور میں دنیا میں تعلیم، صحت اور سماجی ترقی کے جو اعلےٰ معیار قائم ہوچکے ہیں وہاں اجب ہم اپنے منتحب نمائدنوں کی ذہنیت کو درجہ چہارم کی ملازمتوں تک محدود پاتے ہیں تو ہمیں مایوسی کے کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا کیونکہ ان نمائندوں کو لیکر کیونکر ہم ترقی کے منازل طے کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ نمائندگا ن تو اس میں ناکام ہوئے مگر اس سے بڑھ کر جو چیز ہمارے لئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ درجہ چہارم کی ملازمتوں کو بنیاد بناکر ہمارے منتحب نمائندے چترال کے امن و آشتی کو کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ 


انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چترال سے منتحب رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی اور ایم پی اے ہدایت الرحمان نے کیلاش قبیلے کے خلاف جو دھمکی آمیز زبان استعمال کی ہے اور ان کو براہ راست دھمکی دی گئی ہیں اس کی نہ صرف ہم مذمت کرتے ہیں بلکہ انصاف لائرز فورم کے ساتھ مشاورت کرنے کے بعد ان دونوں کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چترالی قوم کی بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ ہمارے ایم این اے دوسری مرتبہ پارلیمنٹ میں پہنچے ہیں لیکن ان کو یہ تک پتہ نہیں کہ بحیثیت ایم این اے وہ وفاقی سطح پر قوم کی نمائندگی کا استحقاق رکھتے ہیں اور صوبائی معاملات میں مداخلت ان کا کوئی قانونی ، اخلاقی استحقاق نہیں بنتا۔ 

انہوں نے کہا کہ صوبائی معاملات میں تو حکمران پارٹی تحریک انصاف کے ممبران قومی اسمبلی بھی مداخلت نہیں کرسکتے ہیں اور نہ ہی کرتے ہیں تو مولانا عبد الاکبر کس حیثیت سے صوبائی معاملات میں اپنی چونچ پھسانے کی کوشش کرتے ہیں وہ نہ تو حکومت کی نمائندی کرتے ہیں اور نہ خزب احتلاف کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایم این اے صاحب سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اس نے وفاقی اداروں میں کتنے چترالیوں کو ملازمتیں دلوائی ہیں۔ مگر جب کیلاش قبیلے کا رکن صوبائی اسمبلی وزیر زادہ کچھ ترقیاتی کام کرتا ہے تو ان کو تکلیف پہنچتی ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے وزیر زادہ کو ذاتی حیثیت میں دھمکی دی تھی جسے ہم نے نظر انداز کیا تھا لیکن اب اس نے پورے کیلاش قبیلے کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی ہے اسلئے ہم ان کی یہ دہشت گردانہ رویہ نظر انداز نہیں کرسکتے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے حکومت نے ملک میں عموماً اور چترال میں خاص طور پر سیاحت کو ترقی دینے کی پالیسی اپنائی ہے اسلئے ان حضرات کو خدشہ ہے کہ چترال میں سیاحت کی ترقی سے چترالی قوم ترقی کرے گی جس سے ان نمائندگان کی سیاست کا مکمل خاتمہ ہوجائے جو اب تک لوگوں کو اسلام کے نام پر ورغلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر زادہ نے بحیثیت ایم پی اے کسی ایک کیلاش بندے کو بھی ملازمت نہیں دلوائی ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے ناعاقبت اندیش نمائندوں نے کیلاش برادری کو دھمکی دیکر چترال کی مثالی پرامن ماحول حراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ میں چترالی قوم سے اس فورم کے ذریعے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان نمائندوں سے پوچھے کہ چترال کا کوئی بھی بیٹا جس کا تعلق حواہ کسی بھی طبقے سے ہو اگر وہ چترالی قوم کی خدمت کرتا ہے تو ان نام نہاد نمائندوں کو یہ چیز ہٖضم کیوں نہیں ہوتی۔ قوم ان سے پوچھے کہ درجہ چہارم کی ملازمت کیلئے چترال کی پر امن فضاء کو کیوں خراب کرتے ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ہم نے اپنے وکلاء سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان کے اس غیر ذمہ دارانہ اور قوم دشمنی پر مبنی بیان اور روئے پر ان کے خلاف FIR درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ہم ان دونوں حضرات سے اس فورم کے ذریعے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ چوبیس گھنٹے کے اندر کیلاش کمیونٹی کے خلاف اپنے الفاظ واپس لے اور چترالی قوم سے معافی مانگ لے ورنہ ہم ان کے خلاف ایف آئی آر کی اندراج کیلئے تھانہ چترال میں درخواست جمع کریں گے۔ 

آحر میں انہوں نے کچھ کاغذات دکھائے جس میں درج تھا کہ ایم پی اے ہدایت الرحمان کے سفارش پر محکمہ تعلیم میں 13 افراد بھرتی ہوچکے ہیں مگر انہوں نے ایم این سے یا تو جھوٹ بولا ہے یا اس سے یہ بات چھپائی ہے اور وزیر زادہ نے صرف چار بندوں کی سفارش کی تھی۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں