اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

26 اپریل، 2019

ٹیلی کام کمپنی یوفون تمباکو سے پاک اسلام آباد مہم کا حصہ بن گئی، یوفون ٹاور تمباکو نوشی سے پاک مقامات کی فہرست میں شامل

ٹیلی کام کمپنی یوفون تمباکو سے پاک اسلام آباد مہم کا حصہ بن گئی، یوفون ٹاور تمباکو نوشی سے پاک مقامات کی فہرست میں شامل


اسلام آباد  شہر میں تمباکونوشی سے پاک مقامات کی تعداد 216 ہوگئی ہے


اسلام آباد : پاکستانی ٹیلی کام کمپنی یوفون وفاقی وزارت صحت کے تمباکو نوشی سے پاک اسلام آباد اقدام کا حصہ بن گئی ہے۔ اس اقدام میں شمولیت کے بعد دارالحکومت اسلام آباد میں یوفون ٹاور تمباکو نوشی سے پاک مقامات کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے جس کے بعد شہر میں تمباکونوشی سے پاک مقامات کی تعداد 216 ہوگئی ہے۔

اس سلسلے میں یوفون ٹاور کو تمباکو نوشی سے پاک مقام قرار دینے کے سلسلے میں تقریب منعقد ہوئی جس میں منسٹری آف نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز و کوآرڈی نیشن کی پارلیمانی سیکریٹری ڈاکٹر نوشین حامد نے شرکت کی۔ اس اقدام سے متعلق وزارت اور یوفون کے درمیان لیٹر آف انٹنٹ (Letter of Intent) پر بھی دستخط کئے گئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر نوشین حامد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، "حکومت صحت کے شعبے کو سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہے اور تمباکو کے استعمال کو کنٹرول کرنے کے لئے نیشنل کینسر کنٹرول پلان پر کام کیا جارہا ہے اور یہ اسکی روک تھام کے لئے سب سے موثر حکمت عملی ہے۔

یوفون کے چیف آفیسر لیگل و ریگولیٹری افیئرز نوید خالد بٹ نے وفاقی حکومت کی جانب سے صحت کو درپیش نقصان دہ چیزیں بالخصوص کینسر کی روک تھام اور طرز زندگی سے متعلق امراض کی روک تھام کیلئے اقدامات پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا، 
"ہمیں صف اول کی پاکستانی کمپنی اور ذمہ دار کاروباری ادارے کے طور پر فخر ہے کہ ہم اس اقدام کا حصہ ہیں جس کے تحت عوامی صحت کو پیش نظر رکھتے ہوئے دفتری مقامات کو تمباکونوشی سے پاک بنایا جا رہا ہے ۔

تمباکو سے پاک اسلام آباد اقدام کے پروجیکٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر منہاج السراج نے تقریب میں یوفون ٹاور کو تمباکونوشی سے پاک مقام قرار دینے کا اعلان کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے موضوع کی پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs)سے ہم آہنگی کے ساتھ تمباکو کے نقصانات پر روشنی ڈالی اور تمباکو کو ترقی کیلئے خطرہ قرار دیا۔

انہوں نے زور دیا کہ تمباکو کی صنعت کی وجہ سے غربت، صحت، بچوں کی تعلیم، صنفی مساوات، ماحولیات، زیر آب زندگی اور امن و انصاف کے ترقیاتی اہداف متاثر ہورہے ہیں۔ 

انہوں نے تمباکو کو کنٹرول کرنے والے قوانین پر عمل درآمد کیلئے آبادی میں آگہی بڑھانے پر زور دیا اور بتایا کہ کس طرح سے صحت اور ماحولیات کے تحفظ کے لئے احتیاطی اقدامات کئے جائیں۔

اسلام آباد کو تمباکونوشی سے پاک علاقہ قرار دینے کے سلسلے میں تمباکو فروخت کرنے والے دکانداروں سے متعلق خود مختار ادارے کی جانب سے گزشتہ ہفتہ جائزہ رپورٹ پیش کی گئی ہے۔ منسٹری آف نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز و کوآرڈی نیشن کا اسموک فری کیپٹل پروجیکٹ کا رواں سال 31 مئی کو تمباکو کے خلاف عالمی دن پر ٹوباکو وینڈر زلائسنسنگ کا کام مکمل ہورہا ہے۔ 

تمباکو کا استعمال مختلف بیماریوں بشمول مختلف اقسام کے 15 کینسرز کی بڑی وجہ ہے۔ تمباکو کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث ہر سال ایک لاکھ 60 ہزار پاکستانی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پاکستان میں 2 کروڑ سے زائد کی آبادی تمباکو نوشی کرتی ہے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں