11 اپریل، 2019

ایم این اے کی طرف سے لگائے گئے الزامات بلاجواز ھیں: اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی وزیرزادہ

 

ایم این اے کی طرف سے لگائے گئے الزامات بلاجواز ھیں: اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی وزیرزادہ

چترال (محکم الدین) اقلیتی رکن اسمبلی خیبر پختونخوا وزیر زادہ نے کہا ہے کہ حالیہ ایجوکیشن کلاس فور بھرتیوں میں ان کی طرف سے کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوئی ہے اور اس حوالے سے ایم این اے اور ایم پی اے کا الزام بلاجواز ہے۔

پشاور سے ٹیلیفونک خطاب میں انہوں نے کہا کہ کوٹے کے حساب سے اقلیتوں کے دو پوسٹ بنتے تھے لیکن انہوں نے اس میں بھی مداخلت نہیں کی۔ اس کے باوجود ایم این اے چترال کی طرف سے پریس کانفرس کرنا اور الزمات لگا کر تصادم کی بات کرنا خود ان کے منصب کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم این اے مولانا عبد الاکبر چترال کا نمائندہ ہونے کے علاوہ بھی قابل احترام ہیں۔ اس لئے اُنہیں اس قسم کی دھمکی آمیز باتیں ہر گز زیب نہیں دیتیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے سامنے ایک کلاس فور کی بھرتی کی کوئی اہمیت نہیں۔ میری نظر میں گرم چشمہ کالج کی منظوری، اپر چترال ڈسٹرکٹ کے آفیسران کی پوسٹنگ، بروغل میں تعلیم سے محروم ہونے والے 554طلبہ کے لئے منسٹر ایجوکیشن سے بات کرکے پرائیویٹ طور پر اُن کی تعلیم جاری رکھنے کیلئے انتظام کرنا زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔



انہوں نے کہا کہ میں ہر گز نہیں چاہتا تھا کہ کلاس فور بھرتی کے حوالے سے باتین میڈیا کی زینت بنیں۔ اب جبکہ ایم این اے مولانا عبد الاکبر چترالی نے بات چھیڑ دی ہے تو میرا مطالبہ ہے کہ اس حوالے سے شفاف انکوائری کی جائے۔ اور اس انکوائری کمیٹی میں مولانا اپنے اعتماد کے بندے شامل کرے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکناں پہلے ہی سے میری خاموشی پر ناراضگی کا اظہار کررہے تھے۔ لیکن ہم اس لئے خاموش رہے کہ جو بھی بھرتی ہو گا وہ چترال کا بندہ ہی ہو گا ۔ اس لئے اس کو کریدنے کی ضرورت نہیں ،لیکن مولانا سے رہا نہ گیا ۔ جس پر ہمیں بھی بولنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کی زبان سے کلاس فور پوسٹوں کیلئے چترال کے امن کو خراب کرنے کی بات انتہائی افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں چترال کی طرف سے تحریک انصاف کا نمایندہ ہوں ، اور باوجود کارکنان کے اصرار کے چترال کے بہتر مفاد میں میں خاموش رہا ۔ لیکن مولانا کو میری خاموشی ناگوار گزری ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اب انکوائری کمیٹی ہی صحیح اور غلط کا فیصلہ کرے گی۔

درین اثنا پاکستان تحریک انصاف چترال کے صدر عبد الالطیف نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں اسلامی نظام لانے کے دعویدار چترال سے ایم ایم اے کے ممبران اسمبلی اس حد تک گر چکے ہیں کہ اُن کو کلاس فور ملازمتوں کے علاوہ چترال کے مسائل بالکل نظر نہیں آتے ۔ گویا پورے چترال کا مستقبل ان کلاس فور ملازمتوں پر ہے ۔

نہوں نے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم قومی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، جس میں ٹورزم، ہیلتھ اور ایجوکیشن سمیت دیگر سیکٹر شامل ہیں ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ نفاذ شریعت کے نام پر ووٹ حاصل کرنے والے چترال کے ممبران اسمبلی نفاذ شریعت کو بھول کر صرف کلاس فور بھرتیوں تک محدود ہو گئے ہیں ۔ جس سے اُن کی ذہنی پستی کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ 2013 کے بعد ان کی نمایندگی کی چاردر بتدریج سکڑتی جارہی ہے کیونکہ الیکشن جس نام پر حاصل کرتے ہیں بعد میں بھول کر بھی اس کو یاد نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا معیار یہ ہے کہ ملازمت اگر ایم پی اے ہدایت الرحمن کے بھائی شجاع الرحمن کو ملے تو ٹھیک لیکن کسی دوسرے کو ملے توغلط ہے۔ عبد الطیف نے کہا کہ ہم انکوائری کیلئے اس شرط پر تیار ہیں کہ پُر شدہ کلاس فور اآسامیوں میں ان کے بندوں کی تعداد اگر زیادہ نکلی تو وہ اپنی نشستوں سے استعفی دے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ پچیس سالوں سے پیپلز ورکس پروگرام کے تحت تعمیر ہونے والے ڈسپنسریز جن کی زمین کے مالکان سے ملازمت کے عوض زمین لی گئی تھی۔ آج اُن کو اُن کاحق دینے کی راہ میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں۔ انہوں نے مولانا چترالی سے کہا کہ صوبائی ملازمتوں میں مولانا خوامخواہ ٹاگ اڑا رہے ہیں جبکہ اِن سے اُن کا کوئی سروکار نہیں۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں