اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

4 اپریل، 2019

موبائل سمز اور غیر تصدیق شدہ موبائلزکی بندش کے معاملے میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے بڑا حکم جاری کردیا

موبائل سمز اور غیر تصدیق شدہ موبائلزکی بندش کے معاملے میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے بڑا حکم جاری کردیا



اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی اے اور موبائل کمپنیوں کو مل بیٹھ کر موبائل سم اور غیر تصدیق شدہ موبائلزکی بندش کا مسئلہ حل کرنے کا حکم دیدیا۔بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے موبائل سمز اور غیرتصدیق شدہ موبائلز کی بندش کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔غیرتصدیق شدہ موبائلز کو بلاک کرنے کا معاملہ پی ٹی اے کے سپرد کردیا۔پی ٹی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ موبائل کمپنیز کیساتھ تاریخ میں توسیع پر رابطے میں ہیں اور امید ہے جلد اس حوالے سے مناسب فیصلہ کرلیں گے تاہم نجی موبائل کمپنی نے عدالت سے شہریوں کی آگاہی کیلئے وقت بڑھانے کی استدعا کی تھی جس کو عدالت نے منظور کرتے ہوئے موبائل کمپنیز کو موبائلز بلاک کرنے سے پہلے آگاہی مہم چلانے کی اجازت دیدی۔ پی ٹی اے نے عدالت کو بتایا کہ نئے حکم کے تحت تمام موبائل فونز کو پی ٹی اے سے رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ موبائل کمپنیزکا توسیع کا مطالبہ درست ہے، پی ٹی اے اورموبائل کمپنیزاس کا حل نکا لیں جبکہ موبائل کمپنیزکی درخواست پی ٹی اے کوبھیجنے کی ہدایت کردی تاہم پی ٹی اے نے موبائل رجسٹریشن کیلئے29 جنوری سے29 مارچ تک کا وقت دیا تھا اور موبائل کمپنیزکو پی ٹی اے سے غیر رجسٹرڈ ہونے پر بلاک کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں