اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

17 اپریل، 2019

چترال میں ایک اور حوا کی بیٹی نے زندگی کا چراغ گل کردیا۔ لاش مقامی رضاکاروں نے دریاسے نکال کر ورثا کے حوالہ کردیا

 

چترال میں ایک اور حوا کی بیٹی نے زندگی کا چراغ گل کردیا۔ لاش مقامی رضاکاروں نے دریاسے نکال کر ورثا کے حوالہ کردیا


چترال میں ایک اور حوا کی بیٹی نے زندگی کا چراغ گل کردا۔  دور افتادہ علاقہ وادی تورکہو کے ریچ گاوں میں  دو شیزہ نے دریائے چترال میں چھلانگ لگا کر زندگی کا حاتمہ کرلی۔ خودکشی کی وجہ معلوم نہ ہوسکی۔ لاش مقامی رضاکاروں نے دریاسے نکال کر ورثائ کے حوالہ کی۔

چترال(گل حماد فاروقی) تفصیلات کے مطابق ریج گاؤں سے تعلق رکھنے اٹھارہ سالہ بی بی شریفہ دختر ولی نے مبینہ طور پر دریا میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی ۔ مقامی لوگ اور پولیس ملکر لاش برآمد کرلی اور اسے پوسٹ مارٹم کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بونی بھیجوادی گئی جبکہ اس واقعے کی تفتیش کا سلسلہ جاری ہے ۔

چترال میں آئے روز خودکشیاں ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ، ان کی روک تھام کےلئے سیمنار ، گھر گھر پمفلٹ  اور آگاہی سنٹر ہونا چاہیے ۔ تاکہ انسانی زندگی کو بچایا جاسکے۔

واضح رہے کہ چترال میں ہرسال تقریبا تیس خود کشیوں کے واقعات رو نما ہوتے ہیں مگر حکومتی سطح پر ابھی تک ان کا اصل وجوہات معلوم نہ ہوسکی۔

(چترال) چترال کے مقام دنین میں لفٹ سے دریائے چترال کے ایک سائد سے دوسرے کنارے جاتے وقت علی حیدر ولد شیردولہ خان نامی لڑکے نے دریائے چترال میں چھلانگ لگادی. واقعے کی اطلاع ریسکیو 1122 چترال کنٹرول کو ملتے ہی ریسکیو ڈائیورز ٹیم موقعے پر پہنچی تو مقامی افراد  کوشش سے حیدر علی کو دریائے چترال سے نکال لیا گیا تھا، ریسکیو1122 کی ٹیم نے وکٹم کو فرسٹ ائیڈ دینے کے بعد چترال سکاؤٹس ہسپتال منتقل کیا. علی حیدر کا تعلق مدشیل کریم آباد چترال سے ہے

بہادر خان کی بہادری 
یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن ویرھاوس چترال کے انچارچ بہا در خان نے آج دریاۓ چترال میں زانگو سے گرنے والے شخص کو دریا میں تیر کر پہلوان کے ساتھ ریسکیو والوں کے پہنچنے سے پہلے زندہ نکالنے میں کامیاب ہوگۓ ۔ ہم ان کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں.




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں