اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

26 اپریل، 2019

زندگی پروجیکٹ کے تحت پسماندہ علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی جاری : کوکا۔کولا اور روٹری انٹرنیشنل نے اپنے مشترکہ منصوبے پر میڈیا نمائندوں کو بریفنگ دی

 

زندگی پروجیکٹ کے تحت پسماندہ علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی جاری : کوکا۔کولا اور روٹری انٹرنیشنل نے اپنے مشترکہ منصوبے پر میڈیا نمائندوں کو بریفنگ دی


کراچی : کوکا۔کولا پاکستان اور روٹری انٹرنیشنل نے کراچی میں زندگی پروجیکٹ سے لوگوں کی زندگی پر مرتب ہونے والے مثبت اثرات کو سامنے لانے کے لئے صحافیوں کو کراچی کے علاقہ بلدیہ ٹاؤن کا دورہ کرایا جہاں انہیں خصوصی بریفنگ دی گئی۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ساتھ اس مشترکہ پروجیکٹ کا عزم ہے کہ سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے دور دراز اور آلودہ پانی سے متاثرہ علاقوں میں پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے۔


اس سلسلے میں روٹری انٹرنیشنل کی پاکستان نیشنل پولیو پلس کمیٹی کے چیئرمین عزیز میمن نے کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاوٴن میں شمسی توانائی سے چلنے والے واٹر فلٹریشن پلانٹ پر صحافیوں کو باقاعدہ بریفنگ دی ۔ 

اس دورے میں صحافیوں کو بتایا گیا کہ کوکا۔کولا کے وسائل اور روٹری پاکستان پولیو پلس کی جانب سے سولر والٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب کی گئی ہے جس سے مقامی آبادی کو پینے کا صاف پانی حاصل ہوتا ہے۔

اس سلسلے میں سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے سات مقامات پر 12 عدد سولر واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کئے جاچکے ہیں، جن میں کراچی میں سات، پنجاب میں چار اور پشاور میں ایک سولر واٹر فلٹریشن پلانٹ شامل ہے۔ 

کوکا۔کولا کے پبلک افیئرز اینڈ کمیونکیشنز کے ڈائریکٹر فہد قادر نے کہا:- 
"پاکستان بدستور پولیو سے متاثرہ ملک ہے اور ہمارا عزم ہے کہ پاکستان کو 2020 تک پولیو سے پاک ملک بنایا جائے۔ سال 2014 سے ملک میں پولیو کے واقعات میں 90 فیصد تک کمی آچکی ہے اور منظم و پائیدار (گولڈن ٹرائی اینگل)طریقے کے ذریعے کوکا۔کولا نے پینے کے صاف پانی کے ذریعے پولیو کے خاتمے کے لئے سول سوسائٹی اور روٹری کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔ " 

اس پروجیکٹ سے اب تک ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد مستفید ہوچکے ہیں جن میں تقریبا 41 ہزار بچے بھی شامل ہیں اور اب ان کو پائیدار انداز سے پینے ، گھریلو استعمال اور دیگر کاموں کے لئے صاف پانی تک رسائی حاصل ہے۔
مزید یہ کہ اس پروجیکٹ کے تحت 21 ورکشاپس کا انعقاد ہوچکا ہے جن میں 500 سے زائد کمیونٹی اراکین شرکت کرچکے ہیں جس کے نتیجے میں 3 ہزار سے زائد افراد بلاواسطہ طور پر مستفید ہوئے ہیں ۔ اس طرح 21 کمیونٹی اجلاس منعقد ہوئے جن میں 470 مقامی اراکین نے شرکت کی جبکہ شہریوں کو صحت اور صفائی ستھرائی سے متعلق مسائل میں بھی رہنمائی فراہم کی گئی۔ مجموعی طور پر سماجی فلاحی بہبود کے اس اقدام سے 17800 گھرانے منسلک ہوچکے ہیں جو ملک گیر سطح پر ایک بڑی تعداد ہے۔

ان ترقیاتی اور آگہی پر مبنی امدادی کاموں کے نتیجے کی روشنی میں یہ امید کی جاسکتی ہے کہ پسماندہ اور سہولیات سے محروم علاقوں کی آبادی میں رہنے والے 70فیصد افراد بالخصوص خواتین اور بچوں پر اچھے اثرات مرتب ہورہے ہیں جو مجموعی طور پر انکی معیاری زندگی کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں