اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

9 اپریل، 2019

چترال کی تاریح میں پہلی بار خواتین نے شیر خوار بچوں سمیت بجلی و پانی کے حصول کیلئے سڑکوں پر نکل آئے، گاؤں ورڈب کے مکین اس جدید دور میں بھی بجلی اور پینے کے صاف پانی جیسی نعمت سے محروم ہیں

 

چترال کی تاریح میں پہلی بار خواتین نے شیر خوار بچوں سمیت بجلی و پانی کے حصول کیلئے سڑکوں پر نکل آئے، گاؤں ورڈب کے مکین اس جدید دور میں بھی بجلی اور پینے کے صاف پانی جیسی نعمت سے محروم ہیں




چترال (گل حماد فاروقی) چترال کی تاریح میں پہلی بار علاقہ ورڈب کی خواتین اپنی حق کیلئے احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئیں۔ تحصیل دروش کے مضافات میں گاؤں ورڈب کے لوگوں نے خواتین، شیر خوار بچوں، بوڑھوں سمیت اوسیک پل پر احتجاجی دھرنا دیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس جدید دور میں بھی ان کے لوگ بجلی اور پینے کی صاف پینے جیسے نعمت سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں گولین کے مقام پر 106میگا واٹ کا پن بجلی گھر مکمل ہوچکا ہے جس سے وافر مقدار میں بجلی چترال سے باہر اضلاع میں بھی فراہم کی جاتی ہے مگر چراغ تلے اندھیرا کے مصداق پر گاؤں ورڈب کے سینکڑوں مکین اس بجلی سے ابھی تک محروم ہیں۔ 

اس کے علاوہ اس گاؤں میں پینے کی صاف پانی ابھی تک کوئی منصوبہ نہیں ہے اور لوگ دریا کا گندا پانی پینے پرمجبور ہیں جس سے وہ گردوں اور دیگر موذی امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔ دروش کے سماجی کارکن حاجی انذر گل نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ گاؤں ورڈب میں گوجر، پٹھان، چترالی اور محتلف قوموں کے لوگ رہتے ہیں مگر ان کو ابھی تک بجلی سے محروم رکھا گیا ہے۔ 

مظاہرین میں ایک خاتون کا کہنا ہے کہ اندھیروں کی وجہ سے ان کے بچے رات کو پڑھائی نہیں کرسکتے اور گرمیوں میں نہ صرف گرمی سے ہم پریشان ہیں بلکہ اکثر ہمارے بچوں کو بچھو بھی ڈستے ہیں کیونکہ اس علاقے میں کالے بچھو بہت زیادہ ہیں۔ 

ایک دوسری خاتون نے کہا کہ یہاں پینے کا صاف پانی بھی نہیں ہے اور دریائے چترال سے گندا پانی مٹکوں میں سروں پر پہاڑی علاقے میں آباد اپنے گھروں کو چڑھاتے ہیں جس سے ان کے گردے حراب ہورہے ہیں اور بچے متعدد بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔ 

مظاہرین کے ساتھ تحصیل دروش کے محتلف سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے یکجہتی کے طور پر شرکت کی۔ سماجی کارکن اکمل بھٹو کا کہنا ہے کہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے رعایا کو بجلی، سڑک، پانی ، تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرے مگر اس جدید دور میں بھی ورڈب کے لوگ بجلی سے محروم ہیں۔ 

یونین کونسل ناظم عمران الملک نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ واحد یونین کونسل ہے جہاں ابھی تک بجلی اور پانی نہیں ہے او ر اس جدید دور میں بھی یہاں کے لوگ اندھیروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ 

ارشاد مکرر کا کہنا ہے کہ منتحب نمائندوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے ووٹرز کو بنیادی سہولیات فراہم کرے۔ 

اس سلسلے میں ہمارے نمائندے نے پشاور الیکٹریسٹی سپلائی کمپنی (پیسکو) کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر محمد امجد خان سے فون پر رابطہ کرکے ان سے پوچھا کہ ابھی تک یہ علاقہ بجلی سے محروم کیوں رہا ان کا کہنا تھا کہ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر چترال ہمیں تحریری طور پر لکھے گا تو ہمارا ٹیم جاکر اس کا تحمینہ لگائیں گے اس کے بعد ڈی سی چترال صوبائی یا مرکزی حکومت کی فنڈ سے پیسکو کو مطلوبہ رقم ادا کرے گا تو ہمار ٹیم اس علاقے میں بجلی کے کھنبے اور ٹرانسفارمر لگائیں گے۔ 

مظاہرین کے کیمپ کا دروش کے اسسٹنٹ کمشنر عبدالولی خان نے بھی دورہ کرکے ان کے ساتھ مذاکرات کی اور ان سے دس دن کی مہلت مانگی۔ مظاہرین نے اس شرط پر اپنا احتجاج حتم کرنے کا عندیہ دیا کہ اگر ان کو دس دن میں بھی بجلی نہیں ملی تو پھر وہ بڑے پیمانے پر احتجاج کریں گے۔ احتجاجی مظاہرہ میں کثیر تعداد میں خواتین کے علاوہ، بچوں ، بوڑھو، مرد نے بھی شرکت کی۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں