اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

17 اپریل، 2019

ہیٹ ویو سے اموات : آغا خان یونیورسٹی اسپتال اور امریکی جان ہاپ کنز یونیورسٹی کا تعاون بھی شامل، آگہی سیمنار میں مشترکہ تحقیق پیش کی گئی

 

ہیٹ ویو سے اموات : آغا خان یونیورسٹی اسپتال اور امریکی جان ہاپ کنز یونیورسٹی کا تعاون بھی شامل، آگہی سیمنار میں مشترکہ تحقیق پیش کی گئی




کراچی میں ہیٹ ویو سے اموات پر امن فاؤنڈیشن کے اشتراک سے تحقیق مکمل


کراچی، 17 اپریل، 2019۔ امن ہیلتھ کیئر سروسز (اے ایچ سی ایس) کے اشتراک سے آغا خان یونیورسٹی کراچی اور امریکی جان ہاپ کنز یونیورسٹی نے ہیٹ اسٹڈی کامیابی سے مکمل کرلی ہے۔ اس سلسلے میں امن فاؤنڈیشن کے اشتراک سے اس مشترکہ تحقیقاتی پروجیکٹ میں ان وجوہات کا جائزہ لیا گیا ہے جس کی مدد سے انتہائی شدید گرمی سے رونما ہونے والی اموات میں کمی لائی جاسکے۔ 

ہیٹ ایمرجنسی ایویئرنس اینڈ ٹریٹمنٹ (ہیٹ) کا آغاز 4 سال قبل کراچی میں گرمی کی انتہائی شدید لہر کے آنے کے بعد ہوا جس نے صحت عامہ کی ایمرجنسی کو ہلا کر رکھ دیا اور ، اس جان لیوا گرمی میں 1200 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ تحقیق ایسے موقع پر پایہ تکمیل تک پہنچی ہے کہ جب رواں سال ماہرین نے اس بات پیشنگوئی کی ہے کہ سال 2015 کے مقابلے میں موجودہ سال میں زیادہ گرمی ہوگی۔ 


یہ تحقیقی پروجیکٹ آغا خان یونیورسٹی، جان ہاپ کنز یونیورسٹی، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور امن فاؤنڈیشن کے محققین پر مشتمل تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ گھروں کی سطح پر ہیٹ ایمرجنسی کی روک تھام و متاثرین کے علاج جبکہ اسپتالوں کے ایمرجنسی شعبہ جات میں کم خرچ اقدامات کے لئے مختلف حکمت عملیاں تیار کرکے ان پر عمل درآمد کیا جائے ۔ اس تحقیق کے اہم حقائق کو پالیسی سازی کا حصہ بنانے کے لئے پیش کیا گیا ہے۔ 

امن فاؤنڈیشن کے سی ای او مجاہد خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، "دنیا میں موجودہ موسمیاتی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر ممکن حد تک صورتحال سے آگہی رکھنا انتہائی اہم ہے تاکہ ہم اپنے خطے میں متعلقہ صورتحال سے باخبر رہ سکیں۔ آغا خان یونیورسٹی اور جان ہاپ کنز کے ساتھ اشتراک یہ ایک اہم قدم ہے اور ہم پرامید ہیں کہ مقامی لوگوں کو اس سے یقینی فائدہ پہنچے گا۔" 

تقریب میں مقررین نے ہیٹ ایمرجنسی سے نمٹنے کی تربیت پر زور دینے، اسپتالوں کو پہلے سے اطلاعات کی فراہمی کے ذریعے ضروری سامان کی دستیابی کو یقینی بنانے اور مختلف ذرائع سے معلومات کی فراہمی سے عوامی آگہی پیدا کرنے کے ساتھ مختلف پالیسی ساز تجاویز پیش کیں۔ 




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں