اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

2 مئی، 2019

صاد ق اللہ صادق کی لکھی ہوئی کتاب، ہردی پھت: کی تقریب رونمائی۔ تقریب ضلع کونسل ہال میں منعقد ہوا

 

صاد ق اللہ صادق کی لکھی ہوئی کتاب، ہردی پھت: کی تقریب رونمائی۔ تقریب ضلع کونسل ہال میں منعقد ہوا




چترال (گل حماد فاروقی) انجمن ترقی  کھوار کے زیر اہتمام ضلع کونسل ہال میں صادق اللہ صادق کی لکھی ہوئی کتاب: ہردی پھت: کی رونمائی  کی  تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر معروف ماہر تعلیم پرنسپل ریٹائرڈ مکرم شاہ مہمان حصوصی تھے جبکہ تقریب کی صدارت  پروفیسر ریٹائرڈ  اسرار الدین نے کی۔ کھوار یعنی چترالی زبان میں لکھی  ہوئی کتاب  ہردی پھت کی تقریب رونمائی میں ادباء، شعراء، اساتذہ، وکلاء اور سماجی کارکنان  نے اظہار حیال کرتے ہوئے کہا کہ صادق اللہ صادق کی کتاب ہر لحاظ سے ایک بہترین کتاب ہے اس میں نہایت سبق آموز  نظمیں لکھی گئی ہیں جبکہ اس کے جواں  سال بیٹے فہیم کی المناک موت کی یاد میں مرثئے بھی لکھے گئے ہیں جو ڈاکٹر کی غفلت کی وجہ سے جاں بحق ہوا تھا۔ 

مقررین نے کہا کہ اس کتاب میں نوجوان نسل کیلئے بہت نصیحت آموز مواد موجود ہیں اور اگر آج کا نوجوان ان نصیحتوں پر عمل کرے تو کبھی بھی گمراہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی صادق اللہ نے تین کتابیں لکھی ہیں۔
تقریب سے  پروفیسر اسرار الدین، مکرم شاہ، عبد الولی ایڈوکیٹ،  یوسف شہزاد  سابق انفارمیشن آفیسر، ظفراللہ پرواز،  عنایت اللہ اسیر، ذاکرا للہ زحمی اور ظہیر الدین وغیرہ اظہار حیال کیا۔ 

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے صاد ق اللہ صادق نے بتایا کہ  اس سے پہلے بھی اس کی دو کتابیں  شائع ہوچکی ہیں جس میں بچے کی پرورش اور پیاری ماں کے موضوع پرلکھی گئی ہیں اس میں موجودہ دور میں معاشرتی حرابیوں کی نشان دہی کی گئی ہے اور اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ 

مکرم شاہ نے کہا کہ پاکستان میں ضم ہونے سے پہلے ریاستی دور میں مہتران چترال اس قسم کے  ادبی اور ثقافتی تنظیموں کی سرپرستی کرتے تھے  مگر آج کل نہیں ہے اور حکومت  کو چاہئے کہ اس قسم کے ادبی تنظیموں کے ساتھ بھر پور مدد کرے۔ 

سماجی کارکن عنایت للہ اسیر کا کہنا ہے کہ پہلے یہاں کا انتظامیہ اور حکمران بھی ادبی تنظیموں کے ساتھ مدد کرتے تھے مگر آج کل کچھ بھی نہیں ہے، چترال کی مثالی امن کا راز یہاں کا ثقافت اور محصوص تہذیب میں ہے جو آج کل ناپید ہورہی ہے۔ 

اس موقع پر ماہرین نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اپنے کھوار ثقافت کی تحفظ کرے ورنہ لواری ٹنل کھلنے کے  بعد ہماری ثقافت پر باہر سے آئی ہوئی ثقافت یلغار کا حطرہ ہے۔ تقریب رونمائی میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں