اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

15 مئی، 2019

مڈل ایسٹ کو جنگ میں جھونکنے کی کوشش : امریکی بمبار طیاروں کے اسکواڈرن قطر پہنچ گئے مقصد ایران پر حملے کی تیاریاں ہیں

مڈل ایسٹ کو جنگ میں جھونکنے کی کوشش : امریکی بمبار طیاروں کے اسکواڈرن قطر پہنچ گئے مقصد ایران پر حملے کی تیاریاں ہیں



واشنگٹن (ویب ڈیسک) مڈل ایسٹ کو جنگ میں جھونکنے کی کوشش ہورہی ہے۔ امریکی بمبار طیاروں کے اسکواڈرن قطر پہنچ گئے مقصد ایران پر حملے کی تیاریاں ہیں۔ امریکا نے غیر مخصوص ایرانی دھمکیوں کے تناظر میں اپنے بی باون بمبار طیاروں کو خطے میں تعینات کر دیا ہے۔ ان ہوائی جہازوں کا یہ 20 واں اسکواڈرن امریکی ریاست لْوئزیانا کی بارکس ڈیل ایئر فورس بیس سے قطر پہنچا۔ اس سے قبل امریکا اپنا ایک طیارہ بردار جنگی بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن بھی ممکنہ ایرانی اقدامات کے تناظر میں مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کر چکا ہے۔ 

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ان بمبار طیاروں کا ایک اسکواڈرن خلیجی ریاست قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے پر پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔ ان جنگی طیاروں کو قطری دارالحکومت دوحہ کے جنوب مغرب میں واقع العدید ایئر بیس پر کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے رکھا جا رہا ہے۔ ان ہوائی جہازوں کا یہ 20 واں اسکواڈرن امریکی ریاست لْوئزیانا کی بارکس ڈیل ایئر فورس بیس سے قطر پہنچا۔ 

اس سے قبل امریکا اپنا ایک طیارہ بردار جنگی بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن بھی ممکنہ ایرانی اقدامات کے تناظر میں مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کر چکا ہے۔دریں اثناء مصر کی نہر سویز اتھارٹی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مشرقِ اوسط میں طیارہ بردار بحری بیڑے ابراہام لنکن کو نہر سویز سے گزرنے والے ایرانی بحری جہاز وں کی ’سدِّ راہ‘ اور ان پر نظر رکھنے کے لیے بھیجا ہے۔

امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے ا ایک بیان میں کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کی دھمکیوں اور پریشان کن اشاروں کے ردِعمل میں طیارہ بردار بحری بیڑے کو مشرقِ اوسط میں لنگر انداز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سے امریکا یہ بھی ظاہر کردے گا کہ وہ کسی بھی حملے کا تباہ کن طاقت سے جواب دے گا۔

ایران نے امریکا کے طیارہ بردار بحری جہاز کو خطے میں بھیجنے کے اعلان کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک پرانی خبر ہے اور اس کو ایک نفسیاتی حربے کے طور پر نئے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں