اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

23 مئی، 2019

چترال: ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں کئی دنوں سے پڑی ہوئی گندی (میڈیکل واسٹ) صحت مند لوگوں کی بیماری کا بھی باعث بنتا ہے۔


چترال: ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں کئی دنوں سے پڑی ہوئی گندی صحت مند لوگوں کی بیماری کا بھی باعث بنتا ہے۔



گندگی میں پڑی ہوئی استعمال شدہ سیرنچ اور سوئی حطرناک بیماریاں پھیلانے کا باعث بنتا ہے۔ 

چترال (گل حماد فاروقی) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال تعفن اور گندگی کی ڈھیر کا منظر پیش کرتا ہے۔ ہسپتال کے احاطے میں پچھلے دس دنوں سے یہ گند پڑی ہوئی تھی جس سے نہ صرف مریضوں کو سخت مشکلات کا سامانا کرنا پڑتا ہے اس کی بدبوں سے لوگ نالاں تھے بلکہ ان مریضوں کے تیمارداروں اور ہسپتال میں آنے والے صحت مند لوگوں کی بیماری کا باعث بنتا ہے۔ 

درجہ چہارم یونین کے صدر محمد الیاس کا کہنا ہے کہ ہم نے بار بار تحصیل میونسپل انتظامیہ کو فون کیا کہ وہ آئے اور یہ گند اٹھائے مگر وہ یہ بہانہ کرتے ہیں کہ گند اٹھانے والا مزدا بازار کے صدر کے پاس ہے۔ ہمارے نمائندے نے جب تحصیل میونسپل آفیسر نصیر قادر کو فون کرکے بتایا تو انہوں نے فوراً مزدا روانہ کیا تاکہ ہسپتال میں پڑی ہوئی گند اٹھائے۔ 

ہسپتال میں ایک مریض کو لانے والے شحص نے بتایا کہ اس گندگی اور اس کے پھیلے ہوئے بدبو سے عام لوگوں کو بھی حطرہ ہے اور ان کو بھی بیماری لاحق ہوسکتی ہے۔ 

مگر ستم بالائے ستم یہ کہ اس گند میں وہ استعمال شدہ سیرنچ اور سوئیاں بھی پڑی تھی جس سے حطرناک بیماریاں پھیلنے کا حدشہ ہے جس میں ہیپا ٹائٹس اور ایڈز بھی شامل ہیں۔ اس کی تصدیق ہستپال کے ایکٹنگ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شیدا نے بھی کی۔ جب ان کے نوٹس میں یہ بات لائی گئی تو انہوں نے فورا ایکشن لیا اور تمام وارڈوں کا معائنہ کرنے لگا مگر اتفاق سے مین ایمرجنسی وارڈ میں ان سیرنجوں کو ضائع کرنے والا کٹر مشین ہی موجود نہیں تھا تاہم دیگر وارڈوں میں یہ کٹر مشین موجود تھے یا پھر رکھوائے گئے۔ 

اس سلسلے میں تاجر یونین کے صدر شبیر احمد سے جب رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا ہے کہ ہم ٹی ایم اے کا مزدا ہسپتال سے گند اٹھانے کیلئے رضاکارانہ طور پر بھیجا کرتے تھے مگر ہسپتال والوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس گند کو ضائع کرنے والے انسنیریٹر مشین کو ٹھیک کرے اور جو حراب ایمبولنس گند اٹھانے کیلئے استعمال کرتے تھے اسے کام میں لائے۔ 

مسئلہ گاڑی کی نہ ہونے یا مشین کی حرابی کی نہیں ہے مسئلہ ہمارے اندر ایمانداری، اخلاص اور اپنے پیشے سے وفاداری کی کمی کی ہے اگر ہمارا قوم اپنا کام صرف دس فی صد ایمانداری کے ساتھ بھی کرے تو نہ تو ہسپستال میں کوئی گند نظر آئے گا اور نہ عوام مسائل سے دوچار ہوں گے اگر ہمارے اندر کمی ہے تو صرف ایمانداری اور احلاص کی کمی ہے۔ ورنہ چھوٹے چھوٹی مسائل ہم خود بھی حل کرسکتے ہیں۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں