اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

25 مئی، 2019

چترال کے خوبصورت وادی کیلاش رمبور کے بلان کور و گاؤں میں پچھتر سالہ شیر محمد کیلاش کا انتقال ہوگیا

 

چترال کے خوبصورت وادی کیلاش رمبور کے بلان کور و گاؤں میں پچھتر سالہ شیر محمد کیلاش کا انتقال ہوگیا۔ کیلاش رسم و رواج کے مطابق تین دن تک جشن منانے کے بعد اسے دفنایا جائے گا۔

چترال
(گل حماد فاروقی) وادی کیلاش رمبور کے بلان کورو گاؤں میں شیر محمد کیلاش عمر 75 سال وفات پاگیا۔ جو کافی عرصہ سے بیمار تھا۔ کیلاش رسم و رواج کے مطابق کیلاش قبیلے کے لوگ پنے میت پر تین دن تک رسم مناتے ہیں مگر سوگ نہیں مناتے ہیں۔ 

کیلاش لوگ عام طور پر اپنے میتوں پر جشن مناتے ہیں خواتین رنگین کپڑے پہن کر ڈھولک کی تھاپ پر رقص پیش کرتی ہیں، گیت گاتی ہیں اور نوجوان اور بوڑھے افراد بھی روایتی رقص پیش کرتے ہیں۔ کیلاش لوگ اپنے میت پر بیس، پچاس یا جو امیر شحص ہو سو بکرے بھی ذبح کراتے ہیں مگر یہ بکرے مسلمانوں سے ذبح کراتے ہیں تاکہ وادی میں مقیم مسلمان بھائی بھی اس گوشت کو کھا سکے۔ 

کیلاش لوگ میت کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اس کے گھر کے افراد مثلا! بیوی، بیٹی میت کے پاس چارپائی پر بیٹھ کر روتی ہیں جبکہ باقی لوگ گیت گا کر رقص پیش کرتے ہیں اور ڈھول بجاتے ہیں۔ 

میت کے سر پر پڑی ہوئی ٹوپی میں روپوں کے نوٹ بھی رکھتے ہیں جن میں پچاس، سو، پانچ سو اور ہزار روپے کا نوٹ بھی ہوتا ہے اور ساتھ ہی خشک اور تازہ پھل بھی رکھتے ہیں یہاں تک کہ نسوار اور سگریٹ بھی رکھتے ہیں تاکہ میت کے آحرت کے سفر میں یہ چیزیں کام آسکے۔ 

مرد کے میت پر تین دن اور عورت کے موت پر ایک دن رسم مناتے ہیں مگر عورت کے موت پر کم بکرے ذبح کرتے ہیں اور ہوائی فائرنگ بھی نہیں کرتے مگر مرد کے موت پر تین دن جشن مناتے ہیں، اور سو تک بکرے بھی ذبح کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی دیسی گھی، پنیر، دہی، اور کھانا بھی لوگوں کو پیش کیا جاتا ہے۔ 

آحری دن اپنے میت کو دفناتے وقت ہوائی فائرنگ بھی کرتے ہیں اور اس کے روزمرہ کے استعمال کی چیزیں بھی اس کے ساتھ تابوت میں رکھ کر دفناتے ہیں ماضی میں اس کے ساتھ بندوق بھی رکھا جاتا تھا۔ 

شیر محمد کیلاش کا بھی میت کا رسم دو دن تک مسلسل منایا جائے گا اور تیسرے دن اسے سپرد خاک کیا جائے گا۔ اپنی نوعیت کی اس انوکھی اور عجیب و غریب رسم کو دیکھنے کیلئے اکثر باہر سے بھی سیاح آتے ہیں۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں