اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

22 مئی، 2019

غیر ملکی سیاحوں پر NOC کی پابندی حتم ہوتے ہی بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاحوں کی چترال آمد، غیر ملکی سیاح چترال کے بازاروں میں گھومتے آتے ہیں

غیر ملکی سیاحوں پر NOC کی پابندی حتم ہوتے ہی چترال میں غیر ملکی سیاحوں کا تانتا بند گیا۔ کثیر تعداد میں انگریز چترال کے بازاروں میں گھومتے پھرتے ہیں۔ 



چترال (گل حماد فاروقی) نائن الیون سے پہلے چترال میں سالانہ ہزاروں غیر ملکی سیاح آیا کرتے تھے جس سے سیاحت کو فروغ ملتی اور علاقے کے لوگوں کی معیشت پر نہایت اچھے اثرات پڑتے لوگوں کو آسانی سے مزدوری ملتی کیونکہ ان سیاحوں کے ساتھ مقامی لوگ گائڈ کے طور پر کام کیا کرتے تھے مگر نائن الیون کے بعد ان سیاحوں کی آمد کا سلسلہ بند ہوگیا جس سے نہ صرف یہاں کے ہوٹل بند ہوگئے بلکہ دکانداروں کی روزگار پر بھی کافی منفی اثرات پڑ گئے۔ 

اس کے بعد آہتہ آہستہ غیر ملکی سیاح یہاں آنا شروع ہوگئے مگر ان کو پابند کیا گیا کہ وہ اجازت نامہ لے یعنی No Objection Certificateاور اس اجازت نامہ کے حصول ایک لمبی چوڑی مشکل کام تھا مگر اس کے باوجود مقامی انتظامیہ ان کے ساتھ کئی کئی پولیس والے ڈیوٹی پر لگایا کرتے تھے جس سے انگریز لوگ نہایت تنگ آیا کرتے تھے اور وہ خود کو یرغمال محسوس کرتے۔ اس کے علاوہ کسی بھی غیر ملکی سیاح کو وادی کیلاش میں رات گزارنے کی اجازت نہ ہوتی اور شام ڈھلے واپس چترال آتے جس سے وادی کیلاش کے ہوٹل ٹھپ ہوکر رہ گئے۔ اور تو اور صحافی حضرات بھی وادی کیلاش، بروغل اور دیگر سرحدی علاقوں میں این او سی کے بغیر کوریج نہیں کرسکتے تھے جس سے اس پسماندہ علاقے کی سیاحت کو حاطر حواہ پذیرائی نہیں ملی اور یہاں کی سیاحت تباہی کے کنارے کھڑا ہوا۔ 

موجودہ وفاقی حکومت نے ان غیر ملکی سیاحوں پر اجازت نامہ یعنی NOC کی شرط حتم کردی تو اب چترال میں کثیر تعداد میں غیر ملکی سیاحوں کا آنا شروع ہوگیا۔ چترال بازار میں فرانس سے آئے ہوئے کثیر تعداد میں سیاحوں نے مقامی چیزوں میں کافی دلچسپی کا اظہار کیا اور یہاں کے ہاتھوں سے بنے ہوئے چیزوں کو خریدنے لگا۔ 

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے ٹور آپریٹر ناصر حسین نے اس قدم کو نہایت سراہا اور اسے نیک شگون قرار دیا تاہم ان کا کہنا ہے کہ اب بھی بہت سارے اداروں کو معلوم نہیں ہے کہ ان غیر ملکی سیاحوں پر اجازت نامہ کی پابندی حتم ہوچکی ہے مثال کے طور پر وہ فرانس کا ایک گروپ گلگت سے چترال لارہا تھا تو شندور پر سیکورٹی حکام کو یہ پتہ نہیں تھا کہ ان پر پابندی حتم ہوچکی ہے اور وہ اب وہ آزادی سے گھوم پھر سکتے ہیں۔ 

فرانس سے آئے ہوئے چند سیاحوں نے ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں آکر بہت خوشی محسوس کرتے ہیں اور یہاں کے ثقافت، سیاحت اور قدرتی مناظر سے بہت محظوظ ہوئے۔

ہمارے نمائندے نے جب ان غیر ملکی سیاحوں سے سوال پوچھا کہ مغربی میڈیا میں پاکستان کے حلاف نہایت منفی پراپیگنڈہ پھیلا جارہا ہے کہ پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے تو ان کا جواب تھا کہ وہ ساارا پراپیگنڈا غلط ہے اور پاکستان ایک پر امن ملک ہے یہاں کے لوگ نہایت مہمان نواز اور امن پسند ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان غیر ملکی سیاح نے دنیا بھر کے سیاحوں کو دعوت دی کہ وہ ضرور پاکستان اور چترال آئے اور چترال میں وادی کیلاش کی پرامن ماحول اور محصوص ثقافت سے ضرور لطف اندوز ہو۔ 

غیر ملکی سیاحوں نے مقامی لوگوں کی مہمان نوازی سے متاثر ہوکر پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی لگائے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں