اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

4 جون، 2019

چترال کے بالائی علاقے کے لوگوں نے محکمہ تعلیم کو 10دن کی ڈیڈ لائن دی۔ اگر دس دن میں سکول کو دی جانے والے زمین کے مالک کو ملازمت نہیں دی گئی تو سکول کو تالہ لگائیں گے۔

 

چترال کے بالائی علاقے کے لوگوں نے محکمہ تعلیم کو 10دن کی ڈیڈ لائن دی۔ اگر دس دن میں سکول کو دی جانے والے زمین کے مالک کو ملازمت نہیں دی گئی تو سکول کو تالہ لگائیں گے۔



چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے بالائی علاقے کوشت میں علاقے کے لوگوں نے ایک دوسرے سکول میں مالک جائداد کو نوکری نہ ملنے پر احتجاجی کیمپ لگایا ہے۔ گورنمنٹ پرائمری سکول کوشت نمبر 2 کیلئے جس شحص نے زمین مفت فراہم کی تھی اس وقت اس کو نوکری دی گئی تھی مگر اس کا عمر پچاس سال تھا اور دس سال بعد 60 سال پورا ہونے پر ریٹائر ہوا۔ 



اہالیان برومکاغ، شحورندہ، خلفاندہ اور جمڑاندہ نے ایک پر امن احتجاجی مظاہرہ بھی گورنمنٹ پرائمری سکول کوشت نمبر ۲ کے سامنے کیا اور میں سڑک بھی بند رکھا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اسی سکول کیلئے علاقے کے ایک شحص شمس القادر نے سڑک کے کنارے نہایت قیمتی زمین (کمرشل) سکول کیلئے مفت فراہم کی جس کی قیمت چالیس لاکھ روپے بنتی تھی اس شرط پر کہ اسی سکول میں اسے ملازمت دی جائے۔ اس وقت محکمہ تعلیم نے اسے نوکری تو دے دی مگر اس کا عمر ملازمت کے وقت پچاس سال تھا اور یہی وجہ ہے کہ دس سال بعد وہ ملازمت سے ریٹائر ہوا کیونکہ اس کا عمرساٹھ سال پورا ہوا۔ 

اس کے بعد اسی پوسٹ کیلئے اس کے بیٹے سیف احمد نے درخواست دی مگر محکمہ تعلیم کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے اس کا حق اس سے چھین کر اس کی جگہہ سفارشی بنیاد پر اعزاز علی ولد سید وکیل شاہ کو تقر ر کیا جو معذور بھی ہے اور اس علاقے کا باشندہ بھی نہیں ہے۔ 

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے ان مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر دس جون تک مالک جائداد کو نوکری نہیں ملی تو وہ مجبوراً نہ صرف سکول کو تھالہ لگائیں گے بلکہ اپنے بچوں کو بھی اسی سکول سے نکال کر کسی دوسرے سکول میں داحل کرائیں گے اور یوں اس سکول کا عمارت حالی رہے گا۔ اس سلسلے میں ہمارے نمائندے نے ایک بار پھر ڈسٹرکٹ ایجوکیش آفیسر سے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی مگر اس سے رابطہ نہ ہوسکا۔ 

واضح رہے کہ علاقہ کوشت میں پیر کے روز گورنمنٹ پرائمری سکول موژ دیہہ کیلئے جس شحص نے زمین مفت فراہم کی تھی جس میں ملازمت بھی نذیر احمد کا حق بنتا تھا مگر اسکی جگہہ اسرار احمد کو تقرری کا لٹر تھماکر اسی سکول میں اسے بھیج دیا۔ اس سلسلے میں ہمارے نمائندے نے صوبائی وزیر تعلیم ضیاء اللہ بنگش سے بھی بات کی تھی جس نے یقین دہانی کرائی تھی کہ لینڈ اوونر یعنی مالک جائداد کے ساتھ کسی قسم کی حق تلفی نہیں ہوگی مگر اس کے باوجود زمین کے مالک کو اس کے حق سے محروم کرکے یہ ملازمت کسی اور شحص کو دی گئی۔ جس پر علاقے کے لوگ سراپا احتجاج ہیں اور انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ وہ اس سکول میں کسی اور شحص کو ملازمت کرنے نہیں دیں گے ورنہ وہ سکول کو تھالہ لگاکر اپنا جائداد واپس قبضے میں لیں گے


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں