اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

28 جون، 2019

ملک چلانے کے لئے سب ٹیکس دیں، پاکستان کو ایسا ملک بنائیں گے جہاں ریاست کمزور لوگوں کی ذمہ داری لے گی، وزیراعظم ہاؤس کا 35 کروڑ کا خرچہ کم کیا: عمران خان

 

ملک چلانے کے لئے سب ٹیکس دیں، پاکستان کو ایسا ملک بنائیں گے جہاں ریاست کمزور لوگوں کی ذمہ داری لے گی، وزیراعظم ہاؤس کا 35 کروڑ کا خرچہ کم کیا: عمران خان 


اسلام آباد(آئی این پی)وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم پاکستان کوایساملک بنائیں گے جہاں ریاست کمزورلوگوں کی ذمہ داری لیگی، میں نے وزیراعظم ہائوس کا35 کروڑروپے کاخرچہ کم کیاہے'میں اپنے گھرمیںرہتاہوں،سارے اخراجات خودبرداشت کرتاہوں،ملک کوچلانے کیلیے سب کوٹیکس دینا چاہیے، بجٹ میں کوشش کی ہے غریب اورکاروباری طبقے کوفائدہ پہنچایاجائے،ملک کوقرضوں سے نجات دلائیں گے بس تھوڑا مشکل وقت ہے، ٹیکس نظام میں جدیدٹیکنالوجی متعارف کرائیں گے،مشکل حالات کے باوجوداحساس پروگرام کیلیے90ارب روپے کااضافہ کیا،جب تک پیسے اکٹھے نہیں کریں گے معاشی مسائل حل نہیں ہوں گے،ایک سیاستدان نے اپنے نوکروں کے نام پردبئی میں5گھرلیے ہیں،اگر30جون کے بعداضافہ دیاتولوگ سمجھیں گے کہ ایک اوراسکیم آئیگی،قوم اورحکومت مل کرملک کومعاشی بحران سے نکالاجاسکتاہے، کوشش کریں گے ایف بی آرمیں پوری طرح ریفارمزلائیں، اگراب بھی اقدام نہیں اٹھایاگیاتوقرضے مزیدبڑھیں گے ،حکومت نے بھی اخراجات میں کمی کی ہے،عوام سوچتے ہیں کہ ٹیکس کیوں دیں،یہ چوری ہوجائیگا،یہ ہم پرخرچ نہیں ہوگا، اگرکسی کاپیسہ باہرہے اوروہ ذرائع نہیں بتاسکتاتویہ منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتاہے،اثاثے30جون سے پہلے رجسٹرکرائیں،اگر30جون کے بعد ایمنسٹی سکیم مدت بڑھائی تولوگ سمجھیں گے کہ ایک اوراسکیم آئیگی،ایف بی آرمیں ریفارمزکرکے ٹیکس کولیکشن کوبہتربنائیں گے ۔پیر کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ چھوٹی انڈسٹری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے اسے ہماری پالیسیوں سے بہت نقصان پہنچا ہے لیکن ہماری پالیسیوں سے غریب عوام کو اور بزنس کلاس کو فائدہ ہوگا ، اگر ہم نے قرضہ واپس کرنا ہے تو ہمیں پہلے دولت بنانا ہوگی تا کہ لوگوں کو نوکریاں دیں ، ریونیو بنے ، ہم نے دونوں طبقوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے تا کہ کل ہماری ایسی حالت نہ ہو جیسی اب ہے ، آج ہم قرضوں کی قسطیں دینے کیلئے مزید قرضہ لے رہے ہیں ، ترکی نے بھی اصلاحات کیں ، صرف ایک سال ان کیلئے مشکل تھا لیکن بعد میں وہ ترقی کرتا رہا اسی لئے ہم خرچے کم کر کے آمدنی بڑھا رہے ہیں ، مشکل وقت ضرور آئے گا لیکن پاکستان کے پاس بہت نعمتیں ہیں یہ بہت ترقی کرے گا ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں جو اب اقدامات ہوئے تاریخ میں کبھی نہیں کئے گئے ، ہماری کوشش ہے کہ تاجر اور حکومت مل کر ساتھ ساتھ چلیں ، آپ ہمیں اپنی مشکلات بتائیں ہم اس کو آسان کریں گے ، تیس سالوں میں جو لیڈر شپ آئی وہ خود بزنس کلاس سے تھی ،انہوں نے ایسے اقدامات کئے جس سے ا نہیں فائدہ ہوا، میرا اصلاحات میں کوئی مفاد نہیں نہ میں تاجر ہوں نہ کوئی مرا رشتہ دار ہے ، میرا بزنس ہے نہ ہی مجھے کسی دوست کی فکر ہے ، میں صرف پاکستان کا سوچ رہا ہوں ، اگر مجھے ملک کی بہتری کیلئے سفارشات دیں میں آپ کے ساتھ چلوں گا ۔


انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے اس کا صحیح اندازہ تب ہوا جب ہم حکومت میں آئے ، آج جتنا ہم پانی لگا کر کاشت رہے ہیں چین اتنے ہی پانی سے ہم سے تین گنا زیادہ پیداوار لے رہا ہے ، ہماری گائے 6کلو دودھ اوسطاً دیتی ہے جبکہ چین کی گائے اوسطاً24کلودودھ دیتی ہیں ، اگرہم ان ہی شعبوں میں ترقی کریں تو ہم کہاں سے کہاں پہنچ جائیں گے ، ہم نے بچت کی شروعات اپنے سے کی ،وزیراعظم سیکرٹریٹ کا35کروڑ روپے کا خرچہ کم کیا ہے ، میں اپنے گھر میں رہتا ہوں اپنا خرچہ خود ادا کرتا ہوں ،میرای کوئی کیمپ آفس نہیں ، سارے بل میں خود ادا کرتا ہوں ، میری تنخواہ سے میرے گھر کا خرچہ بھی پورا نہیں ہوتا میں نے اپنے سے شروع کیا ہے، میں نے ایسا کوئی دورہ نہیں کیا جس سے میری قوم کو فائدہ نہ ہو جبکہ مجھے برطانیہ سمیت کئی ملکوں سے دوعت تھی میں اپنی قوم کا پیسہ خرچ نہیں کروں گا جب تک میری قوم کو فائدہ نہیں ہوگا ، یہی سوچ میں پوری حکومت میں نیچے تک لائوں گا ، ہم نے ایف بی آر کو مکمل طور پر بدلنا ہے اس میں اصلاحات لائیں گے ، میں اس کی ذمہ داری لی ہے کہ میں نے اور شبر زیدی نے اسے ٹھیک کرنا ہے ، ایف بی آر سے لوگوں جو جو خوف ہے اسے ہم نے ختم کرنا ہے ، لوگوں کو یہ احساس ہو کہ یہ ہمارے دشمن نہیں ، انشاء اللہ ٹھیک ہوگا ، ہم خیرات سب سے زیادہ لیکن ٹیکس سب سے کم دیتے ہیں ۔ہم اس ملک کو فلاحی ریاست بنائیں گے ، اوورسیز پاکستانیوں سمیت جو پاکستان میں موجود ہیں انہیں ہم نے احساس دلانا ہے کہ ان کا ٹیکس عوام پر ہی خرچ ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ میرے سارے اثاثے ڈکلیئر ہیں ، میں نے 25سال کرکٹ کھیلی ، میرا سارا پیسہ بینک کے ذریعے پاکستان آیا۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنی انڈسٹری کو اپنے پائوں پر کھڑا کر رہے ہیں اس کیلئے ہمیں سمگلنگ کو روکنا ہوگا ، بارڈر کے علاقوں میں ہم سمگلنگ کو روکیں گے اور ان کیلئے نیا ذریعہ معاش متعارف کرائیں گے ۔ ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی زندگی آسان کریں ، اثاثے ظاہر کریں تا کہ کل آپ پر مشکل وقت نہ آئے ، اگر کسی کی بے نامی جائیداد ثابت ہوئی تو ہم اسے ضبط کریں گے ۔




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں