اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

15 جون، 2019

چترال کے وکلاء کا عدالتوں کابائکاٹ۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے حق میں ریلی نکالی گئی، احتجاجی جلسہ بھی منعقد ہوا۔

چترال کے وکلاء کا عدالتوں کابائکاٹ۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے حق میں ریلی نکالی گئی، احتجاجی جلسہ بھی منعقد ہوا۔


چترال (گل حماد فاروقی) پاکستان بار کونسل اور خیبر پحتون خواہ بار کونسل کے کال پر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے اراکین نے  جسٹس فائز عیسیٰ کے ساتھ یکجہتی کے طور پر عدالتوں سے بائکاٹ کرکے احتجاجی جلسہ کیا۔ اس سلسلے میں ایک ریلی بھی نکالی گئی  اور چترال کے وکلاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر پکر تھے جس پر محتلف نعرے درج تھے۔ چترال کے وکلاء برادری نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف بے بنیاد اور نام نہاد ریفرنس  کے حلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ کونسل کے سامنے سڑک پر جلسہ بھی کیا جس کی صدارت خورشید حسین مغل صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن چترال کر رہے تھے۔ 

جلسہ میں وکلاء برادری کے علاوہ کثیر تعداد میں سول سوسائٹی کے  افراد نے بھی شرکت کی۔  جلسہ سے رکن خیبر پحتون خواہ بار کونسل  عبد الولی خان ایڈوکیٹ، صدر  خورشید حسین مغل ایڈوکیٹ، نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ،ایم آئی خان سرحدی ایڈوکیٹ وغیرہ نے  خطاب کیا۔  جلسہ میں متفقہ طور پر ایک قرارد داد منظور کی گئی  کہ ججز کے حلاف نام نہاد  اور بے بنیاد ریفرنس فوراً واپس لیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ججز کے حلاف ریفرنس واپس نہیں لیا گیا تو چترال بار کونسل مکمل  ہم آہنگی کے ساتھ  پاکستان بار کونسل اور  صوبائی بار کونسل  کے فیصلہ جات کو آئندہ بھی مکمل طور پر مان کر ان کی پیروی کریں گے اور اس تحریک کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے بعد میں شرکاء جلسہ پر امن طور پر منتشر ہوئے۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں