اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

2 جون، 2019

چترال کے بالائی علاقے کوشت موژ دیہہ کے خواتین، بچوں اور بوڑھو ں نے بھی مردوں کے ساتھ محکمہ تعلیم اور ایم پی اے کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا

 

چترال کے بالائی علاقے کوشت موژ دیہہ کے خواتین، بچوں اور بوڑھو ں نے بھی مردوں کے ساتھ محکمہ تعلیم اور ایم پی اے کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا


چترال: مظاہرین کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم نے ایم پی اے کے کہنے پر سکول کیلئے مفت زمین دینے والے شحص کو نوکر ی سے محروم کرکے اپنے من پسند شحص کو یہ نوکری دی ہے۔ 

چترال جب تک ہمیں اپنا حق نہ ملے ہم احتجاجی دھرنا جاری رکھیں گے خواتین کی تنبیہ۔

چترال(گل حمادفاروقی) چترال کے بالائی علاقے کوشت موژ دیہہ میں علاقے کے خواتین اور مردوں نے گورنمنٹ پرائمری سکول موژ دیہہ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا ہے۔ ان مظاہرین کا کہنا ہے کہ اسی گاؤں میں سکول کیلئے علاقے کے ایک شحص رحمت خان نے اس شرف پر مفت زمین دی تھی کہ اس میں درجہ چہارم کی ملازمت ان کو دی جائے گی۔ رحمت خان کو نوکری مل گئی مگر جب وہ پنشن پر چلا گیا تو اس نوکری کا حق اس کے بیٹے نذیر احمد کا بنتا ہے مگر محکمہ تعلیم نے اسی پوسٹ پر اسرار احمد کو بھرتی کیا جو نہ اس علاقے کا ہے اور نہ اس نے سکول کیلئے کو ئی مفت زمین دی ہے۔ 

نذیر احمد کا کہنا ہے کہ میرے والد نے اسی شرط پر یہ زمین محکمہ تعلیم کو سکول کیلئے مفت دی تھی کہ یہ نوکری اس کے حاندان میں رہے گا مگر اب محکمہ تعلیم نے یہ نوکری من پسند شحص کو دی ہے اس نے اعلے ٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ اسے اس کا حق دلوایا جائے۔ 






عزیز الرحمان جو اسی سکول کا انچارج ہے اس نے بھی تصدیق کرلی کہ گزشتہ سات مہینوں سے اس سکول میں چوکیدار نہیں آیا ہے جس سے ان کو نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

اس احتجاجی کیمپ میں بیٹھی ہوئی رضیہ بی بی نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ ہمارے چا چا رحمت خا ن نے محکمہ تعلیم کو مفت زمین دی تھی تاکہ اس سکول میں نوکری اس کے حاندان کو دی جائے مگر ابھی یہاں کسی اور کو بھرتی کیا گیا ہے اور اس بے انصافی کے حلاف ہم احتجاج کرتی ہیں۔ 

شبنم بی بی بھی اسی احتجاجی کیمپ میں بیٹھی ہوئی ہے کہ ہمارے چا چا رحمت نے ایک جیرب زمین محکمہ تعلیم کو سکول کیلئے مشروط طور پر دیا تھا کہ ان کو نوکری مل جائے مگر اب محکمہ تعلیم نے یہ نوکری کسی اور کو دی ہے۔ 

غلام سرور اس علاقے کا ایک سماجی کارکن ہے اس نے الزام لگایا کہ یہ مسئلہ رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان نے پیدا کیا ہے کیونکہ انہوں نے کئی سکولوں میں اپنے من پسند لوگوں کو بھرتی کیا ہے اور اصل حقداروں کو حق سے محروم کیا گیا ہے۔انہوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے فوری تبادلے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور اس کے ساتھ احتساب کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایم پی اے نے اپنے ایک رشتہ دار عنایت الرحمان کو DEO کے دفتر میں لگایا ہے جس کے ذریعے وہ اپنا کام نکالتا ہے مگر اسی کلرک پر کئی بار شکایات بھی سامنے آئے ہیں۔ 

مرسلین اس علاقے کا یونین کونسل کا ناظم ہے اس کا کہنا ہے کہ پچھلے تین چار دنوں سے یہ خواتین، بچے اور بوڑھے اور مرد حضرات احتجاجی دھرنے میں بیٹھے ہیں جس سے ہمارے علاقے کے حالات کشیدہ ہورہے ہیں یہ لوگ مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے اور جس شحص نے سکول کیلئے بغیر کسی ادائگی کی مفت زمین فراہم کی ہے اسے اور اس کے بعد اس کے بیٹے کو یہ نوکری دلوایا جائے۔ 

اس موقع پر علاقے کے خواتین و حضرات نے نعرہ بازی کی اور محکمہ تعلیم اور تبدیلی سرکار پر بھی تنقید کی۔ 

ہمارے نمائندے نے MPA ہد ایت الرحمان اور محکمہ تعلیم کے ضلعی آفیسر سے ان کا موقف جاننے کی کیلئے بارہا کوشش کیا مگر ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔ 

علاقے کے لوگ وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ، محکمہ تعلیم کے ارباب احتیار کے ساتھ ساتھ اعلےٰ عدلیہ سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ جس شحص نے اس سکول کیلئے مفت زمین فراہم کی ہے تو اس سکول میں ملازمت کا حق بھی اسی کا بنتا ہے لہذا اس کے بیٹے نذیر احمد کو چوکیدار کے پوسٹ پر بھرتی کرکے علاقے میں پیدا ہونے والے کشیدگی کو حتم کیا جائے۔ 

مظاہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان کو ان کا حق نہیں ملا تو وہ سکول کو تھالہ لگائیں گے جس سے بچوں کا مستقبل تاریکی میں پڑے گا۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں