اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

25 جون، 2019

تین معذور بچوں کے بوڑھے باپ کی زمین پر با اثر شخص قابض، زمین پر سکول بناکر نوکری دینے کی شرط پر لی گئی تھی، لیکن اب تک نہ تنخواہ ملی نہ زمین واپس ہوگئی: متاثرہ شخص کی چیف جسٹس اے اپیل

تین معذور بچوں کے بوڑھے باپ کی زمین پر با اثر شحص کا قبضہ۔ زمین اس شرط پر لی گئی تھی کہ سکول میں مجھے نوکری دی جائے گی گزشتہ چھ ماہ سے نہ تنخواہ دے رہاہے نہ زمین حالی کرتا ہے۔ چیف جسٹس سے انصاف کی اپیل



چترال (گل حماد فاروقی)چترال کی دور آفتادہ علاقہ سیاہ آرکاری میں ایک ضعیف شحص جس کے تین بچے معزور ہیں ان کی زمین پر با اثر شحص نے قبضہ کیا ہے۔ معذور شحص کے زمین پر سکول اس شرط پر بنائی تھی کہ اسے ملازمت دی جائے گی۔ گزشتہ چھ ماہ سے نہ تو اسے تنخواہ دی گئی نہ زمین کو واہگزار کیا۔ 

تفصیلات کے مطابق دور آفتادہ علاقہ سیاہ آرکاری کے رہایشی پنین خان ولد ماخان زار نے مقامی صحافیوں کو بتایاکہ آرکاری میں میلیم ماڈل سکول MMS کیلئے اس نے ایک ایکڑ زمین مفت فراہم کی۔ زمین اس شرط پر حوالہ کیا کہ اسے ماہوار 8000 تنخواہ دی جائے گی۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سکول کے پرنسپل نے زمین کے مالک کا تنخواہ بھی بند کیا اورجس زمین پر یہ سکول تعمیر ہوا ہے اس کے عوض اسے دوسرا زمین دینے سے بھی انکاری ہے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ مقامی مصالحتی جرگہ میں یہ مقدمہ فیصلہ نہ ہوسکا۔ پنین خان کا کہنا ہے کہ اس کے بیٹے اور بیٹیاں سب گونگے اور معذور ہیں اور آسانی سے چل پھر بھی نہیں سکتے بلکہ ان کو سہارے کی ضرورت پڑتی ہے تو بلا ایسے معذور لوگ اس بااثر شحص کے حلاف کیسے کوئی کاروائی کرسکے گا

انہوں نے مزید کہا کہ سکول کے پرنسپل میر حکیم نے سکول کو بھی کامیاب نہ کرسکا اس میں بچوں کی تعداد بھی روز بہ روز کم ہورہی ہے۔ پنین خان کا کہنا ہے کہ اس نے بار ہا میر حکیم سے گزارش کی کہ یا تو وہ اسے حسب معاہدہ تنخواہ دیا کرے یا میرے زمین پر جو سکول تعمیر کیا ہے اس کے بدلے میں مجھے دوسرا زمین دے۔ 

پنین خان کے ساتھ اس کے دو معذور بیٹے اور ایک معذور بیٹی بھی موجود تھی جو نہ تو بول سکتے ہیں نہ آسانی سے چل پھر سکتے ہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ اور عمران خان سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ایک ضعیف اور معذور شحص ہے اس کے بچے بھی معذور ہے اور یہ زمین اس نے ان معزور بچوں کے نام کیا تھا تاکہ ان کی بری وقتوں کا سہار ا بن سکے مگر میر حکیم نامی با اثر شحص نے اس پر قبضہ جمایا ہوا ہے اور معاہدے کی حلاف ورزی کرتے ہوئے اسے تنخواہ نہیں دے رہا ہے۔ 

ہمارے نمائند ے نے میر حکیم سے رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی تاکہ ان کا موقف بھی جان سکے مگر اس کے ساتھ رابطہ نہ ہوسکا۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں