اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

30 جولائی، 2019

کے الیکٹرک کی غفلت اور لاپرواہی سے 16 سے زائد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے: پاسبان

 

کے الیکٹرک کی غفلت اور لاپرواہی سے 16 سے زائد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے: پاسبان


  • جان لیوا سانحات کی ذمہ داری حکومت سندھ، سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اورکے الیکٹرک پر عائد ہوتی ہے: عبدالحاکم قائد
  •  تمام نااہل افسران اور گھروں میں بیٹھے تنخواہیں وصول کرنے والے ملازمین کو نکال باہر کیا جائے
  • کرنٹ لگنے کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دیا جائے 


کراچی  (پریس ریلیز)  پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے صدر عبدالحاکم قائد نے طوفانی بارشوں سے ہونے والی تباہی اور کرنٹ لگنے کے باعث 16سے زائد افراد کی موت کا ذمہ دار حکومت سندھ، سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور کے الیکٹرک کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور کا ملک کے بڑے شہروں باالخصوص کراچی اور لاہور کو میگا سٹی کا درجہ دینے کے مطالبے پر عمل کیا جاتا تو باران رحمت عوام کے لئے زحمت نہ بنتی بلکہ عوام بارشوں کا مزا لے رہے ہوتے اور کسی ایمرجنسی یا ہنگامی حالت کی ضرورت پیش نہ آتی۔طوفانی بارشوں کی پیشگی اطلاع کے باوجود ندی نالوں کی صفائی نہیں کی گئی،۔صرف شہر کی بیرونی سڑکوں اوروزراء اور وی آئی پیز کی گزر گاہوں کو صاف کیا گیا مگر شہر کی اندرونی سڑکوں اور گلیوں میں کچروں کا ڈھیر جمع رہا۔کے الیکٹرک کی غفلت اور لاپرواہی سے کئی افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے،جبکہ اکثرعلاقوں میں پاسبان کے ضلعی،ٹاؤنز،یوسی،یونٹ صدور الرٹ رہے اور اپنی مدد آپ کے تحت صحت و صفائی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ طوفانی بارشوں کے بعد کی صورتحال پر اگراب بھی کنٹرول نہ کیا گیا تو شہر کی صورتحال مزید گھمبیر ہوجائے گی، مختلف وبائی امراض جنم لیں گے اور ان جان لیوا سانحات کی ذمہ داری حکومت سندھ، سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اورکے الیکٹرک پر عائد ہوگی۔ وہ شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے پاسبان کے علاقائی ذمہ داران،ورکرز اور شہریوں سے ملاقات میں گفتگوکررہے تھے۔ اس موقع پر پاسبان کراچی کے جنرل سیکریٹری سردار ذوالفقار بھی ان کے ہمراہ تھے۔عبدالحاکم قائد نے کہا کہ حکومت اور انتظامی اداروں میں بر وقت کام کرنے کی عادت نہیں۔ اس لئے ہمیشہ جب طوفانی بارشیں سر پر منڈلا رہی ہوتی ہیں تو حکومت اور ادارے آپس میں لڑنا اور ایک دوسرے پر ذمہ داریوں کا الزام ڈالنا شروع کر دیتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام اداروں میں ایسے تمام نااہل افسران اور گھروں میں بیٹھے تنخواہیں وصول کرنے والے ملازمین کو نکال باہر کیا جائے جو اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں کوتاہی کے مرتکب ہورہے ہیں۔کرنٹ لگنے کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دیا جائے اوربارشوں کے اختتام پر پورے شہر میں ہنگامی بنیادوں پر مچھرو مکھی مار دوؤں ا کا اسپرے کیا جائے۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں