اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

22 جولائی، 2019

پیڈو آئندہ چار سالوں میں 214 میگاواٹ کے 5 ہائیڈیل منصوبوں کو پائیہ تکمیل تک پہنچائے گا، چترال میں 11 اور 69 میگاواٹ کے منصوبے بھی شال ہیں

 

پیڈو آئندہ چار سالوں میں 214 میگاواٹ کے 5 ہائیڈیل منصوبوں کو پائیہ تکمیل تک پہنچائے گا، چترال میں 11 اور 69 میگاواٹ کے منصوبے بھی شال ہیں



اسلام آباد (ٹائمزآف چترال نیوز 22 جولائی 2019)  پختونخواہ انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پی ای ڈی او) پیڈو آئندہ چار سالوں میں 214 میگاواٹ کے 5 ہائیڈیل منصوبوں کو پائیہ تکمیل تک پہنچائے گا، چترال میں 11 اور 69 میگاواٹ کے منصوبے بھی شال ہیں۔ چترال میں دروش کے قریب لوائی کے مقام پر بننے والا بجلی 69 میگاواٹ کی صلاحیت کا حامل ہے۔ اس کے علاوہ لوئر دیر میں کوٹو کے مقام پر 40 میگاواٹ، شانگلہ، کارورا میں 11 میگاواٹ، مانسہرہ جبوری میں 10 میگاواٹ، سوات، متلٹان 84 میگاواٹ شامل ہیں۔

تین منصوبے 2020 میں مکمل ہونگے باقی منصوبے 2022 تک مکمل کر لئے جائیں گے۔ ان منصوبوں پر کام سال 16-2015 کے مالی سال میں ہوا تھا۔ پیڈو اس وقت کل 108 میگاواٹ کے بجلی گھروں کو چلا رہا ہے۔ جن میں ملاکنڈ 81 میگا واٹ، پیہور صوابی 18 میگاواٹ، شیشی کوہ چترال 1.8 مگاواٹ اور چترال ریشن 4.2 مگاواٹ کے بجلی گھر شامل ہیں۔ ان بجلی گھروں کو سال 2002 سے 2007 اور 2008 - 2013 کے دوران ایم ایم اے ، اور اے این پی - پی پی پی اتحادی حکومت تعمیر کیا تھا۔  

ان بجلی گھروں سے نہ صرف ملک میں بجلی کی کمی پوری کرنے میں مدد مل رہی بلکی ان سے صوبے کو سالانہ 2.5 بلین آمدن بھی ہوتا ہے۔

تحریک انصاف کے دور حکومت میں پیڈو نے 3 بجلی گھر تعمیر کئے ہیں جن کی پیداواری صلاحیت 56 میگاواٹ ہے اور یہ 36.6 میگاواٹ درال سوات، 17 میگاواٹ رانولیا، کوہستان اور 2.6 میگاواٹ مچائی مردان شامل ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت 356 چھوٹے پن بجلی گھروں تعمیر کئے ہیں جن میں  سے 277 مکمل ہوچکے ہوئے اور ان بجلی گھروں سے 90 ہزار کے قریب گھر بجلی سے مستفید ہورہےہیں۔ 

ورلڈ بینک صوبے میں 179  میگاواٹ کی صلاحیت کے 3 منصوبوں کے لئے فنڈ فراہم کر رہا ہے ۔ جن میں 47 میگاواٹ باریکاٹ پیٹرک، دیر، 22 ​​میگاواٹ پیٹرک شنگرال دیر، 110 میگاواٹ گبرال کالام، سوات شامل ہیں۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں