اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

20 جولائی، 2019

پاکستان پر پاکستانی عوام نہیں، بین الاقوامی طاقتوں کی حکمرانی ہے؛ پانچواں بڑا ذخیرہ ہے، مالیت 3 ٹریلین ڈالرز ہے، معاہدہ ملک و قوم کے ساتھ بھونڈا مذاق ہے : الطاف شکور

پاکستان پر پاکستانی عوام نہیں، بین الاقوامی طاقتوں کی حکمرانی ہے؛  پانچواں بڑا ذخیرہ ہے، مالیت 3 ٹریلین ڈالرز ہے، معاہدہ ملک و قوم کے ساتھ بھونڈا مذاق ہے : الطاف شکور



کراچی (پریس ریلیز) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ پاکستان پر پاکستانی عوام نہیں بلکہ بین الاقوامی طاقتوں کی حکمرانی ہے، ریکوڈک دنیا کا پانچواں بڑا ذخیرہ ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کی مالیت 3 ٹریلین ڈالرز ہے،یہ معاہدہ پاکستان اور پاکستانی عوام کے ساتھ ایک انتہائی بھونڈا اور ظالمانہ مذاق ہے ۔ ممتاز مہر معاشیات ، پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی اکنامک افیئرز ڈویژن کی وائس چیئرمین اور پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے کہا ہے کہ بین الاقوامی عدالت کی جانب سے عائد کردہ جرمانے کی ادائیگی پاکستان کیسے کر سکتا ہے؟یہ نقصان پاکستان کی معیشت کو معذور بنانے کے مترادف ہے۔پاکستان کی ٹیکسٹائل اور برآمداتی بزنس کو ان مسلسل حملوں کے نتیجے میں مسلسل پریشانیوں کا سامنا ہے، یہ ایک باقاعدہ، منظم اور سوچی سمجھی سازش ہے کہ پاکستان کی معیشت کو بالکل تباہ کردیا جائے۔ممتاز ماہر قلب اور پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی پولیٹیکل اسٹریٹیجی کے وائس چیئرمین ڈاکٹر ابو بکر شیخ نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی نوعیت کا حامل اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے، ہمیں ICSID کا رکن نہیں بننا چاہیے۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف آرگنائزر انجینئر اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ ریکوڈک معاہدے کا جرمانہ اور مقدمہ لڑنے والے وکلاءکی فیس کی ایک ایک پائی قومی خزانے سے نہیں معاہدہ کرنے والوں سے وصول کی جائے اس لئے کہ یہ معاہدہ اور اس کی شرائط ہرگز ملک کے مفاد میں نہیں تھیں۔ممتاز ماہر قانون آدم سنگھار ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے پاکستان کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔اس معاملے پرسیاسی کمیشن بنانے کے بجائے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی بزنس مین فورم کے صدر وسیم الدین شیخ نے کہا ہے کہ بین الاقوامی تجارتی کمپنیوں کے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر عمل در آمد قومی اسمبلی، سینیٹ اور کابینہ میں پیش ہونے کے بعد ہونا چاہیے تا کہ ا ملک کے مفاد کے خلاف کوئی خفیہ ڈیلنگ نہ ہو سکے۔وہ جمعرات کو کراچی پریس کلب میں پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے زیر اہتمام بین الاقوامی عدالت کے ریکوڈک معاہدہ فیصلے پر رد عمل اور ملک کو درپیش معاشی مسائل کے خاتمے کے سلسلے میں اہم اور مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔تفصیلات کے مطابق پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا کہ پاکستان گذشتہ 25 سالوں سے تانبے، سونے اور دوسرے نادر معدنی ذخائر اور قیمتی دھاتوں کی کھدائی میں ریکوڈک معاہدے میں بین الاقوامی طاقتوں کے ہاتھوںمسلسل لوٹ کھسوٹ کا شکار ہے جبکہ پاکستان کو اس سے کچھ بھی وصول نہیں ہوپا رہا۔ پاکستان میں موجود یہ دنیا کا پانچواں بڑا ذخیرہ ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کی مالیت 3 ٹریلین ڈالرز ہے۔ ٹیتھیان کوپر کمپنی(Tethyan Copper Company) TCCکے ساتھ کئے گئے اس معاہدے میں پاکستان کو صرف 2 فیصد رائلٹی دی گئی اور 25 فیصد حصص JV کمپنی میں فراہم کئے گئے۔ 1993 میں معین قریشی کو صرف اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے وزیر اعظم بنا کر بھیجا گیا تھا۔ یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ پاکستان پر پاکستانی عوام نہیں بلکہ بین الاقوامی طاقتوں کی حکمرانی ہے۔ اس معاہدے کو ایک عام آدمی بھی پڑھ کر با آسانی سمجھ سکتا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان اور پاکستانی عوام کے ساتھ ایک انتہائی بھونڈا اور ظالمانہ مذاق ہے۔

یہ بات ایک بار پھر ثابت ہوگئی ہے کہ اسرائیل پاکستان کی ترقی و خوشحالی نہیں چاہتا کیوں کہ TCC کے پیچھے دراصل اسرائیل ہی تما م معاملات کو کنٹرول کر رہا ہے۔ یہ معاہدہ کرنے والی حکومت میں شامل تمام لوگ یا تو اپنے حواسوں میں نہیں تھے یا پھر غدار اور لٹیرے تھے جنہوں نے اس کے ذریعے پاکستان کے مستقبل کو داﺅ پر لگا دیا۔ اس معاملے میں سرمایہ کاری کے تنازعے کے حل کے لئے بین الاقوامی مرکز میں اس کیس کو صحیح طور پر نہیں لڑا گیا۔اس لئے اب تمام معاملے کی شفاف تحقیقات کروا کے پاکستانی عوام کے سامنے درست حقائق لائے جائیں اور ملوث تمام افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے کہا کہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنا ہماری معیشت کی تباہی کی جانب پہلا قدم تھا جس کے سبب ہماری آمدنی کا ایک بڑا حصہ برآمدات اور آئی ایم ایف کے قرضے کی سخت شرائط کے سبب نقصان کی صورت میں برآمد ہو رہا ہے اور اب بین الاقوامی عدالت کی جانب سے ریکو ڈک کیس میں پاکستان پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے۔پاکستان اور ٹیتھیان کوپر کمپنی کے مابین کئے گئے معاہدے میں پاکستان کا حصہ صرف دو فیصد تھاتوبین الاقوامی عدالت کی جانب سے عائد کردہ جرمانے کی ادائیگی پاکستان کیسے کر سکتا ہے؟یہ نقصان پاکستان کی معیشت کو معذور بنانے کے مترادف ہے۔پاکستان کی ٹیکسٹائل اور برآمداتی بزنس کو ان مسلسل حملوں کے نتیجے میں مسلسل پریشانیوں کا سامنا ہے، یہ ایک باقاعدہ، منظم اور سوچی سمجھی سازش ہے کہ پاکستان کی معیشت کو بالکل تباہ کردیا جائے۔ٹیتھیان کوپر کمپنی کاکہنا ہے کہ انہوں نے پاکستانی حکام کو رشوت دی ہے۔ہم یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ رشوت خور حکام اپنی رقم سمیت ملک سے باہر فرار ہو چکے ہیں، اس معاملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیئں، لوٹی ہوئی رقوم واپس لانے میں غیر ملکی حکام ہماری مدد کریں۔عدالت کے باہرٹیتھیان کوپر کمپنی سے کسی بھی قسم کا تصفیہ کرنا پاکستان کے حق میں نہ ہو گا، اس معاہدے کے نقصانات کو موجودہ حکومت نے محسوس نہ کیا تو پاسبان عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے سے گریز نہیں کریں گے۔ممتاز ماہر امراض قلب ڈاکٹر ابو بکرشیخ نے ICSID ( International Center For Settlement of Investment Disputes) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ سیاسی نوعیت کا حامل اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ 

ورلڈ بینک تیسری دنیا کے ممالک کے ساتھ ملٹی نیشنل کارپوریشنز کے تنازعوں میں ملٹی نیشنل کارپوریشنز کی ہی حمایت کرتا ہے۔ انڈیا کی طرح پاکستان کو بھی ICSID کا رکن نہیں بننا چاہیے ، یاد رہے کہ برازیل اور ساﺅتھ افریقہ اس کے اراکین نہیں ہیں۔پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف آرگنائزراقبال ہاشمی نے کہا کہ ریکوڈک معاہدے کا جرمانہ اور مقدمہ لڑنے والے وکلاءکی فیس کی ایک ایک پائی قومی خزانے سے نہیں معاہدہ کرنے والوں سے وصول کی جائے اس لئے کہ یہ معاہدہ اور اس کی شرائط ہر گز ملک کے مفاد میں نہیں تھیں۔ ممتاز ماہر قانون آدم سنگھار ایڈووکیٹ نے کہا کہ ریکوڈک کا فیصلہ اس بات کی تصدیق ہے کہ ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے پاکستان کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔اس معاملے پرسیاسی کمیشن بنانے کے بجائے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور ملوث تمام مہدیداروں اورذمہ داروں کے خلاف تادیبی کارروائی کر کے انہی سے 6 ارب ڈالرز کا جرمانہ نکلوایا جائے ۔ پاسبان ڈیمو کریٹک پارٹی بزنس فورم کے صدر وسیم الدین شیخ نے کہا کہ بین الاقوامی تجارتی کمپنیوں کے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر عمل در آمد قومی اسمبلی، سینیٹ اور کابینہ میں پیش ہونے کے بعد ہونا چاہیے تا کہ ملک کے مفاد کے خلاف کوئی خفیہ ڈیلنگ نہ ہو سکے ۔ اس سلسلے میں ادائیگی ڈالرز کے بجائے روپوں میں کی جائے، قانون پاس کیا جائے کہ پیچیدگی یا تنازعات کی صورت میں فیصلہ پاکستانی عدالتوں میں ہوگا۔ انڈیا اور سری لنکا تمام لین دین اپنی لوکل کرنسی میں کرتے ہیں ہم بھی ایسا ہی کریں ۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ باہر کی کمپنیوں سے صرف تیکنیکی معاونت لی جائے گی کیوں کہ ہمارے پاس کاریگروں، انجینئرزاور ماہرین کی کوئی کمی نہیں ہے#


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں