اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

19 جولائی، 2019

چترال وادی گولین میں سات جولائی کو تباہ کن سیلاب کی وجہ سے سڑکوں، پلوں، بجلی گھر کے ساتھ ساتھ پینے کی پانی کی پوری پائپ لائن بھی تباہ۔ 35ہزار آبادی پینے کی صاف پینے سے تاحال محروم۔

 

چترال وادی گولین میں سات جولائی کو تباہ کن سیلاب کی وجہ سے سڑکوں، پلوں، بجلی گھر کے ساتھ ساتھ پینے کی پانی کی پوری پائپ لائن بھی تباہ۔ 35ہزار آبادی پینے کی صاف پینے سے تاحال محروم۔




چترال (گل حماد فاروقی) جنت نظیر وادی گولین گول سات جولائی کو جو گلیشیر پھٹنے کے بعد تباہ کن سیلاب آیا تھا اس نے تمام وادی کی انفراسٹرکچر صفحہ ہستی سے مٹادیا۔ وادی کو جانے والی سڑک اور اس پر تعمیر چار پُل بھی تباہ ہیں۔ مقامی لوگوں نے دریا پر پائپ اور بجلی کے کھنبے رکھ کر عارضی گزرگاہ بنایا ہے جس کے ساتھ ایک رسی کو بھی باندھا گیا ہے تاکہ گزرنے والے لوگ اس رسی کو پکڑے تاکہ دریا میں گرنے سے بچ جائے۔ 

اس وادی میں پینے کی صاف پانی کی متعدد قدرتی چشمے ہیں جس سے چترال کے محتلف علاقوں کو کروڑوں روپے کی لاگت سے پائپ لائن کے ذریعے یہ پانی پہنچایا گیا ہے مگر حالیہ تباہ کن سیلاب کی وجہ سے یہ پائپ لائن بھی مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے جس میں ابھی پانی کا گزرنا نہایت مشکل ہے جب تک اسے دوبارہ بحال نہ کیا جائے۔ 

محکمہ پبلک ہیلتھ کے زیر نگرانی گولین گول واٹر سپلائی سکیم کے نام سے 36 کروڑ روپے کی لاگت سے چترال ٹاؤن کو پینے کی پانی کا پائپ لائن لایا گیا تھا جس پر ہمارے نمائندے نے اس وقت بھی میڈیا کے ذریعے حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ اس پائپ لائن کو بچانے کیلئے اس کے گرد حفاظتی دیوار تعمیر کیا جائے اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجنیرنگ کے ایگزیکٹیو انجنیر نے بھی حکام بالا کو تحریری طور پر لکھا تھا کہ اس کی حفاظت بہت ضروری ہے مگر محکمے کے ارباب احتیار ٹس سے مس نہ ہوئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ یہ پائپ لائن سیلاب میں بہہ گیا۔

اس واٹر سپلائی سکیم کی بحالی کیلئے محکمہ پبلک ہیلتھ کے ایگزیکٹیو انجنیر محمد یعقوب اور سکیم کے ٹھیکدار حاجی محبوب اعظم نے بھی دورہ کیا تاکہ واٹر سپلائی سکیم جلد سے جلد دوبارہ بحا ل کیا جاسکے۔ 

ایکسین محمد یعقوب نے بتایا کہ یہ 13 دیہات کو اور ٹاؤن میں چالیس ہزار آبادی کو بلا ناغہ روزانہ یہ پانی جارہا تھا۔ یہ دو کیوسک ڈسچارج دے رہا ہے اور ہمیں ڈیڑھ کیوسک ضرورت ہے یہ 47کلومیٹر دور تک یہ پانی جارہا ہے۔ تین ہزار فٹ پائپ ہمارا سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوچکا ہے جس میں ہم نے ایک ہزار فٹ پائپ دریا سے نکالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ٹھیکدار سے درخواست کی ہے کہ وہ ادھار پر یہ پائپ لائن بحال کرے کیونکہ ان کے پاس فنڈ نہیں ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ عید سے پہلے پہلے یہ سکیم دوبارہ بحال کرے۔ اس کے علاوہ ہمارا پانچ سکیمیں تباہ ہوچکی ہیں جن پر تیزی سے کام ہورہا ہے اور ہم بہت جلد ان کو بحال کررہے ہیں۔ 

مگر مشکلات یہ ہے کہ سڑک مکمل تباہ ہے۔ تمام پُل سیلاب کی وجہ سے حتم ہوچکے ہیں اور ہماری مشینری موقع پر نہیں پہنچ سکتا۔ 

حاجی محبوب اعظم نے بتایا کہ چونکہ پانی کی فراہمی ثواب کا کام ہے تو مجھے محکمہ پبلک ہیلتھ کے ذمہ دار نے کہا تھا کہ اسے بحال کرے اسی دن سے ہم اس پر کام کررہے ہیں مگر راستہ نہیں ہے اگر سڑک بن جائے تو ہم بھاری مشنری یہاں پہنچائیں گے اور کام جلد مکمل ہوگا مگر سب سے بڑا رکاوٹ ہے راستے کا نہ ہونا۔ 

واضح رہے کہ وادی گولین میں سات جولائی کی سیلاب نے تباہی مچائی ہے ابھی تک 108 میگا واٹ بجلی گھر بھی بند ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق واپڈا کو روزانہ آٹھ کروڑ روپے نقصان اٹھانا پڑتا ہے مگر اسکے باوجود واپڈا والے ٹس سے مس نہیں ہوتے اور اپنے پانی کی تالاب تک راستہ نہیں بناتے تاکہ پانی کی فراہمی بحال ہوسکے اور بجلی گھر کو پانی دیکر اسے دوبارہ چلایا جائے۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں