اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

11 جولائی، 2019

ریستوران اور بیکریاں ایف بی آر کے ریڈار پر آگئے، ایف بی آر نے آمدنی جانچنے کے لئے کیشن کاؤنٹر پرسافٹ ویئر لگانے کا فیصلہ کرلیا

 

ریستوران اور بیکریاں ایف بی آر کے ریڈار پر آگئے، ایف بی آر نے آمدنی جانچنے کے لئے کیشن کاؤنٹر پرسافٹ ویئر لگانے کا فیصلہ کرلیا 



کراچی (این این آئی) شہر قائد کے ریستوران اور ہوٹلز بھی ایف بی آر کے ریڈار پر آگئے، ایف بی آر نے ان کی آمدنی جانچنے کے لیے کیش کائونٹر پر جدید سافٹ ویئر انسٹال کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق عوام سے سیلز ٹیکس وصول کرکے منافع خوری کرنے والے ریسٹورنٹس کی نگرانی کے لیے جدید سافٹ ویئر سسٹم استعمال کیا جائے گا، ایف بی آر نے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کی نگرانی کے لیے ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں کے بلنگ اور کیش سسٹم سے منسلک سافٹ ویئر کراچی کے ہوٹلوں اور ریستورنوں میں انسٹال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یکم جولائی سے ریسٹورنٹ اور بیکریوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کرکے 7.5 فیصد کردی گئی ہے تاہم ریسٹورنٹس اور بیکریوں نے یہ کمی عوام کو منتقل کرنے کے بجائے قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ 

اس سے قبل بھی ریسٹورنٹس عوام سے 17 فیصد سیلز ٹیکس اور صوبائی ٹیکسز وصول کرتے رہے ہیں لیکن انہیں قومی خزانے میں جمع نہیں کرایا۔اب ایف بی آر نے سیلز ٹیکس کے اعداد و شمار مرتب کرنے کے لیے یومیہ بنیادوں پر ریسٹورنٹس کی سیلز کا ڈیٹا مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے جدید سافٹ ویئر استعمال کیا جائے گا۔ اس طرز کا سافٹ ویئر اسلام آباد کے ہوٹلوں میں بھی استعمال کیا جارہا ہے جس سے بہتر نتائج حاصل ہوئے ہیںذرائع نے بتایا کہ اس تجربہ کو کراچی میں بھی دہرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان لائن مینجمنٹ سافٹ ویئر سے ریسٹورنٹس کی ٹیکس چوری روکنے میں مدد ملے گی۔ ایف بی آر کا مینجمنٹ سافٹ ویر ریسٹورنٹس کے کمپیوٹرز میں انسٹال ہوگا۔ایف بی آر حکام کے مطابق سافٹ ویر تنصیب سے اصل فروخت پر صحیح ٹیکس کا اندازہ ہوگا، ٹیکس چوری کرنے والے ریسٹورنٹس کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے 600 سرفہرست ریسٹورنٹس کی فہرست مرتب کرلی گئی ہے جن سے فروخت کا ڈیٹا حاصل کرنے کے ساتھ ان ہوٹلوں بیکریوں اور ریستورانوں کو مرغی، گوشت، سبزیاں، مسالہ جات اور دیگر لوازمات سپلائی کرنے والے سپلائرز کا بھی ڈیٹا حاصل کیا جائے گا تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جاسکے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں