اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

14 جولائی، 2019

میرے بیٹے کا مفت علاج کروانے پر آرمی چیف کا شکریہ۔ چترال میں بھی فوجی فاوئنڈیشن ہسپتال قائم کیا جائے صوبیدار ریٹائرڈ شہاب الدین

 

میرے بیٹے کا مفت علاج کروانے پر آرمی چیف کا شکریہ۔ چترال میں بھی فوجی فاوئنڈیشن ہسپتال قائم کیا جائے صوبیدار ریٹائرڈ شہاب الدین




چترال(نامہ نگار) چترال کے تاریحی قصبے دروش کے ریٹائرڈ صوبیدار شہاب الدین نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور کور کمانڈر پشاور لفٹنٹ جنرل شاہین مظہر محمود کا ایک خبری کانفرنس میں شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان کے معصوم بچے کے پکار پر لبیک کہہ کر ان کا مفت علاج کروایا۔ شہاب الدین نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ میرے معصوم بیٹے محمد عثمان کا انگلی ٹوٹ چکی تھی جسے دروش ہسپتال لے گیا تھا مگر وہاں اس کا علاج صحیح نہ ہوسکا بلکہ الٹا مزید خراب ہوگیا بعد میں اسے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال بھی لایا مگر یہاں بھی کوئی آرتھوپیڈک (ہڈیوں کا ڈاکٹر) نہ ہونے کی وجہ سے اس کا علاج نہ ہوسکا۔

بعد میں اسے پشاور لے گیا جہاں آرتھوپیڈک سرجن نے انکشاف کیا کہ اس کا غلط علاج ہوا ہے اور بچے کی معذور ہونے کا حطرہ ہے۔ اس کے بعد میں نے چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس بھی کیا جہاں سپیشل برانچ کے اہلکار بھی بھیٹے تھے مگر اس پریس کانفرنس کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا جس پر میں نے پریس کلب کے اراکین کو شکوہ بھی کیا کہ انہوں نے پیسے تو مجھ سے لے لئے مگر کوریج نہیں ہوئی۔

شہاب الدین نے بتایا کہ بعد میں، میں نے فری لانس صحافی (گل حماد فاروقی) کو بلایاجو پریس کلب کا رکن نہیں ہے اور میں نے اس کے ساتھ پریس کانفرنس کرکے چیف آف آرمی سٹاف اور کور کمانڈر پشاور سے اپیل کی تھی کہ وہ میرے بیٹے کا سی ایم ایچ پشاور میں مفت علاج کرائے۔ 

شہاب الدین نے کہا کہ اس وقت میری خوشی کی انتہا ء نہ رہی جب میری پریس کانفرنس نشر ہونے کے بعد تھوڑی ہی دیر بعد مجھے ایک میجر صاحب نے فون کرکے کہا کہ فوری طور پر دروش چھاؤنی پہنچ جائے اور بچے کو بھی ساتھ لائے۔ 

شہاب الدین نے بتایا کہ میں نے اپنے بیٹے عثمان کو بھی میجر صاحب کے پاس لے گیا جہاں ان کی تصاویر لی گئی اور اسے الیون کور کو بھجودی گئی ساتھ ہی مجھے ہدایت کی گئی کہ فوری طور پر بچے کو لیکر CMH ہسپتال پشاور پہنچے۔ ان کاکہنا ہے کہ جب میں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال پشاور پہنچ گیا تو ڈاکٹر میرے انتظار میں تھے اور انہوں نے میرے بیٹے کا مفت علاج شروع کیا اور اب بچے کی انگلی کافی حد تک ٹھیک ہورہی ہے۔ 

شہاب الدین نے سیاسی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک چترال میں ایک آرتھوپیڈک سرجن کیوں نہیں ہے اور دروش ہسپتال کا تو خدا ہی حافظ کیونکہ وہاں کئی اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی آسامیاں کافی عرصے سے حالی ہیں مگر سیاسی قیادت نے ابھی تک اس مسئلے کی حل کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ 

انہوں نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ چترال کے ڈومیسائل پر جتنے طلباء و طالبات کو میڈیکل کالج یا ڈنٹل کالجوں میں داحلہ مل کر ڈاکٹر بن جاتے ہیں ان سب کو پابند کرے کہ وہ کم ازکم پانچ سال کیلئے چترال میں خدمات سرانجام دے یا پھر حکومت یہ کوٹہ سسٹم حتم کرے کہ اوپن میرٹ پر داحلہ لے۔

شہاب الدین نے سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ اسمبلی میں ایسی قانون سازی کرے کہ جن ڈاکٹروں نے چترال کی ڈومیسائل استعمال کرکے ان کو چترال کے کوٹہ میں جو ہر سال چھ نشستوں پر داحلہ ملتا ہے ان کی داحلہ اس بات سے مشروط کیا جائے کہ وہ ڈاکٹر بننے کے بعد چترال میں لازمی پانچ سال تک ڈیوٹی کرے جو ڈاکٹر اس شرط کو نہیں مانتا ان کو پھر چترال کے ڈومیسائل پر داحلہ نہ دیا جائے بلکہ اوپن میرٹ پر کوشش کرے مگر مجھے نہیں لگتا کہ ان کو اوپن میرٹ پر داحلہ ملے گا۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں