اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

31 جولائی، 2019

دنیا کی سب بڑی سوشل نیٹ ورک فیس بک نے آن لائن ہراسمنٹ کو کنٹرول کرنے کے نئے طریقے پیش کردیئے

 

دنیا کی سب بڑی سوشل نیٹ ورک فیس بک نے آن لائن ہراسمنٹ کو کنٹرول کرنے کے نئے  طریقے پیش کردیئے


کراچی (ٹائمزآف چترال نیوز 29 جولائی 2019)  فیس بک نے آن لائن ہراسمنٹ کے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے موثر آگہی کے اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ اس سلسلے میں فیس بک کی جانب سے اپنے صارفین کو آن لائن ہراسمنٹ سے نمٹنے کے لئے ضرورت کے مطابق مختلف ٹپس اور مواد کی آسانی سے مانیٹرنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ 

اگر کوئی آپ کو ناپسند ہے، یا اسکے آن لائن ہونے پر آپ اداس یا دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں تو پھر اپنے کسی قریبی شخص بتانا ضروری ہے۔ اس سے آپ کو اپنا مسئلہ حل کرنے میں مدد ملے گی۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو ڈرایا جارہا ہے تو پھر فیس بک کا بلنگ پری ونشن حب (Bullying Prevention Hub) آپ کے لئے مدد گار ثابت ہوگا۔ 

آن لائن ہراسمنٹ مختلف اقسام کی ہوتی ہے، اس کے بہت سے نام ہیں جیسے سائبر بلنگ، ٹرالنگ، فلیمنگ، آؤٹنگ یا جعلی شناخت وغیرہ۔ ہراسمنٹ براہ راست ٹیکسٹ میسج، ای میلز یا پرائیویٹ میسجز، یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کھلے عام ہوسکتی ہے جہاں کوئی نامناسب پوسٹ یا تصویر کسی کے شیئر کرنے کے باعث آپ کی شرم ساری یا آپ کے لئے تکلیف کا باعث ہوسکتی ہے۔ 

ان سب باتوں کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اپنی اور اپنی آن لائن معلومات کے لئے اضافی خیال رکھنے کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ آپ اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ آپ کی وجہ سے کسی دوسرے شخص کو آن لائن تکلیف نہ پہنچے۔ 

سوشل میڈیا پلیٹ فارم اپنے صارفین کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ اپنے حلقہ احباب میں اچھے دوستوں کو رکھیں اور اپنی فرینڈ لسٹ کو باقاعدگی سے چیک کریں تاکہ وہ اپنے دوستوں میں اپنے ذاتی مواد کے ساتھ پرسکون رہیں۔ 

جیسے جیسے آپکی فرینڈ لسٹ بڑھتی ہے تو آپ کو اپنی پرائیویسی سیٹنگز کا جائزہ لینے کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ آپ معلومات کو پرائیویٹ رکھ سکیں تاکہ لوگ آپ کے بارے میں بدستور اچھے طرز عمل جاری رکھیں۔ فیس بک کے پریس نوٹ کے مطابق یہاں موجود لنک (https://www.facebook.com/safety/youth/facebook-basics/safety) میں کچھ طریقے ہیں جن کو مدنظر رکھ کر آپ فیس بک پر چیزیں احتیاط سے شیئر کرسکتے ہیں۔ 

ایسے لوگوں کی فرینڈ ریکویسٹ قبول کریں جنہیں آپ جانتے ہوں، احتیاط سے اس شخص کا جائزہ لیں جو آپ کی دہلیز پر دستک دیتا ہے اور ایسے شخص کو ان فرینڈ کریں جو آپ کو ناپسندیدہ لگتا ہے۔ 

بعض اوقات اپنی ذاتی معلومات مخفی رکھنا ضروری ہوتا ہے جیسے آپ کا ایڈریس یا پھر ایسے مقام کا تفصیلی طور پر ذکر ہو جہاں آپ لطف اندوز ہورہے ہیں تو پھر ایسی معلومات کو مخفی رکھنے کی ضرورت ہے۔ اسی اصول کا اطلاق آپ کے دوستوں پر بھی ہوتا ہے۔ 

فیس بک سختی سے اپنے صارفین کو اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ وہ کسی کے ساتھ بھی اپنا پاس ورڈ شیئر نہ کریں، چاہے وہ آپ کا بچپن کا دوست ہی کیوں نہ ہو۔ اس کا کبھی فائدہ نہیں ہوتا۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ فیس بک کبھی بھی کسی میسج یا ای میل کے ذریعے آپ سے پاس ورڈ نہیں مانگتا۔ 

سوشل میڈیا پلیٹ فارم اپنے صارفین کو تجویز دیتا ہے کہ اگر وہ اس پر بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں تو کچھ وقفہ لے لیں۔ 

فیس بک اپنے صارفین کو یہ بھی مشورہ دیتا ہے کہ فیس بک پر پوسٹ ڈالنے سے قبل اس کا جائزہ لیں کہ کہیں اس سے کسی کے جذبات کو ٹھیس یا کسی کی ساکھ خراب تو نہیں ہورہی۔ 

فیس بک اپنے صارفین کو اس بات کا بھی مشورہ دیتا ہے کہ جب کبھی آپ کے کمنٹس کے ذریعے کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچے تو ان سے معافی مانگ کر معاملہ حل کرلیں۔ 

یہ خبر انگریزی زبان میں پڑھیں



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں