اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

29 جولائی، 2019

آل چترال محفل مشاعرہ، سرزمین ایون میں عنایت اللہ اسیر کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا، ضلع اپر اور لوور چترال کے تمام شعراء شرکت کی اور اپنا اپنا کلام پیش کیا

 

آل چترال محفل مشاعرہ، سرزمین ایون میں عنایت اللہ اسیر کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا،  ضلع اپر اور لوور چترال کے تمام شعراء شرکت کی اور اپنا اپنا کلام پیش کیا


چترال(گل حماد فاروقی) آیون کے مقام پر معروف سماجی کارکن، ادیب و شاعر عنایت اللہ اسیر نے اپنے رہائش گاہ پر اپر اور زیریں چترال دونوں ضلعوں کے تمام شعراء کو اکھٹا کرکے مشاعرے کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر قانون دان عبد الولی ایڈوکیٹ مہمان حصوصی تھے جبکہ تقریب کی صدارت میجر ریٹائرڈ شہزادہ شمس الملک مہمان حصوصی تھے۔ 

مشاعرے کا عنوان تھا چھترارو بوژو مگر چھترالیو مو بوژو۔ یعنی چترال کو دو ضلعوں میں تقسیم ضرور کرو مگر چترالیوں کو مت تقسیم کرو۔ 

مشاعرے میں بروز کے طالب علم نے حافظ خوش ولی خان کا بہت خوبصورت نعت شریف پیش کیا۔ شعراء نے اپنے کلام میں عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ چترال کو تقسیم ہونے سے تم لوگ اپنا محبت، ملنا جلنا اور اپنی روایات برقرار رکھنا۔  بعض شعراء نے موجودہ حکومت کی مہنگائی اور ان کی پالیسیوں کی وجہ سے عوام کی پریشانی کا بھی منظر کشی کی کوشش کی۔ کچھ شعراء نے حکومتی پالیسی کو سراہا بھی۔

بالائی چترال سے آئے ہوئے شعراء نے بھی ترنم کے ساتھ اپنا کلام پیش کرکے حاضرین کو مظوظ کیا۔ بعض شعراء نے اپنے کلام کے ذریعے عوام کو یہ پیغا م دینے کی کوشش کی کہ وہ محنت کرے اور ترقی کے راہ پر گامزن ہو کیونکہ چترال میں زیادہ تر کاروبار باہر سے آئے ہوئے کاروباری لوگوں نے قبضہ کیا ہے۔ ان کے کلام میں زیادہ بمباری پھٹانوں پر ہوئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میجر شمس الملک نے کہا کہ چترال کی مثالی امن کا راز اس کی محصوص ثقافت کو زندہ رکھنا ہے اور یہاں کے علماء، شعراء اور ادباء بھی اس امن کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔ 

مہمان حصوصی نے تمام شعراء پر زور دیا کہ وہ اپنے کلام میں امن، محبت، بھائی چارے اور آشتی کا پیغام نوجوان نسل تک پہنچائے۔ مشاعرے میں چترال میں بڑھتی ہوئی خودکشیوں کی رحجان اور چترال سے باہر بیٹیوں کی شادی پر بھی تنقید کرتے ہوئے اس کی روک تھام کیلئے قدم اٹھانے پر زور دیا۔ 

چند نوجوان شعراء نے نہایت سنجیدہ کلا م پیش کیا اور بعض سینئر شعراء نے مذاحیہ انداز میں شرکاء کو محظوظ کرنے کی کوشش کی۔ 

تقریب کے احتتام پر جو رات دو بجے تک جاری رہی میزبان عنایت اللہ اسیر نے تمام شرکاء، ادباء اور نعت خوانوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے دور دراز سے آکر اس مشاعرے میں حصہ لیکر اپنا کلام پیش کیا۔ 

پروگرام کے آحر میں بہترین شعراء کو ایوارڈ ز بھی دئے گئے۔ 

ان شعراء میں سر فہرست افضل اللہ افضل، صالح ولی آزاد، صادق اللہ صادق، ذاکر محمد زحمی، ظہور الحق دانش، اقبال الدین سحر، نوجوان شاعر سرور سرور، محمد شہزاد، حافظ خوش ولی خان جو بینائی سے معذور ہونے کے باوجود اچھا کلام پیش کیا، محمد اسرار گل داؤدی، فیض الباری بیگان دروش، نواب خان کیلاش وادی بریر، مطیع الرحمان قمبر بمبوریت، صالح نظام ایون، عنایت اللہ سیر ایون، مصبا ح الدین شاہ صبا بروز، چئیرمین شوکت علی چترال، سردار اعظم سردار گرم چشمہ، عبد الولی خان، سید الرحمان سعیدی پرئیت، عبید فلک اوویر، افضل شاہ محجور تورکہو، علاء الدین عرفی تریچ، صفی اللہ آصفی ایون، شہزادہ تنویر الملک ملکہو وغیرہ نے مشاعرے میں حصہ لیا۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں