اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

8 جولائی، 2019

واپڈا کے حلاف اہالیان کوغذی کو جلسہ کرنے سے روک دیا گیا۔ واپڈا میں غیر قانونی بھرتیوں اور ناروا لوڈ شیڈنگ کے حلاف پر امن جلسہ کرنے سے بھی روک دیا گیا۔ عوام کوغذی کا موقف۔

واپڈا کے حلاف اہالیان کوغذی کو جلسہ کرنے سے روک دیا گیا۔ واپڈا میں غیر قانونی بھرتیوں اور ناروا لوڈ شیڈنگ کے حلاف پر امن جلسہ کرنے سے بھی روک دیا گیا۔ عوام کوغذی کا موقف۔



چترال (گل حماد فاروقی) چترال کے مضافاتی علاقے کوغذی کے عوام محکمہ واپڈ ا میں غیر مقامی لوگوں کا درجہ چہارم کے آسامیوں اور ناروا لوڈ شیڈنگ کے حلاف ایک پرامن جلسہ کرنا چاہتے تھے مگر ضلعی انتظامیہ نے ان کو روک دیا۔ 

تفصیلات کے مطابق کوغذی کے عوام نے چند دن پہلے انتظامیہ کو نوٹس دیا تھا کہ وہ جس دن شندور کا میلہ شروع ہوگا اسی دن احتجاج کریں گے اور شندور روڈ پر اپنا احتجاجی بینرز آویزاں کریں گے جہاں سے اہم شحصیات کا گزر نا ہوگا۔ ویلیج کونسل کوغذی کے چئیرمین خورشید حسین مغل ایڈوکیٹ جو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا صدر بھی ہے نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ جس وقت گولین کے مقام پر 107 میگا واٹ بجلی گھر بن رہا تھا اس میں اس علاقے کے مقامی لوگ کافی متاثر ہوئے ان کی زمین، پانی، باغات اور دیگر وسائیل اس بجلی گھر کی ضد میں آگئے تاہم واپڈا حکام نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ درجہ چہارم کے تمام آسامیوں پر مقامی لوگ بھرتی کئے جائیں گے۔ مگر اب پتہ چلا کہ ان کلاس فور نشستوں پر بھی نیچے سے سفارشی لوگ بھرتی ہورہے ہیں جن کے بارے میں نہ تو اخبار میں کوئی اشتہار آیا ہے اور نہ مقامی لوگوں کو مطلع کیا گیا ہے۔ 

پاؤر کمیٹی کے چئیرمین شریف حسین نے کہا کہ پہلے جب کوئی غیر مقامی لوگ بھرتی ہوتے تھے تو ریذیڈنٹ انجنیر مقامی لوگوں کو طبع تسلی بھی دیا کرتا مگر موجودہ RE ریذیڈنٹ انجنئیر نے صاف طور پر ہمارے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کیا۔ مطیع الرحمان ناظم ویلیج کونسل گولین نے کہا کہ ہم نے بار ہا پر امن طور پر مطالبات کئے مگر ہمیشہ ہمارے ساتھ جھوٹا وعدہ کیا گیا اب واپڈا میں ایک بار پھر درجہ چہارم کے پوسٹوں پر غیر مقامی لوگوں کا سفارش کے بنیاد پر بھرتی کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے اور اس کے علاوہ یہاں کے لوگ بھی بجلی سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تربیلہ، ورسک، ملاکنڈ وغیرہ جہاں جہاں بھی بجلی گھر بن چکے ہیں مقامی لوگوں کو مفت یا سستی بجلی دی جارہی ہے یا کم از کم چوبیس گھنٹے بجلی کی ترسیل تو جاری ہے مگر ہمارے ہاں نہ تو مفت یا سستی بجلی ہے اور نہ ہم لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ ہیں۔

عبد الرؤف نے کہا کہ سابقہ وزیر اعظم نے اعلان بھی کیا تھا کہ اب چترال لوڈشیڈنگ سے پاک ضلع ہوگا مگر ان کا وعدہ بھی ایفا نہ ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ گولین کے عوام کیلئے تین کروڑ روپے منظور ہوچکے تھے اس پر بھی ان کیلئے کوئی چھوٹا بجلی گھر نہ بن سکا۔ مقامی صحافی فاروق احمد کا کہنا ہے کہ یہاں کے لوگوں نے ذرعی زمین فراہم کی اور ان کھنبوں سے بھی ان کے مکانات، اور زیر کاشت زمین، باغات بری طرح متاثر ہوئے ہیں مگر اس کے باوجود ان لوگوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسے سلوک ہورہی ہے اور غیر مقامی لوگوں کو بھرتی کیا جاتا ہے حالانکہ یہاں پر کوالیفائڈ لوگ موجود ہیں۔ 

متاثرین نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واپڈا میں مقامی لوگوں کو ترجیحی بنیاد وں پر بھرتی کئے جائے کیونکہ جب سے اس بجلی گھر پر کام شروع ہوچکا ہے اس گاؤں کے سولہ لوگ شہید ہوچکے ہیں اور ڈیم کے پانی سے بھی ہماری زمین کا نقصان ہورہا ہے ہمارے بچے نہر کے کنارے کھڑے نہیں ہوسکتے کیونکہ تیز پانی کی وجہ سے ان کی جان جانے کا حطرہ ہے۔انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ چترال کے عوام کو مفت یا سستی بجلی فراہم کی جائے تاکہ وہ جنگلات کو کم سے کم استعمال کرے اور کھانا پکانے اور گرمائش کیلئے بجلی استعمال کرے واضح رہے کہ اس علاقے میں نہ تو کوئی کارحانہ ہے اور نہ کسی کے گھر یا دفتر میں ائیرکنڈیشنر لگا ہے یہاں کے لوگ صرف بجلی کا بلب اور پنکھا استعمال کرتے ہیں مگر اس کے باوجود ان کو روزانہ پانچ سے چھ گھنٹے بجلی سے محروم رکھا جاتا ہے۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں