اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

9 جولائی، 2019

ڈبلیو ڈبلیو ایف۔ پاکستان کا ملک میں پلاسٹک کے کچرے سے نمٹنے کیلئے کوکا۔کولا فاؤنڈیشن سے اشتراک

 

ڈبلیو ڈبلیو ایف۔ پاکستان کا ملک میں پلاسٹک کے کچرے سے نمٹنے کیلئے کوکا۔کولا فاؤنڈیشن سے اشتراک

کراچی، 4جولائی، 2019۔ عالمی ادارہ ڈبلیو ڈبلیو ایف۔ پاکستان نے دی کوکا۔کولا فاؤنڈیشن کے اشتراک سے پہلی بار کچرے کے تاجروں اور کچرا جمع کرنے والوں کے ساتھ کام کرنے کے لئے باقاعدہ رابطہ کرلیا ہے۔ کوکا۔کولا کمپنی کی پیکیجنگ کا پائیدار ویژن 'Pakistan Without Waste" ' ہے جس کے تحت اہم اسٹیک ہولڈرز کو جامع انداز سے ملا کر کام کیا جائے گا۔ 

اس سلسلے میں ڈبلیو ڈبلیو ایف۔پاکستان پلاسٹک (PET) بوتلوں کے استعمال، جمع اور تلف کرنے کے ساتھ ری سائیکل ہونے والی ان بوتلوں کی تعداد کا جائزہ لے رہی ہے جبکہ پلاسٹک آلودگی کے بارے میں عوامی آگہی کی سطح کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ اس تحقیق کے سلسلے میں فعال اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے رواں ہفتے دو مشاورتی ورکشاپس کراچی اور لاہور میں منعقد ہوئیں جن کا مقصد یہ تھا کہ کچرا چننے والے، کچرے کے ڈیلرز اور ری سائیکلنگ کا کام کرنے والے افراد کے ذریعے اس کام کو آگے بڑھایا جائے اور ری سائیکلنگ کی مہارت میں اضافہ لایا جائے۔ ان ورکشاپس کے انعقاد سے لوگوں اور تعلیمی اداروں میں پلاسٹک آلودگی سے متعلق آگہی بڑھے گی۔ 

کوکا۔کولا پاکستان و افغانستان ریجن کے جنرل منیجر رضوان خان نے کہا، "کوکا۔کولا نے سال 2030 تک اپنی تیار ہونے والی پلاسٹک (PET) کی ہر بوتل کو ری سائیکل کرنے کا پرعزم اور جرات مندانہ اعلان کرکے اس انڈسٹری میں پیش قدمی کی ہے۔ اس وقت اگرچہ اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا بظاہر ناممکن سا لگتا ہے لیکن ہم نے پیکیجنگ سے پیدا ہونے والے کچرے کا ادراک کرکے درست سمت میں پہلا قدم اٹھایا ہے اور اشتراک قائم کرکے اس اہم معاشرتی مسئلہ کے مستقل حل کے لئے کام کررہے ہیں۔ یہ ورکشاپس 9 شہروں میں منعقد کی جائیں گی جو کچرے سے متعلق جائزاتی تحقیق کا حصہ ہیں اور اس میں ہماری موجودہ پالیسیوں اور کام کے دائرہ کار میں چور راستوں کی نشاندہی کی جائے گی۔" 

عالمی سطح پر سمندروں میں سالانہ 8 ملین ٹن پلاسٹک شامل ہورہا ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان جنوب مشرقی ایشیاء میں بھارت کے بعد پلاسٹک کی دوسری بڑی مارکیٹ ہے اور اس میں سالانہ 15 فیصد کی رفتار سے اضافہ ہورہا ہے۔ ورکشاپ میں ڈبلیو ڈبلیو ایف۔ پاکستان کے ڈائریکٹر کلائمٹ، انرجی اور واٹر ڈاکٹر مسعود ارشد نے کہا، "استعمال کے بعد پیکیجنگ سے پیدا ہونے والے کچرے اور اسکی ری سائیکلنگ پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ اس لئے عوامی شعبے، نجی شعبے اور کچرے کے روایتی و غیر روایتی شعبوں میں کام کرنے والے کاروباری اداروں کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ وہ اس اہم مقصد کیلئے اشتراک قائم کرکے مل جل کر کام کریں۔ اس ضمن میں پہلا قدم یہ ہونا چاہئے کہ اس مسئلہ کے دائرہ کار کا جائزہ لیا جائے جس کے لئے ہم پہلے سے ہی تجزیاتی تحقیق کررہے ہیں اور اسے اگست 2019 میں عوام کے سامنے لایا جائے گا۔" 

ڈبلیو ڈبلیو ایف۔ پاکستان کی منیجر انوائرمینٹل اسیسمنٹ / پروجیکٹ لیڈ نزیفہ بٹ نے مہمانوں کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور صحت و پلاسٹک سے پاک سمندروں سے متعلق اپنے خصوصی کام پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر کوکا۔کولا کمپنی کی نمائندہ نتاشہ ہارون نے بھی شرکا کو کوکا۔کولا کے World Without Waste'پروگرام سے آگاہ کیا اور بتایا کہ کمپنی عالمی سطح پر ری سائیکلنگ کا کام کررہی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف۔ پاکستان کی جانب سے ورکشاپ میں شرکاء کے سامنے ہر اسٹیک ہولڈر کے مشاہدات و تجربات اور اسکے کردار کو سامنے لایا گیا۔ کراچی اور لاہور میں منعقدہ ورکشاپس میں ماہرین تعلیم، لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ، گرین ارتھ ری سائیکلنگ، ٹریش مستی، گل باہو، اولیو  ریڈلے پروجیکٹ، گو گرین ویلفیئر اور ری سائیکلنگ کا کام کرنے والے دیگر اداروں کے افراد موجود تھے۔ 

اس اجلاس کا اختتام اس گفتگو پر ہوا کہ اگلے مرحلے میں کچرے کے ڈیلرز اور کچرا چننے والوں سے رابطے قائم کرکے ان کے تحفظات سے آگہی حاصل کی جائے اور قابل عمل کام سرانجام دیا جائے۔ پینل ڈسکشن کے دوران تمام اسٹیک ہولڈرز نے اشتراک کے نکتہ پر اتفاق کیا کہ اگر وسائل فراہم ہوں، پلاسٹک (PET) بوتلوں کی فراہمی جاری رہے، نقل و حمل کی دستیابی کی یقین دہانی ہو، ان کی ذمہ داریاں متعین ہوں اور مینجمنٹ پلان واضح ہو، کچرا چننے سے متاثر افراد کی دیکھ بھال ہو، اور کچرے میں سے پلاسٹک (PET)بوتلوں کو الگ کرکے اسکی ری سائیکلنگ میں اضافہ سے متعلق رویہ میں تبدیلی لائی جائے۔ مباحثے کے دوران شرکاء کی جانب سے شہریوں اور کچرا چننے والے افراد سمیت تمام شعبوں کو شامل کرکے پلاسٹک میں کمی لانے پر اظہار خیال کیا جاتا رہا تاکہ کچرا چننے والوں کو اس کام میں شامل کیا جائے اور انہیں غربت کے دائرے سے باہر نکالا جائے۔ 


پلاسٹک آلودگی کے سدباب کے لئے مختلف اداروں کے درمیان اشتراک قائم کرکے کام کرنے سے متعلق کوکا۔کولا اور ڈبلیو ڈبلیو ایف۔ پاکستان کی جانب سے منعقدہ مشاورتی ورکشاپ میں شرکاء موجود ہیں۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں