اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

30 جولائی، 2019

چترال کے مسافروں کو لوٹنے والے ملزمان کو بروقت گرفتاری اور ان سے مال مسروقہ کی برامدگی پر اہالیان کی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر میاں نصیب جان کو حراج تحسین۔

چترال کے مسافروں کو لوٹنے والے ملزمان کو بروقت گرفتاری اور ان سے مال مسروقہ کی برامدگی پر اہالیان کی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر میاں نصیب جان کو حراج تحسین۔

چترال(گل حماد فاروقی) گزشتہ روز پشاور سے چترال انے والے مسافر گاڑی (فلائنگ کوچ) میں رات کے اندھیرے میں لوٹ کر ان سے خطیر رقم لوٹ کر فرار ہوئے تھے۔ ان مسافروں میں بالائی چترال ترکہو سے تعلق رکھنے والے ایک شحص بیرون ملک سے ارہا تھا جن کے پاس بتایا جاتا بہت بڑی رقم تھی اور وہ بھی سعودی ریال میں ۔ عینی شاہدین کے مطابق جونہی یہ فلاینگ کوچ واڑی کے قریب پہنچ گیا تو ایک سپورٹ کار (غوگئی) میں یہ چور گاڑی سے اگے نکل کے گاڑی کو راستے میں کھڑا کرکے اسے روک دیا۔

ان مسافروں میں ایک ایسا مسافر بھی تھا جو بیرون ملک سے ایا تھا اور اس کے پاس بتایا جاتا ہے کہ بہت بڑی رقم تھی اور یوں لگتا ہے کہ اس پر کسی نے ان چوروں کو اطلاع دی تھی اور ان کو پہلے سے سی ڈی ہوئی تھی۔ان مسافروں کو لوٹنے کے بعد انہوں نے متعلقہ تھانہ میں رپورٹ درج کیا مگر مسافروں نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ جہاں چوروں نے یہ واردات کی وہ جگہہ پولیس اسٹیشن کے بالکل قریب ہے۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوتا ہے کہ عوام میں جو یہ تاثر پایا جاتاہے کہ اکثر چور، ڈاکو، مجرموں کے ساتھ پولیس ملا ہوتا ہے یہ تاثر بھی صحیح نکلتا ہے کیونکہ اتنے کم فاصلے پر یہ مجرمان اتنی دیدہ دلیری کے ساتھ کیسے مین شاہراہ پر یہ واردات کرسکتے یں۔ اللہ بھلا کرے ڈسٹرکٹ پولیس افیسر میاں نصیب جان کا جنہوں نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے اپنے پولیس پر بھی بھروسہ نہیں کی اور خود اس تفتیش کی نگرانی کرکے رات کے تاریکی میں نکلا جنہوں نے ملزمان کو گرفتار کرکے ان سے مال مسروقہ بھی برامد کیا اور ان سے اسلحہ بھی برامید کیا۔

ڈی پی او دیر بالا میاں نصیب جان سے ہمارے نمائیندے نے خود فون پر بات کرے تفصیل مانگی جنہوں نے تصدیق کرلی کہ وہ خود اس کیس کی نگرانی کررہے تھے اور بہت جلد اس کے اضل مجرمان تک پہنچ جائیں گے جبکہ بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے نہ صرف ملزمان کو پکڑ لیا بلکہ ان سے مال مسروقہ اور اسلحہ بھی برۤمد کیا۔ 

ڈی پی او دیر نے ہمارے نمائندے کو واٹس اپ پر جو تفصیل بھیجا ہے اس کے مطابق ڈرائیور فیض الرحمان ولد سید گل سکنہ جغور گاڑی نمبر 1163 چلا رہا تھا۔ ان مسافروں میں پیر صاحب ولد زاروات خان سے پندرہ ہزار روپے، حمید الرحمان ولد گلا ب خان سکنہ لون چترال سے تیرہ سو روپے، بلبل دیان ولد گل اباد سکنہ موڑکہو سے پندرہ ہزار روپے، غلام نبی ولد مہربان سکنہ مداک سے پانچ ہزار، سکندر خان ولد عزیز الرحمان سے پینتالیس ہزار، شیر گلا ب خان ولد شیر سکنہ تریچ سے انچاس ہزار، عبد اللہ ولد غلام محمد سکنہ دونگاع سے اٹھ ہزار محمد علی ولد مومین شاہ زرگراندہ سے ستاون ہزار روپے چھینے تھے۔

ملزمان ن اس واردات کیئے غواگئے گاڑی نمبر 0556بجوڑ استعمال کیا تھا جو بیبیوڑ کے مقام پر یہ واردات کرکے فرار ہوئے تھے۔ 

دیر سے ہمارے نمائندے کے مطابق پولیس کی بروقت اور جدید زاویوں پر کاروائی چترال جانے والی فلائنگ کوچ کے مسافروں کو لٹنے والے جملہ ملزمان واقعہ میں استعمال کئے گئے اسلحہ سمیت گرفتار۔۔۔چھینا گیا سامان برآمد۔۔۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسردیربالا میاں نصیب جان کی ہدایات پر زیرنگرانی ظفرخان ایس ڈی پی او سرکل واڑی اسپیشل ٹیم نے کاروائی کرتے ہوئےرات چترال جانے والی مسافر فلائنگ کوچ کو لٹنے والا ملزمان واردات میں استعمال شدہ آسلحہ سمیت گرفتار کرکے نقدی،کارڈز اور موبائلزفونز برآمد کئے۔۔

مورخہ 26/07/2019 کے شب ملزمان( 1) سعیداللہ ولد سلطان (2)آمجد علی ولد گل ولی( 3) محمدزیب ولد آفضل خان( 4) کاشف علی ولد دوست محمد خان ساکنان بی بیوڑ(5) فتح اللہ عرف فتو ولد محمداللہ ساکن واڑی نے آسلحہ کے نوک پر فلائنگ کے مسافروں سے سامان اور نقدی چھین کر فرار ہوئے۔پولیس نے مقدمہ علت 130 مورخہ 26/07/2018 جرم 392/34 PPC تھانہ گندیگار درج کرکے نامعلوم ملزمان کے خلاف تفتیش شروع کرکے جو بعد ازاں مورخہ 28/07/2019 کو اللہ کی فضل وکرم سے ملزمان گرفتار ہوکر آسلحہ ،لیا گیا سامان برآمد ہوئی اور ملزمان نے اعتراف جرم بھی کرلیا۔مذید تفصیل کے بابت ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر دیر بالا میاں نصیب جان نے پریس کانفرنس پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو تفصیلات بتائی۔

چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر نے ڈی پی او دیر کے اس اقدام کو نہایت سراہا اور انسپکٹر جنرل ۤاف پولیس سے مطالبہ کیا کہ نہ صرف میاں نصیب جان کو ترقی دے بلکہ ضلع اپر دیر اور لور دیر کے حدود میں پولیس کو پابند کرے کہ وہ باقاعدگی سے رات کو بھی گشت کرے اور ان ملزمان پر کھری نظر رکھے۔ 

نیز عوام نے ڈی پی او دیر سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جس تھانہ کی حدود میں یہ واردات ہوئی اس کی ایس ایچ او کو معزول کرے ان کو بھی سزا دلوادے تاکہ ائندہ اس قسم کے واقعات رونما نہ ہو اور عوام کے ذہن میں شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں کہ اکثر ان چور، ڈاکوں اور ملزمان کے ساتھ مقامی پولیس ملا ہوتا ہے کیونکہ پولیس کی چشم پوشی، تعاون اور مجرمانہ غفلت کے بغیر یہ ممکن نہیں کہ ان کے حدود میں چور اتنی دلیری سے مین روڈ پر واردات کرے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں