اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

18 جولائی، 2019

ہائی بلڈ پریشرمیں ادویات سے بہتر ایک اور چیز چیری کا جوس ہے: جو عموماً دستیاب ہوتا ہے: ماہرین کی تحقیق

 

ہائی بلڈ پریشرمیں ادویات سے بہتر ایک اور چیز چیری کا جوس ہے: جو عموماً دستیاب ہوتا ہے:  ماہرین کی تحقیق



کراچی(این این آئی) ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بلڈ پریشر کے شکار افراد کے لئے کئی گنا بہتر ہے کہ وہ ادویات کے بجائے چیری کا جوس استعمال کریں۔برطانیہ کی نارتھ امبیریا یونیورسٹی نے ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں پر تحقیق کی جس میں یہ بات سامنے آئی کہ بلند فشار خون میں ادویات لینے سے بہتر ہے کہ 60ملی لیٹر چیری کا جوس پی لیا جائے، محققین کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کی صورت میں اگر 60ملی لیٹرتک چیری کا جوس پی لیا جائے تو 3 گھنٹے میں بلڈ پریشر7فیصد تک کم ہوسکتا ہے اوریہ فالج کے حملے کے خدشے کو روکنے کےلئے 38فیصد اور دل کے امراض کو 23فیصد تک کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ 

تحقیق کے دوران 15ایسے افراد کا بلڈ پریشر جانچا گیا جنہیں ابتدائی طور پر ہائی بلڈ پریشر کا سامنا تھا تاہم ان میں سے بعض کو چیری کا 60ملی لیٹر جوس پلایا گیا جب کہ دیگر افراد کو پلاسیبو(ایک بے ضرر مادہ جو دوائی کے طور پر دیا جاتا ہے) دیا گیا۔ تحقیق کے دوران اخذ کیا گیا کہ ایسے افراد جنہیں چیری کا جوس پلایا گیا ان کے بلڈ پریشر میں 7 فیصد تک کمی واقع ہوئی تاہم دیگر افراد میں بلڈ پریشر میں خاطرخواہ کمی نہ آسکی۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بلند فشار خون(ہائی بلڈ پریشر)سے دل کی دھڑکن بند ہونے کے علاوہ کڈنی کے عارضہ، فالج اور شیزوفرینیا جیسے امراض لاحق ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں