اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

3 جولائی، 2019

فیس بک نے صحت، فٹنس اور غذائیت سے متعلق مبالغہ آمیز اور سنسنی خیز مواد بلاک کرنا شروع کردیا

 

فیس بک نے صحت، فٹنس اور غذائیت سے متعلق مبالغہ آمیز اور سنسنی خیز مواد بلاک کرنا شروع کردیا


کراچی:  سماجی رابطے کی مشہور ویب سائٹ فیس بک نے صحت سے متعلق مبالغہ آمیز اور سنسنی خیز مواد کا نوٹس لے کر اسکی روک تھام کے لئے کام شروع کیا ہے۔ لوگ فیس بک پر غذائیت، فٹنس اور صحت کے موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں اور ہر طرح کی معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں،  تاہم لوگوں کو صحت کی درست معلومات پہنچانے اور بوقت ضرورت ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہے تاکہ فیس بک پر صحت سے متعلق سنسنی خیز اور گمراہ کن مواد میں کمی لائی جائے۔ 

اس ضمن میں فیس بک نے نیوز فیڈ میں مستند معلومات کو بہتر بنانے کے لئے کام کا آغاز کیا ہے۔ جس طرح لوگ متن سے متاثر ہوتے ہیں، فیس بک ان کی درجہ بندی کی تبدیلیوں کی بنیاد پر مجموعی جائزہ لیتا ہے۔ فیس بک اس بات سے واقف ہے کہ سنسی خیز یا غیرمتعلقہ اور گمراہ کن مواد اسکی کمیونٹی کے لئے خاص طور پر منفی نتائج کا حامل ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ ماہ فیس بک نے دو رینکنگ اپ ڈیٹس متعارف کرائیں جو سنسنسی خیز یا مغالطہ آمیز صحت کے دعوؤں والی پوسٹس اور صحت سے متعلق خدمات یا مصنوعات کی فروخت کی بنیاد پر دعوے والی پوسٹس میں کمی سے متعلق ہیں۔  

پہلی اپ ڈیٹ میں فیس بک اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ کیا پوسٹ صحت سے متعلق مبالغہ یا گمراہ کن مواد پر مبنی ہے۔ مثال کے طور پر سنسی خیز دعویٰ کرنا کہ یہ علاج گویا معجزہ ہے۔ 
دوسری اپ ڈیٹ میں فیس بک اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ کسی پروڈکٹ یا سروس کی بنیاد پر صحت سے متعلق دعویٰ کیا گیا ہو جیسے کسی علاج یا کسی گولی کے کھانے سے وزن کم کرنے کے دعوے وغیرہ۔ 

فیس بک نے یہ معاملہ اسی طرح سے نمٹا ہے جس طرح وہ پہلے کلک بیٹ جیسے غیرمعیاری مواد میں کمی لاچکا ہے۔ اس طرح کی پوسٹس میں نہایت عام استعمال الفاظ کی نشاندہی کی جاتی ہے جن میں پر صحت یا صحت سے منسلک مصنوعات کے فروغ کے لئے سنسنی خیز دعوے ہوتے ہیں، وہ پھر نیوز فیڈ کی درجہ بندی میں نیچے ظاہر ہوتی ہیں۔ 

فیس بک صحت پر غیرمعیاری مواد میں کمی لانے کے لئے کام جاری رکھے گا۔ 

فیس بک کو امید ہے کہ اس اپ ڈیٹ کے نتیجے میں بیشتر پیجز کی نیوز فیڈ میں نمایاں تبدیلیاں نظر نہیں آئیں گی۔ 

صحت سے متعلق سنسنی خیز معلومات یا دعوؤں جیسی پوسٹس یا صحت سے متعلق منفرد دعوؤں والی پوسٹس کی ڈسٹری بیوشن میں کمی لائی جائے گی۔ فیس بک کے پیجز ایسی پوسٹس سے اجتناب کریں جو صحت سے متعلق مصنوعات کی فروخت کیلئے لوگوں کو مبالغے میں ڈالے یا انہیں گمراہ کرے۔ اگر کوئی اس طرح کی پوسٹس ڈالنا بند کرتا ہے تو اس تبدیلی سے ان پیجز کی پوسٹس متاثر نہیں ہوں گی۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں