اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

9 اگست، 2019

پاکستان : بے نامی اثاثوں کا سراغ لگانے کے لئے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم، کمیٹی میں گریڈ 18 سے 19 کے افسران شامل

 

پاکستان : بے نامی اثاثوں کا سراغ لگانے کے لئے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم، کمیٹی میں گریڈ 18 سے 19 کے افسران شامل



اسلام آباد (آئی این پی)حکومت نے بے نامی اثاثوں کی معلومات کے لئے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کردی۔ نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی کابینہ نے 6 رکنی بے نامی انفارمیشن کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دیدی جو جے آئی ٹی کی طرز پر بنائی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کمیٹی بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ 2017کے تحت عمل میں لائی گئی جس میں آئی بی، آئی ایس آئی، ایف آئی اے، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کے گریڈ 18 اور 19 کے افسران کو شامل کیا گیا ہے جو اپنے دفاتر میں رہ کر کام کریں گے جبکہ نیشنل کوآرڈی نیٹر نوشین جاوید امجد کمیٹی کی سربراہ ہوں گی۔ کمیٹی بے نامی اثاثوں کی معلومات اکٹھی کرکے متعلقہ حکام کو فراہم کرے گی۔ذرائع نے بتایا کہ کمیٹی بے نامی قوانین پر عملدرآمد کے عمل کو تیز کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی اور حکام کی کارکردگی کو موثر بنانے میں بھی سہولت کاری کرے گی۔

کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی ممبران اپنے دفاتر میں رہ کر کام کریں گے جبکہ کمیٹی کی چیئرمین ضرورت پڑنے پر بے نامی انفارمیشن پروسیسنگ کمیٹی کا اجلاس بلائیں گی۔ بے نامی انفارمیشن پروسیسنگ کمیٹی کے قیام کے لیے ریونیو ڈویژن کی جانب سے وفاقی کابینہ کو سمری بھیجی گئی تھی جو وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر منظور کرلی۔ سمری کے مطابق ملک میں بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ 2017 فروری 2017 سے نافذ ہے۔ 

ریونیو ڈویژن نے 11 مارچ 2019 کو بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ کے رولز کا نوٹیفکیشن جاری کیا اور سرکاری امور کے لیے افسران بھی مقرر کیے۔ سمری میں کہا گیا ہے کہ بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ کے سیکشن 55 کے تحت حساس اور ریاستی اداروں کے نمائندوں پر ایک ایسی کمیٹی کے قیام کی ضرورت ہے جو بے نامی قوانین کے تحت ہونے والی کارروائی کے عمل کو تیز کرنے اور حکام کو سہولت فراہم میں مددگار ہو۔وفاقی کابینہ نے سمری کے پیرا ٹو کے مطابق بے نامی انفارمیشن پروسیسنگ کمیٹی کے قیام کی منظوری دے دی۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں